مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
55. ما ذكر عن أبي بكر وعمر ﵄ من الدعاء
جو دعا سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر سے منقول ہںِ
ترقیم عوامۃ: 30130 ترقیم الشثری: -- 31492
٣١٤٩٢ - حدثنا حسين بن علي عن طعمة بن (عبد الله) (١) عن رجل يقال له ميكائيل شيخ من اهل خراسان قال: كان عمر إذا قام من الليل (يقول) (٢) : قد ترى مقامي وتعرف حاجتي، فارجعني من عندك يا الله بحاجتي مفلجا منجحا مستجيبا مستجابا لي، قد غفرت لي ورحمتني، فإذا قضى صلاته قال: اللهم (لا) (٣) ارى شيئا من الدنيا يدوم، ولا ارى (حالا فيها) (٤) يستقيم، اللهم اجعلني انطق فيها بعلم واصمت بحكم، اللهم لا تكثر لي من الدنيا فاطغى، ولا تقل لي منها فانسى، فإنه ما قل وكفى خير مما كثر والهى (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، وسيأتي ١٣/ ٢٨٠ برقم [٣٧٢١٢] أن اسمه: (طعمة بن غيلان)، وهو الصواب كما في التهجد (٤)، وفي كتب التراجم، ومنها: الثقات ٥/ ٤٦٣، وتهذيب الكمال ١٣/ ٣٨٦.
(٢) في [هـ]: (قال).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) في [ط]: (فيها ما لا).
(٥) مجهول؛ لجهالة مكيائيل، أخرجه ابن أبي الدنيا في التهجد (٤١).
خراسان کا ایک بوڑھا شخص جس کو میکائیل کہا جاتا تھا انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا فرماتے: تو میرے کھڑے ہونے کو جانتا ہے اور میری ضرورت کو بھی جانتا ہے: اے اللہ! تو مجھے اپنے پاس سے لوٹا اس حال میں کہ میری حاجت پوری ہو، کامیاب ہو، قبول ہونے والی قبول کی گئی میرے لیے۔ تحقیق تو نے میری مغفرت فرما دی اور تو نے مجھ پر رحم فرما دیا۔ پس جب اپنی نماز مکمل فرما لیتے تو فرماتے: اے اللہ! میں نے دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں دیکھی جو دائمی ہو۔ اور نہ ہی کوئی ایسی حالت دیکھی جو کہ ہمیشہ سیدھی رہے۔ اے اللہ! تو مجھے ایسا بنا دے کہ میں علم کے ساتھ بات کروں اور میں حکم کے ساتھ خاموش رہوں۔ اے اللہ! تو میرے لیے دنیا کو زیادہ مت فرما دے کہ میں سرکش بن جاؤں۔ اور نہ ہی میرے لیے اس دنیا کو اتنا تھوڑا کر دے کہ میں تجھے بھول جاؤں، اس لیے کہ جو تھوڑا اور کافی ہو وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غفلت میں ڈال دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31492]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31492، ترقيم محمد عوامة 30130)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 31492 in Urdu