مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
44. ما كان يدعو به النبي ﷺ؟
اس دعا کا بیان جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مانگا کرتے تھے
ترقیم عوامۃ: 30014 ترقیم الشثری: -- 31373
٣١٣٧٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن إسماعيل بن عبد الملك عن علي بن (ربيعة) (١) قال: حملني علي خلفه ثم سار (في) (٢) جانب الحرة ثم رفع راسه إلى السماء فقال: اللهم اغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب احد غيرك، ثم التفت إلى فضحك، (قلت) (٣) : يا امير المؤمنين استغفارك ربك والتفاتك إلي تضحك؟ قال: (حملني) (٤) رسول الله ﷺ خلفه ثم سار بي (في) (٥) جانب الحرة ثم رفع راسه إلى السماء فقال:"اللهم اغفر لي ذنوبي، إنه لا يغفر الذنوب احد غيرك"، ثم التفت إلي فضحك، فقلت: يا رسول الله، استغفارك (ربك) (٦) والتفاتك إلي تضحك؟ ⦗٢٠٤⦘ قال:" (ضحكت) (٧) لضحك ربي لعجبه لعبده انه يعلم انه لا يغفر الذنوب احد غيره" (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ورد في [ط]: (بيعة).
(٢) في [هـ]: (بي إلى)، وعند الطبراني والبزار (في جبانة الكوفة).
(٣) في [ك]: (فقلت)، وفي [جـ]: (غير واضحة).
(٤) في [ك]: (جعلني).
(٥) في [هـ]: (إلى).
(٦) في [ط]: سقط.
(٧) في [ط]: (فضحكت).
(٨) ضعيف؛ لضعف إسماعيل بن عبد الملك، أخرجه الطبراني في الدعاء (٧٧٧)، والبزار (٧٧١)، والحاكم ٢/ ٩٨، والبيهقي في الأسماء (٩٨٠)، ونحوه أحمد (٧٥٣)، وأبو داود (٢٦٠٢)، والترمذي (٣٤٤٦)، والنسائي (٨٨٠٠)، وابن حبان (٢٦٩٧)، وعبد بن حميد (٨٨)، وأبو يعلى (٥٨٦)، والبيهقي ٥/ ٢٥.
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ربیعہ ارشاد فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین نے مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا پھر حرہ مقام کی جانب چلنے لگے پھر اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا اور یہ دعا پڑھی: میرے گناہوں کی بخشش فرما: بیشک تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کی بخشش نہیں کرسکتا۔ پھر وہ میری طرف متوجہ ہو کر ہنسنے لگے۔ اس پر میں نے کہا، اے امیر المؤمنین! آپ نے اپنے رب سے گناہوں کی بخشش طلب کی اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر ہنسنے کیوں لگے؟ تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا۔ پھر مجھے لے کر حرہ مقام کی جانب چلنے لگے۔ پھر اسی طرح اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور یہ دعا فرمائی۔ اے اللہ! میرے گناہوں کی مغفرت فرما۔ بیشک آپ کے سوا کوئی بھی گناہوں کی بخشش نہیں کرسکتا۔ پھر میری طرف متوجہ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسنے لگے۔ اس پر میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ نے اپنے رب سے بخشش طلب کی۔ اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر ہنسنے کیوں لگے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛ میں مسکرایا اپنے رب کے مسکرانے کی وجہ سے کہ اللہ اپنے بندے پر تعجب کرتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی مغفرت نہیں کرسکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31373]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31373، ترقيم محمد عوامة 30014)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 31373 in Urdu