🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31317 ترقیم الشثری: -- 32705
٣٢٧٠٥ - حدثنا (١) ابن عيينة عن منصور (بن) (٢) صفية عن (امه) (٣) قالت: دخل ابن عمر المسجد وابن الزبير مصلوب فقالوا له: هذه اسماء، فاتاها فذكرها ووعظها وقال: إن الجثة ليست بشيء، وإنما الارواح عند الله، (فاصبري واحتسبي) (٤) فقالت: ما يمنعني من الصبر وقد اهدي راس يحيى بن زكريا إلى بغي من بغايا بني إسرائيل (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [م]: (أبو بكر قال).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (عن).
(٣) في [ط]: (أم)، وفي [هـ]: (أمها).
(٤) تقديم وتأخير في: [م].
(٥) صحيح.

حضرت صفیہ روایت کرتی ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما مسجد حرام میں داخل ہوئے جبکہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سولی پر لٹکے ہوئے تھے، لوگوں نے آپ سے فرمایا کہ حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا تشریف لا رہی ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت اسماء کے پاس گئے اور ان کو وعظ و نصیحت کی اور کہا کہ جسم کی کچھ حقیقت نہیں، اور روحیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہوتی ہیں، آپ صبر کیجیے! اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھیے! انہوں نے فرمایا مجھے صبر سے کیا مانع ہے؟ جبکہ یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کا سر بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت کو دے دیا گیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32705]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32705، ترقيم محمد عوامة 31317)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 32705 in Urdu