🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

55. ما ذكر عن أبي بكر وعمر ﵄ من الدعاء
جو دعا سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر سے منقول ہںِ
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30124 ترقیم الشثری: -- 31485
٣١٤٨٥ - (١) حدثنا وكيع بن الجراح عن كثير بن زيد عن المطلب بن عبد الله ان ابا بكر كان يقول: اللهم اجعل (خير) (٢) عمري اخيره، وخير عملي خواتمه، وخير ايامي يوم القاك (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [ك]: (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) في [أ، ب، ط]: (آخر).
(٣) منقطع، المطلب لم يسمع من أبي بكر.

حضرت مطلب بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اے اللہ! میری عمر کے آخری حصہ کو بہتر بنا دے۔ اور میرے عمل کے اختتام کو بہتر بنا دے۔ اور جس دن میں تجھ سے ملاقات کروں میرے ان دنوں کو بہتر بنا دے۔ حضرت مطلب بن عبد اللہ نے فرمایا: حضرت عمر یوں دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! تو اپنی رسی کے ذریعہ میری حفاظت فرما۔ اور اپنے فضل سے مجھے رزق عطا فرما۔ اور مجھے ایسا بنا دے کہ میں تیرے حکم کی حفاظت کرنے والا بن جاؤں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31485]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31485، ترقيم محمد عوامة 30124)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 31486
٣١٤٨٦ - قال: وكان عمر يقول: اللهم اعصمني بحبلك، وارزقني من فضلك، واجعلني احفظ امرك (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع، المطلب لم يسمع من عمر.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31486، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30125 ترقیم الشثری: -- 31487
٣١٤٨٧ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن جامع بن شداد عن ابيه قال: كان اول كلام تكلم به عمر ان قال: اللهم إني ضعيف فقوني وإني شديد فليني (وإني) (١) بخيل فسخني (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ط]: (إلا).
(٢) مجهول؛ لجهالة شداد، أخرجه ابن سعد ٣/ ٢٧٤، وأخرجه ابن سعد أَيضًا ٣/ ٢٧٥ من طريق شعبة عن جامع عن ذي قرابة له، وأخرجه الدولابي في الكنى ٢/ ٦٦٦ من حديث مسعر عن أبي صخرة عن الأسود بن هلال.

حضرت شداد فرماتے ہیں کہ سب سے پہلی دعا جو حضرت عمر نے کی بیشک فرمایا: اے اللہ! میں کمزور ہوں پس تو مجھے قوی بنا دے۔ اور میں بہت سخت ہوں تو مجھے نرم بنا دے۔ اور بیشک میں بہت کنجوس ہوں تو مجھے سخی بنا دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31487]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31487، ترقيم محمد عوامة 30125)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30126 ترقیم الشثری: -- 31488
٣١٤٨٨ - حدثنا يحيى بن آدم حدثنا إسرائيل عن ابي إسحاق عن حسان بن (فائد) (١) (العبسي) (٢) عن عمر انه كان يدعو اللهم اجعل غنائي ⦗٢٤٥⦘ في قلبي و (رغبتي) (٣) فيما عندك، وبارك لي فيما رزقتني، واغنني (عما) (٤) حرمت علي (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (قائد).
(٢) في (ط): (الصبغي).
(٣) في [هـ]: (رغبني).
(٤) في [هـ]: (مما).
(٥) حسن؛ حسان صدوق.

حضرت حسان بن فائد العبسی، حضرت عمر کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! تو میرے دل میں بےنیازی کو بھر دے۔ اور مجھ میں شوق پیدا فرما اس چیز کا جو تیرے پاس ہے۔ اور جو رزق تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں برکت عطا فرما۔ اور جو چیز تو نے مجھ پر حرام کی ہے مجھے اس سے بےنیاز کر دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31488]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31488، ترقيم محمد عوامة 30126)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30127 ترقیم الشثری: -- 31489
٣١٤٨٩ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر عن (الركين) (١) عن ابيه عن عمر انه كان يقول: اللهم استغفرك لذنبي واستهديك لراشد امري، واتوب إليك فتب علي إنك انت ربي، [اللهم فاجعل رغبتي إليك، واجعل غناي في صدري، وبارك لي فيما رزقتني، وتقبل مني إنك انت ربي (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (الدكين).
(٢) منقطع؛ الربيع بن عميلة والد الركين لا يروي عن عمر.

حضرت ربیع فرماتے ہیں حضرت عمر کے بارے میں کہ وہ یوں دعا کرتے تھے: اے اللہ! میں آپ سے اپنے گناہوں کی معافی ما نگتا ہوں۔ اور میں آپ سے اپنے بھلائی کے کاموں کی راہنمائی طلب کرتا ہوں۔ اور میں آپ سے توبہ کرتا ہوں۔ پس آپ میری توبہ قبول فرما لیجیے۔ یقینا آپ ہی میرے رب ہیں۔ اے اللہ! اپنی طرف کا مجھ میں شوق ڈال دیں۔ اور میرے سینے میں بےنیازی ڈال دیں۔ اور جو آپ نے مجھے رزق عطا کیا ہے اس میں برکت عطا فرما دیجیے۔ اور آپ میری طرف سے دعا کو قبول فرمائیے۔ اور یقینا آپ ہی میرے رب ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31489]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31489، ترقيم محمد عوامة 30127)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30128 ترقیم الشثری: -- 31490
٣١٤٩٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن العوام] (١) (عن إبراهيم التيمي قال: قال رجل عند عمر) (٢) : اللهم اجعلني من القليل، قال: فقال عمر: ما هذا الذي تدعو به؟ فقال: إني سمعت الله يقول: ﴿وقليل من عبادي الشكور﴾ [سبا: ١٣] ، فانا ادعو ان يجعلني من اولئك القليل، قال: فقال عمر: كل الناس اعلم من عمر (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) سقط من: [أ، ب، ك].
(٣) منقطع؛ إبراهيم لا يروي عن عمر.

