مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
76. في امرأة أوصت بثلث ما لها لزوجها في سبيل الله
اس عورت کا بیان جس نے ایک تہائی مال کی اپنے شوہر کیلئے فی سبیل اللہ دیے جانے کی وصیت کی
ترقیم عوامۃ: 31674 ترقیم الشثری: -- 33085
٣٣٠٨٥ - حدثنا ابن علية قال: كنت عند داود بن ابي هند فجاء رجلان او اكثر من آل انس بن مالك بينهم عبيد الله بن ابي بكر، وجاؤوا معهم بكتاب في صحيفة ذكروا انها وصية انس بن مالك، ففتحت صدرها: بسم الله الرحمن الرحيم -هذا ذكر ما كتب انس بن مالك في هذه الصحيفة من امر وصيته، إني اوصي (من) (١) تركت من اهلي (٢) بتقوى الله وشكره واستمساك بحبله، وإيمان بوعده، واوصيهم بصلاح ذات (بينهم) (٣) والتراحم والبر والتقوى، ثم اوصى - (إن) (٤) توفي- ان ثلث ماله صدقة إلا ان يغير وصيته قبل ان يلحق بالله، (الف) (٥) في سبيل الله إن كان امر الامة يومئذ جميعا وفي الرقاب والاقربين، ومن سميت له العتق من رقيقي يوم (دبر مني) (٦) فادركه العتق فإنه يقيمه ولي وصيتي في الثلث غير حرج ولا منازع (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (ما).
(٢) في [م]: زيادة (كلهم).
(٣) في زيادة (بينهم) من: [أ، ب، جـ، م].
(٤) في [أ، ح، هـ]: (من).
(٥) في [أ، جـ، ط، هـ]: (إلا).
(٦) في [أ، ح، هـ]: بياض.
(٧) صحيح.
ابن عُلیّہ فرماتے ہیں کہ میں داؤد بن ابی ہند کے پاس تھا، کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی آل کے دو یا دو سے زیادہ آدمی آئے جن میں حضرت عبید اللہ بن ابی بکر بھی شامل تھے، اور وہ اپنے ساتھ ایک دستاویز کے اندر ایک خط بھی لائے، اور انہوں نے یہ بتایا کہ یہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وصیت ہے، میں نے اسے کھولا تو اس میں درج تھا: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم: یہ ذکر ہے اس وصیت کا جو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس دستاویز میں لکھی ہے، میں اپنے تمام گھر والوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ سے ڈرنے اور اس کا شکر ادا کرنے اور اس کی رسّی کو مضبوطی کے ساتھ تھامنے اور اس کے وعدے پر ایمان لانے کی وصیت کرتا ہوں، اور ان کو میں آپس میں اچھے طریقے سے رہنے اور ایک دوسرے کے ساتھ صلہ رحمی کرنے اور دوسروں ے ساتھ نیکی کرنے اور اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں، پھر انہوں نے وصیت فرمائی کہ ان کے مال کا ایک تہائی حصّہ صدقہ ہے، ہاں مگر یہ کہ وہ موت سے پہلے اپنی وصیت کو تبدیل کردیں، جس میں سے ایک ہزار اللہ کے راستے کے مجاہدین کے لئے ہے اگر اس وقت امت کا شیرازہ منتشر نہ ہو، اور غلاموں کو آزاد کرنے اور رشتہ داروں میں تقسیم کرنے کے لئے ہے، اور میرے وہ غلام جن کو میں نے اپنے بعد آزاد کردیا ہے اور اس کی آزادی کا وقت آگیا تو میری وصیت کا ذمہ دار ایک تہائی اس کو شامل کرے، اس طرح کہ کوئی پریشانی اور جھگڑا پیدا نہ کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 33085]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33085، ترقيم محمد عوامة 31674)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 33085 in Urdu