مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
22. من قال: يشفع القرآن لصاحبه يوم القيامة
جو کہے: قرآن اپنے پڑھنے والے کی قیامت کے دن شفاعت کرے گا
ترقیم عوامۃ: 30669 ترقیم الشثری: -- 32041
٣٢٠٤١ - حدثنا زيد بن الحباب قال: (حدثنا) (١) موسى بن عبيدة (الربذي) (٢) قال: حدثنا سعيد بن ابي سعيد المقبري عن (٣) عثمان بن الحكم عن كعب انه قال: يمثل القرآن لمن كان يعمل به في الدنيا يوم القيامة كاحسن صورة رآها؛ (٤) (احسنه) (٥) وجها، و (اطيبه) (٦) ريحا فيقوم بجنب صاحبه، (فكلما) (٧) جاءه روع هدا (روعه) (٨) وسكنه، وبسط له امله، فيقول له: جزاك الله خيرا من صاحب، فما احسن صورتك واطيب ريحك، فيقول له: اما تعرفني (تعال) (٩) اركبني، فطالما ركبتك في الدنيا، انا عملك، إن عملك كان حسنا، فترى صورتي حسنة، ⦗٤٢٨⦘ وكان طيبا فترى ريحي طيبة، فيحمله فيوافي به الرب ﵎ فيقول: يا ر (ب) (١٠) هذا فلان -وهو اعرف به منه- قد (شغلته) (١١) في (ايامه) (١٢) في حياته (في) (١٣) الدنيا اظمات نهاره واسهرت ليله، فشفعني فيه، فيوضع تاج الملك على راسه، ويكسى حلة الملك، فيقول: يا رب، (قد كنت) (١٤) ارغب له عن هذا، وارجو له منك افضل من هذا، فيعطى الخلد بيمينه والنعمة بشماله، فيقول: يا رب، إن كل تاجر قد دخل على اهله من تجارته، فيشفع في اقاربه، (وإن) (١٥) كان كافرا مثل له عمله في اقبح (صورة) (١٦) (رآها) (١٧) و (انتنه) (١٨) ، فكلما جاءه روع زاده روعا فيقول: قبحك الله من صاحب، فما اقبح (صورتك) (١٩) وما انتن ريحك، فيقول: من انت؟ فيقول: اما تعرفني، انا عملك (إنه) (٢٠) كان قبيحا فترى (صورتي) (٢١) قبيحة، وكان منتنا فترى ريحي منتنة، فيقول: تعال (حتى) (٢٢) اركبك، فطالما ركبتني في الدنيا، فيركبه فيوافي به الله، فلا يقيم له وزنا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (حدثني).
(٢) في [أ، ب، ط]: (الزيدي).
(٣) في [ك]: زيادة (أبي).
(٤) في [هـ]: زيادة (و).
(٥) في [هـ]: (أحسنها).
(٦) في [ط، هـ]: (أطيبها).
(٧) في [أ، ب، جـ، ط]: (فلما).
(٨) تكررت في: [ب].
(٩) في [ك]: (تعلى).
(١٠) سقط من: [جـ].
(١١) في [ك]: (أشغلته).
(١٢) في [جـ]: (أيامته).
(١٣) سقط من: [جـ، ك].
(١٤) سقط من: [ك].
(١٥) في [جـ، ك]: (وإذا).
(١٦) في [ع]: (سورة)، وفي [هـ]: (صورته).
(١٧) في [أ]: (رواها).
(١٨) في [هـ]: (أنتنها).
(١٩) في [ك]: (سورتك).
(٢٠) في [أ، هـ]: (إن عملك).
(٢١) في [ك]: (سورتك).