حضرت ابراہیم التیمی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمر کے پاس یوں دعا کی: اے اللہ! آپ مجھے قلیل میں سے بنا دیجیے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عمر نے پوچھا: تم نے یہ کیا دعا مانگی؟ تو وہ شخص کہنے لگا: میں نے اللہ رب العزت کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اور میرے بندوں میں بہت تھوڑے شکر گزار ہیں۔“ تو میں اللہ سے دعا کر رہا ہوں کہ وہ مجھے ان تھوڑے بندوں میں سے بنا دے۔ راوی فرماتے ہیں: پھر حضرت عمر نے ارشاد فرمایا: تمام لوگ عمر سے زیادہ علم والے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31490]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31490، ترقيم محمد عوامة 30128)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30129 ترقیم الشثری: -- 31491
٣١٤٩١ - حدثنا الفضل بن دكين (عن ابي خلدة) (١) عن ابي العالية قال: سمعت عمر يقول: اللهم عافنا واعف عنا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك].
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد ص ١١٤، وابن سعد ٧/ ١١٣.

حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو یوں دعا مانگتے ہوئے سنا: اے اللہ! تو ہمیں عافیت بخش دے اور ہم سے درگزر فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31491]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31491، ترقيم محمد عوامة 30129)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30130 ترقیم الشثری: -- 31492
٣١٤٩٢ - حدثنا حسين بن علي عن طعمة بن (عبد الله) (١) عن رجل يقال له ميكائيل شيخ من اهل خراسان قال: كان عمر إذا قام من الليل (يقول) (٢) : قد ترى مقامي وتعرف حاجتي، فارجعني من عندك يا الله بحاجتي مفلجا منجحا مستجيبا مستجابا لي، قد غفرت لي ورحمتني، فإذا قضى صلاته قال: اللهم (لا) (٣) ارى شيئا من الدنيا يدوم، ولا ارى (حالا فيها) (٤) يستقيم، اللهم اجعلني انطق فيها بعلم واصمت بحكم، اللهم لا تكثر لي من الدنيا فاطغى، ولا تقل لي منها فانسى، فإنه ما قل وكفى خير مما كثر والهى (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، وسيأتي ١٣/ ٢٨٠ برقم [٣٧٢١٢] أن اسمه: (طعمة بن غيلان)، وهو الصواب كما في التهجد (٤)، وفي كتب التراجم، ومنها: الثقات ٥/ ٤٦٣، وتهذيب الكمال ١٣/ ٣٨٦.
(٢) في [هـ]: (قال).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) في [ط]: (فيها ما لا).
(٥) مجهول؛ لجهالة مكيائيل، أخرجه ابن أبي الدنيا في التهجد (٤١).

خراسان کا ایک بوڑھا شخص جس کو میکائیل کہا جاتا تھا انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا فرماتے: تو میرے کھڑے ہونے کو جانتا ہے اور میری ضرورت کو بھی جانتا ہے: اے اللہ! تو مجھے اپنے پاس سے لوٹا اس حال میں کہ میری حاجت پوری ہو، کامیاب ہو، قبول ہونے والی قبول کی گئی میرے لیے۔ تحقیق تو نے میری مغفرت فرما دی اور تو نے مجھ پر رحم فرما دیا۔ پس جب اپنی نماز مکمل فرما لیتے تو فرماتے: اے اللہ! میں نے دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں دیکھی جو دائمی ہو۔ اور نہ ہی کوئی ایسی حالت دیکھی جو کہ ہمیشہ سیدھی رہے۔ اے اللہ! تو مجھے ایسا بنا دے کہ میں علم کے ساتھ بات کروں اور میں حکم کے ساتھ خاموش رہوں۔ اے اللہ! تو میرے لیے دنیا کو زیادہ مت فرما دے کہ میں سرکش بن جاؤں۔ اور نہ ہی میرے لیے اس دنیا کو اتنا تھوڑا کر دے کہ میں تجھے بھول جاؤں، اس لیے کہ جو تھوڑا اور کافی ہو وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غفلت میں ڈال دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31492]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31492، ترقيم محمد عوامة 30130)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30131 ترقیم الشثری: -- 31493
٣١٤٩٣ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن سليم بن حنظلة عن عمر انه كان يقول: اللهم إني اعوذ بك ان تاخذني على (غرة) (١) ، او تذرني في غفلة او تجعلني من الغافلين (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (عزة).
(٢) ضعيف؛ لضعف ليث بن أبي سليم، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٥٤، وابن فضيل في الدعاء (٧٣).

حضرت سلیم بن حنظلہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر یوں دعا فرماتے تھے: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ تو بیخبر ی کی حالت میں میری پکڑ کرے، یا تو مجھے غفلت کی حالت میں چھوڑ دے۔ یا تو مجھے غافلین میں سے بنا دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31493]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31493، ترقيم محمد عوامة 30131)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں