🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. ما يستحب أن (يدعو) به إذا أصبح؟
وہ دعا جو دعا صبح کے وقت مانگنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29889 ترقیم الشثری: -- 31247
٣١٢٤٧ - حدثنا الفضل بن دكين حدثنا عبادة بن مسلم الفزاري حدثنا جبير بن ابي (سليمان) (١) بن جبير بن مطعم زعم انه كان جالسا مع عبد الله بن عمر فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول في دعائه (حين يمسي وحين يصبح) (٢) لم يدعه حتى فارق الدنيا او حتى مات:"اللهم إني اسالك العافية في الدنيا والآخرة، اللهم إني اسالك العفو والعافية في ديني ودنياي واهلي ومالي، (اللهم) (٣) استر (عوراتي) (٤) وآمن روعاتي، اللهم احفظني من بين يدي ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي، واعوذ ⦗١٥٤⦘ بعظمتك ان اغتال من تحتي" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (سلمان).
(٢) في [أ، ط]: (حين يصبح وحين يمسي).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) في [ز]: (عورتي).
(٥) صحيح؛ أخرجه أحمد (٤٧٨٥)، وأبو داود (٥٠٧٤)، وابن ماجه (٣٨٧١)، والنسائي ٨/ ٢٨٢، وابن حبان (٩٦١)، والحاكم ١/ ٥١٧، والبخاري في الأدب المفرد (١٢٠٠)، والطبراني (١٣٢٩٦)، وعبد بن حميد (٨٣٧).

حضرت جبیر بن أبی سلیمان فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا تھا تو آپ نے فرمایا: میں سنتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح و شام یہ دعا فرمایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دعا کو نہیں چھوڑا یہاں تک کہ دنیا چھوڑ گئے یا یوں فرمایا: یہاں تک کہ وصال فرما گئے: اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے اہل اور اپنے مال میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میری پردہ داری فرما، اور میری گھبراہٹ کو بےخوفی و اطمینان سے بدل، اے اللہ! میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے، میری دائیں طرف سے، اور میری بائیں طرف سے اور میرے اوپر سے میری حفاظت کر، اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ اچانک اپنے نیچے سے ہلاک کیا جاؤں۔ حضرت جبیر فرماتے ہیں: اس کا مطلب ہے دھنسنا، اور میں نہیں جانتا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد ہے یا جُبیر کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31247]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31247، ترقيم محمد عوامة 29889)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 31247 in Urdu