(٢٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
حضرت عثمان بن حکم فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا: جو شخص دنیا میں قرآن کے احکامات پر عمل کرتا تھا قیامت کے دن اس کے قرآن پڑھنے کو ایک خوبصورت چہرے والے کی شکل دے دی جائے گی جس کو وہ شخص دیکھ سکے گا۔ وہ چہرے کے اعتبار سے خوبصورت ترین ہوگا اور خوشبو کے اعتبار سے پاکیزہ ترین ہوگا۔ پھر وہ قرآن اپنے ساتھی کے پہلو میں کھڑا ہوجائے گا۔ اور جو بھی خوف زدہ کرنے والی چیز اس کے پاس آئے گی وہ اس کے خوف کو دور کرے گا اور اس کو تسکین پہنچائے گا۔ اور اس کے لیے اس کی امید کو کشادہ کرے گا۔ وہ شخص اس کو کہے گا! اللہ اس ساتھی کو بہترین جزا دے۔ تیری صورت کتنی حسین ہے اور تیری خوشبو کتنی پاکیزہ ہے؟! تو وہ قرآن اس کو کہے گا! کیا تو مجھے نہیں پہچانتا؟ آؤ مجھ پر سوار ہو جاؤ۔ پس دنیا میں میں تجھ پر سوار تھا اور میں تیرا عمل تھا۔ یقینا تیرا عمل اچھا تھا اس لیے تو نے آج میری اچھی شکل دیکھی۔ اور تیری عمل پاکیزہ تھا اس لیے آج تو نے میری پاکیزہ خوشبو دیکھی۔ پھر وہ اس شخص کو سوار کرے گا اور اپنے رب کے پاس لے جائے گا اور کہے گا: اے میرے رب! یہ فلاں شخص ہے۔ حالانکہ اللہ اس سے زیادہ اس کو پہچانتے ہیں۔ تحقیق میں نے اس کو دنیا کی زندگی میں مصروف رکھا۔ میں نے اس کو دن میں پیاسا رکھا۔ اور میں نے رات کو اس کو جگایا۔ پس آپ اس کے بارے میں میری شفاعت کو قبول کیجئے۔ پھر اس شخص کے سر پر بادشاہ کا تاج پہنا دیا جائے گا۔ اور اسے بادشاہ کا جوڑا پہنایا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا! اے میرے رب! میں اس سے کہیں زیادہ اس کو مرغوب تھا۔ اور میں تجھ سے اس شخص کے لیے اس سے بھی زیادہ فضل کی امید کرتا ہوں تو پھر اس شخص کے دائیں ہاتھ میں ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی عطا کردی جائے گی، پھر وہ قرآن کہے گا: اے میرے رب! یقینا ہر تاجر اپنی تجارت کا نفع اپنے گھر والوں کو بھی دیتا ہے۔ پھر اس شخص کے رشتہ داروں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ اور جب کوئی شخص کافر ہو تو اس صورت میں اس کے عمل کو بد ترین شکل والے آدمی کی صورت دے دی جاتی ہے جسے وہ دیکھ سکے گا، اور جس کی بو انتہائی بد بودار ہوگی۔ پس جب بھی کوئی خوف زدہ کرنے والی چیز اس کے پاس آتی ہے تو یہ اس کے خوف میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ پھر کافر شخص کہے گا! اللہ تجھ جیسے ساتھی کو مزید برا کرے تو کتنا بد صورت شکل والا اور کتنی بری بدبو والا ہے؟! پھر وہ کہے گا: تو کون ہے؟ وہ کہے گا! کیا تو مجھے نہیں پہچانتا؟ یقینا میں تیرا عمل ہوں۔ بیشک تیرا عمل برا تھا اس لیے تو مجھے بدصورت دیکھ رہا ہے، اور تر ا عمل بدبودار تھا اس لیے تو بھی مجھے انتہائی بد بودار شکل میں دیکھ رہا ہے۔ پھر وہ کہے گا! آؤ یہاں تک کہ میں تم پر سوار ہوں پس تو دنیا میں مجھ پر سوار تھا۔ پھر وہ اس شخص پر سوار ہو کر اسے اللہ کے سامنے لے جائے گا اور وہ اس کو کوئی اہمیت نہیں دے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32041]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32041، ترقيم محمد عوامة 30669)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 32041 in Urdu