مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
44. ما كان يدعو به النبي ﷺ؟
اس دعا کا بیان جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مانگا کرتے تھے
ترقیم عوامۃ: 30003 ترقیم الشثری: -- 31362
٣١٣٦٢ - حدثنا وكيع حدثنا سفيان قال: حدثني عمرو بن مرة عن عبد الله بن الحارث المكتب عن (طليق) (١) بن قيس الحنفي عن ابن عباس ان النبي ﷺ كان يقول في دعائه:"رب (اعني) (٢) ولا تعن علي، وانصرني ولا تنصر علي، وامكر لي ولا تمكر علي، واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى علي، رب اجعلني (لك) (٣) شكارا، لك ذكارا، لك رهابا، لك مطيعا، إليك مخبتا، إليك اواها منيبا، رب تقبل توبتي، واغسل حوبتي، واجب دعوتي، واهد قلبي، وثبت حجتي، (وسدد) (٤) لساني، (واسلل) (٥) (سخيمة) (٦) قلبي" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط]: (طلق).
(٢) في [ط]: (عن).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [ك]: (شدد).
(٥) في [جـ، ط]: (واسلك)، وفي [ب]: (وأسألك).
(٦) في [جـ]: (سقمة).
(٧) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٩٩٧)، وأبو داود (١٥١١)، وابن ماجه (٣٨٣٥)، والترمذي (٣٥٥١)، وابن حبان (٩٤٧)، والبخاري في الأدب المفرد (٦٦٥)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (٦٠٧)، وابن أبي عاصم في السنة (٣٨٤)، وعبد بن حميد (٧١٧)، والحاكم ١/ ٥١٩، والطبراني في الدعاء (١٤١١)، والبغوي (١٣٧٥).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دعا میں یہ کلمات پڑھا کرتے تھے: اے میرے رب! میری مدد فرما، اور میرے خلاف مدد مت فرما، اور میری نصرت فرما اور میرے خلاف نصرت مت فرما۔ اور میرے حق میں تدبیر فرما اور میرے خلاف تدبیر مت فرما۔ اور مجھے ہدایت عطا فرما۔ اور ہدایت کو میرے لیے آسان فرما۔ اور میری نصرت فرما اس شخص کے خلاف جو مجھ پر سرکشی کرے۔ اے میرے رب! تو مجھے بنا دے اپنی ذات کا بہت شکر ادا کرنے والا، اور بہت ذکر کرنے والا تیری ذات کا، اور تجھ سے بہت ڈرنے والا، اور اپنا فرمانبردار اپنی طرف عاجزی و انکساری کرنے والا، اپنی طرف دعا کرنے والا اور رجوع کرنے والا، اے میرے رب! میری توبہ کو قبول فرما۔ اور میرے گناہوں کو دھو دے، اور میری دعاکو قبول فرما۔ اور میرے دل کو ہدایت عطا فرما، اور میری دلیل کو مضبوط فرما دے۔ اور میری زبان کو سیدھا کر دے۔ اور میرے دل کے کینہ و بغض کو ختم فرما دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31362]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31362، ترقيم محمد عوامة 30003)
ترقیم عوامۃ: 30004 ترقیم الشثری: -- 31363
٣١٣٦٣ - حدثنا (معتمر) (١) بن سليمان عن عباد بن عباد عن ابي مجلز عن ابي موسى قال: اتيت النبي ﷺ بوضوء فتوضا وصلى ثم قال:"اللهم اغفر لي ذنبي ⦗٢٠٠⦘ ووسع لي في (داري) (٢) وبارك لي في رزقي" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (معمر).
(٢) في [ك]: (رأي).
(٣) منقطع؛ أبو مجلز لم يسمع من أبي موسى، أخرجه أحمد وابنه (١٩٥٧٤)، وأبو يعلى (٧٢٧٣) ثلاثتهم من طريق المؤلف كما أخرجه النسائي في عمل اليوم والليلة (٨٠)، وابن السني (٢٨)، والطبراني في الدعاء (٦٥٦).
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ میں وضو کا پانی لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو فرمایا اور نماز ادا فرمائی۔ پھر فرمایا: اے اللہ! میرے گناہوں کی بخشش فرما۔ اور میرے گھر میں وسعت عطا فرما، اور میرے لیے میرے رزق میں برکت عطا فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31363]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31363، ترقيم محمد عوامة 30004)
ترقیم عوامۃ: 30005 ترقیم الشثری: -- 31364
٣١٣٦٤ - (١) حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي عن شريك عن ابي إسحاق عن ابي بردة عن ابي موسى قال: كان النبي ﷺ يدعو بهؤلاء الدعوات:"اللهم اغفر لي خطيئتي وجهلي وإسرافي في امري وما انت اعلم به مني، اللهم اغفر لي جدي وهزلي وخطاي و (عمدي) (٢) وكل ذلك عندي" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: زيادة (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) في [ط]: (عهدي).
(٣) حسن؛ شريك صدوق، أخرجه البخاري (٦٣٩٨)، ومسلم (٢٧١٩).
