مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 31202 ترقیم الشثری: -- 32587
٣٢٥٨٧ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا ابو (محلم) (١) الهمداني عن عامر قال: اتى رجل معاوية فقال: يا امير المؤمنين عدتك التي وعدتني؟ (قال) (٢) : وما وعدتك؟ قال: ان تزيدني مئة في عطائي، قال: ما فعلت؛ قال: بلى، قال: من يعلم ذلك؟ قال: الاسود او ابن الاسود، قال: ما يقول هذا يا ابن الاسود؟ قال: نعم، قد زدته فامر له بها، ثم إن معاوية ضرب بيديه إحداهما على الاخرى، فقال: ما بي، مئة زدتها رجلا، ولكن بي غفلتي: ان ازيد رجلا من المهاجرين مئة ثم انساها، فقال له ابن الاسود: يا امير المؤمنين فهو (آمن) (٣) عليها، قال: نعم، (قال) (٤) : فوالله ما زدته شيئا، ولكنه لا يدعوني رجل إلى خير يصيبه من ذي ⦗١١٠⦘ سلطان إلا شهدت له به، ولا شر اصرفه عنه من ذي سلطان إلا شهدت له به (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (محكم).
(٢) في [ك، م]: (فقال).
(٣) في [أ، هـ]: (أمر).
(٤) سقط من: [ب، ط].
(٥) صحيح.
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا اے امیرالمؤمنین! میرے ساتھ کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کریں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ میں نے تجھ سے کیا وعدہ کیا تھا؟ اس نے کہا کہ آپ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ آپ میرے وظیفے میں سو درہم کا اضافہ فرمائیں گے، آپ نے فرمایا کہ کیا تو نے کوئی کام کیا تھا؟ اس نے کہا جی ہاں! آپ نے فرمایا اس بات کو کون جانتا ہے؟ اس نے کہا اسود، یا کہا ابن الأسود، آپ نے فرمایا اے ابن الاسود یہ کیا کہتا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! اے امیرالمؤمنین آپ نے اس کے وظیفے میں اضافہ فرمایا تھا، آپ نے اس اضافے کے دینے کا حکم فرما دیا، پھر آپ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا مجھے اس بات کا غم نہیں کہ میں نے کسی آدمی کے لئے سو دراہم کے اضافے کا حکم دے دیا، بلکہ مجھے اپنی غفلت کا افسوس ہے کہ میں نے مہاجرین کے ایک آدمی کے وظیفے میں سو دراہم کا اضافہ کیا اور پھر میں ان کو بھول گیا، اس پر ابن الأسود نے فرمایا: اے امیرالمؤمنین! کیا ان دراہم کے بارے میں وہ بےخوف رہے گا؟ آپ نے فرمایا جی ہاں! انہوں نے کہا اللہ کی قسم آپ نے اس کے لئے کوئی اضافہ نہیں فرمایا، لیکن جو شخص مجھے دعوت دیتا ہے کہ میں اس کے لئے ان پیسوں کے بارے میں گواہی دوں جو اس کو کسی رئیس سے ملیں گے تو میں اس کے لئے گواہی دیتا ہوں، اسی طرح جو شخص مجھ سے مطالبہ کرتا ہے کہ میں اس کے لئے کسی شر کے دور کرنے کے بارے میں گواہی دوں جو اس کو کسی صاحب منزلت آدمی سے پہنچنے کا خوف ہو تو میں اس کے لئے گواہی دیتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32587]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32587، ترقيم محمد عوامة 31202)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 32587 in Urdu