🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. من قال: يشفع القرآن لصاحبه يوم القيامة
جو کہے: قرآن اپنے پڑھنے والے کی قیامت کے دن شفاعت کرے گا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30668 ترقیم الشثری: -- 32040
٣٢٠٤٠ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا (بشير) (١) بن المهاجر قال: حدثني عبد الله بن بريدة عن ابيه قال: كنت عند رسول الله ﷺ فسمعته يقول:"إن القرآن يلقى صاحبه يوم القيامة حين ينشق عنه قبره كالرجل (الشاحب) (٢) يقول له: هل تعرفني؟ فيقول: ما اعرفك، فيقول له: انا صاحبك القرآن الذي اظماتك في (الهواجر) (٣) (واسهرت) (٤) ليلك، وإن (كل) (٥) تاجر من وراء تجارته، وإنك اليوم من وراء كل تجارة، قال: فيعطى الملك بيمينه والخلد بشماله، ويوضع على راسه تاج الوقار، ويكسى والداه حلتين، لا يقوم لهما اهل (الدنيا) (٦) ، فيقولان: بم كسينا هذا؟ قال: فيقال لهما: باخذ ولدكما القرآن، ثم يقال له: اقرا ⦗٤٢٧⦘ واصعد في درج الجنة وغرفها، فهو في صعود ما دام يقرا هذا (كان) (٧) او (ترتيلا) " (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (بشر).
(٢) في [أ، ب، ط]: (بياض).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [ك]: (وأسهرني).
(٥) في [أ، ب، ط]: (كان).
(٦) في [أ، ب]: (الدني). سقط من: [أ، ب، ط].
(٧) سقط من: [أ، ب، ط].
(٨) ضعيف؛ لضعف بشير بن المهاجر، أخرجه أحمد (٢٢٩٥٠)، وابن ماجه (٣٧٨١)، والحاكم ١/ ٥٦٠، والدارمي (٣٣٩١)، وابن عدي ٢/ ٤٥٤، والبغوي (١١٩٠)، وأبو عبيد في فضائل القرآن ص ٨٤، وابن نصر في قيام الليل (٢٠٢)، وابن الضريس في فضائل القرآن (٩٩)، والبزار (٢٣٠٢/ كشف)، والعقيلي ١/ ١٤٤، والبيهقي في الشعب (١٩٨٩)، والواحدي في الوسيط ١/ ٤١١، والآجري في أخلاق أهل القرآن (٢٤).

حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا: قرآن قیامت کے دن دبلے آدمی کی صورت میں اپنے ساتھی سے ملے گا جب اس کی قبر پھٹے گی۔ اسے کہے گا: کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ وہ شخص کہے گا: میں تمہیں نہیں پہچانتا پھر وہ اس شخص کو کہے گا: میں تیرا ساتھی قرآن ہوں جس نے تجھے شدید گرمی میں پیاسا رکھا اور تیری راتوں میں تجھے جگایا۔ اور یقینا ہر تاجر کو اس کی تجارت کا نفع ملتا ہے۔ لہٰذا تجھے آج تجارت کا نفع ملے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کے دائیں ہاتھ میں بادشاہت دے دی جائے گی، اور اس کے بائیں ہاتھ میں ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی دے دی جائے گی۔ اور اس کے سر پر عزت کا تاج پہنایا جائے گا۔ اور اس کے والدین کو دو خوبصورت جوڑے پہنائے جائیں گے۔ جس کا ساری دنیا والے مقابلہ نہیں کرسکتے۔ وہ دونوں کہیں گے۔ کس وجہ سے ہمیں یہ کپڑے پہنائے گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! ان دونوں سے کہا جائے گا! تمہارے بچہ کے قرآن حفظ کرنے کی وجہ سے۔ پھر اس حافظ قرآن سے کہا جائے گا: پڑھو اور جنت کے درجوں اور اس کے بالا خانوں میں چڑھتے جاؤ۔ پس وہ جب تک پڑھتا رہے گا آہستہ ہو یا تیز وہ بلند ہوتا رہے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32040]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32040، ترقيم محمد عوامة 30668)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 32040 in Urdu