حضرت ابو موسیٰ نے ارشاد فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا مانگا کرتے تھے: اے اللہ! میری غلطی کو معاف فرما۔ اور میری لا علمی بھی، اور میرے معاملہ میں بےاعتدالی کو بھی، جس کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، اے اللہ میری سنجیدگی اور میرے مذاق کو معاف فرما۔ اور میری جان بوجھ کر ہونے والی غلطیوں کو اور بھول کر ہونے والی غلطیوں کو بھی معاف فرما۔ اور یہ سب چیزیں میری طرف سے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31364]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31364، ترقيم محمد عوامة 30005)
ترقیم عوامۃ: 30006 ترقیم الشثری: -- 31365
٣١٣٦٥ - حدثنا عبد الله بن نمير عن موسى بن عبيدة عن محمد بن ثابت عن ابي هريرة قال: كان النبي ﷺ يقول:"اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما والحمد لله على كل (حال) (١) واعوذ (٢) من عذاب النار" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (مال).
(٢) في [ط، هـ]: زيادة (بك).
(٣) موسى ضعيف، ومحمد بن ثابت جهله غير واحد، أخرجه الترمذي (٣٥٩٩)، وابن ماجه (٣٨٠٤)، وعبد بن حميد (١٤١٩)، وابن عدي ٦/ ٣٣٥، والبيهقي في الشعب (٤٣٧٦)، والطبراني في الدعاء (١٤٠٤).
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں دعا مانگا کرتے تھے: اے اللہ! جو کچھ تو نے مجھے سکھایا ہے اس سے مجھے نفع عطا فرما۔ اور مجھے وہ چیز سکھا دے جو مجھے فائدہ پہنچائے۔ اور میرے علم میں اضافہ فرما۔ اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے ہر حال میں۔ اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31365]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31365، ترقيم محمد عوامة 30006)
ترقیم عوامۃ: 30007 ترقیم الشثری: -- 31366
٣١٣٦٦ - حدثنا الحسن بن موسى ثنا حماد بن سلمة عن سعيد الجريري عن ابي العلاء عن عثمان بن ابي العاص وامراة من قيس انهما سمعا النبي ﷺ قال ⦗٢٠١⦘ احدهما: سمعته يقول:"اللهم اغفر لي ذنبي وخطاياي وعمدي"، وقال الآخر: سمعته يقول:"اللهم (إني) (١) استهديك لارشد امري، واعوذ بك من شر نفسي" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك].
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٧٩٠٥)، وابن حبان (٩٠١)، والطبراني (٨٣٦٩)، والبيهقي في الدعوات (١٨٩)، ورواية حماد عن الجريري قبل اختلاطه.
حضرت عثمان بن أبی العاص اور قبیلہ قیس کی عورت سے مروی ہے، ان دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سُنا ہے، ان میں سے ایک نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ! میرے گناہوں کی مغفرت فرما اور میرے بھول کر اور جان بوجھ کر کیے جانے والے گناہوں کی بھی مغفرت فرما۔ اور دوسرے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے۔ اے اللہ! میں تجھ ہی سے اپنے درست معاملہ کے لیے ہدایت طلب کرتا ہوں۔ اور میں تیری ہی پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کے شر سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31366]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31366، ترقيم محمد عوامة 30007)
ترقیم عوامۃ: 30008 ترقیم الشثری: -- 31367
٣١٣٦٧ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر حدثنا محمد بن عبد الرحمن عن ابي (رشدين) (١) عن ابن عباس عن جويرية قالت: مر بها رسول الله ﷺ صلاة الغداة او بعد ما صلى الغداة وهي تذكر الله فرجع حين ارتفع النهار -او قال: انتصف النهار- وهي كذلك فقال:"لقد قلت منذ قمت (عليك) (٢) اربع كلمات ثلاث مرات هي اكثر (و) (٣) ارجح -او اوزن- مما قلت، سبحان الله عدد خلقه (٤) ، سبحان الله زنة عرشه، سبحان الله مداد كلماته" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط]: (راشد).
(٢) في [هـ]: (عنك).
(٣) في [جـ، ك]: (أو).
(٤) زاد في [هـ]: (سبحان اللَّه رضى نفسه)، آخذًا من المصادر الأخرى.
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧٢٦)، وأحمد (٢٦٧٥٨).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت ام المؤمنین حضرت جویریہ نے ارشاد فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے صبح کی نماز کے وقت یا صبح کی نماز پڑھنے کے بعد اس حال میں کہ میں اللہ کا ذکر کر رہی تھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹے جب دن نکل آیا، یا یوں فرمایا: جب نصف دن گزر گیا اور آپ اسی حالت میں تھیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میں تمہارے پاس سے اٹھا تو میں نے چار کلمات تین مرتبہ پڑھے جو ثواب میں بہت زیادہ اور راجح ہیں یا یوں فرمایا؛ وہ وزن میں بہت بھاری ہیں اس سے جو کلمات تم نے پڑھے۔ اور وہ یہ ہیں: اللہ کی پاکی ہے اس کی مخلوق کی تعداد کے بقدر، اللہ کی پاکی ہے اس کی خوشنودی کے لیے، اللہ ہی کی پاکی ہے اس کے عرش کے وزن کے بقدر، اللہ کی پاکی ہے اس کے کلمات کی روشنائی کے بقدر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31367]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31367، ترقيم محمد عوامة 30008)
ترقیم عوامۃ: 30009 ترقیم الشثری: -- 31368
٣١٣٦٨ - حدثنا عبيدة بن حميد عن حميد عن الحسن البصري قال: كان يقول: كان النبي ﷺ (يدعو) (١) :"اللهم اغفر لي اللهم ارحمني اللهم اهدني اللهم سددني اللهم عافني اللهم ارزقني" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (يقول).
(٢) مرسل؛ الحسن تابعي.
حضرت حسن بصری سے مروی ہے وہ فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! میری مغفرت فرما! اے اللہ! مجھ پر رحم فرما۔ اے اللہ! مجھے ہدایت عطا فرما۔ اے اللہ! تو مجھے سیدھا راستہ دکھا دے۔ اے اللہ! تو مجھے عافیت بخش دے۔ اے اللہ! تو مجھے رزق عطا فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31368]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31368، ترقيم محمد عوامة 30009)
ترقیم عوامۃ: 30010 ترقیم الشثری: -- 31369
٣١٣٦٩ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر (عن) (١) حبيب بن ابي ثابت عن رجل عن سعيد بن جبير ان النبي ﷺ قال:"اللهم ارزقنا من فضلك ولا تحرمنا رزقك، وبارك لنا فيما رزقتنا، واجعل رغبتنا فيما عندك، واجعل غنانا في انفسنا" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (بن).
(٢) مجهول مرسل، لإبهام الرجل، وسعيد تابعي، وأخرجه أبو نعيم في الحلية ٥/ ٦٦ و ٧/ ٢٣٥ متصلًا من حديث ابن عباس.
حضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! اپنے فضل سے ہمیں رزق عطا فرما۔ اور ہمیں اپنے رزق سے محروم مت فرما۔ اور جو رزق تو نے ہمیں عطا فرمایا ہے اس میں ہمیں برکت عطا فرما۔ اور ہمیں شوق عطا فرما اس چیز میں جو تیرے پاس ہے۔ اور ہمارے نفوس میں بےنیازی کو رکھ دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31369]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31369، ترقيم محمد عوامة 30010)
ترقیم عوامۃ: 30011 ترقیم الشثری: -- 31370
٣١٣٧٠ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر عن ابي مصعب عن علي بن حسين وغيره (قالا) (١) : كان رسول الله ﷺ يقول:"اللهم اقلني عثرتي، واستر عورتي، وآمن روعتي، واكفني من بغى علي، وانصرني ممن ظلمني، وارني ثاري فيه" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (قالا).
(٢) مرسل، علي بن حسين تابعي.
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین وغیرہ حضرات فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں دعا کرتے تھے: اے اللہ! میری لغزشوں کو زائل فرما۔ اور میرے ستر کو چھپا دے۔ اور میرے خوف کو امن سے بدل دے۔ اور میری کفایت فرما۔ اس شخص کے مقابلہ میں جو مجھ پر سرکشی کرے۔ اور میری مدد فرما اس سے جو مجھ پر ظلم کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31370]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31370، ترقيم محمد عوامة 30011)
ترقیم عوامۃ: 30012 ترقیم الشثری: -- 31371
٣١٣٧١ - حدثنا الفضل بن دكين حدثنا عبد الله بن عامر عن (سهيل) (١) عن ابيه عن ابي هريرة عن النبي ﷺ انه كان يقول:"اللهم إني اسالك بانك الاول فلا شيء قبلك، والآخر فلا شيء بعدك، والظاهر فلا شيء فوقك، والباطن فلا شيء دونك، ان تقضي عنا الدين وان تغنينا من الفقر" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (إسماعيل).
(٢) ضعيف؛ عبد اللَّه بن عامر ضعيف، أخرجه ابن عبد البر في التمهيد ٢٤/ ٥١، وأصل الحديث أخرجه مسلم (٢٧١٣)، وأحمد (١٠٩٢٤).
حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں دعا کرتے تھے: اے اللہ! میں آپ ہی سے سوال کرتا ہوں کیونکہ آپ ہی سب سے پہلے ہیں آپ سے پہلے کوئی چیز نہیں، اور آپ سب سے بعد میں ہیں پس آپ کے بعد کوئی چیز نہیں ہے اور آپ ہی ظاہر و آشکارا ہیں آپ کے اوپر کوئی چیز نہیں ہے اور آپ ہی پوشیدہ و پنہاں ہیں آپ کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے۔ کہ آپ ہمارے قرض کو ادا فرما دیجیے۔ اور آپ ہمیں محتاجی سے بےنیاز کردیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31371]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31371، ترقيم محمد عوامة 30012)