🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. إذا ترك إخوة وجدا واختلافهم فيه
جب کوئی آدمی بھائیوں اور دادا کو چھوڑ جائے تو کیاحکم ہے؟ اس بارے میں علماء کے اختلاف کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31869 ترقیم الشثری: -- 33318
٣٣٣١٨ - حدثنا ابن علية عن ابي العلاء عن إبراهيم عن علقمة قال: كان عبد الله (يشرك) (١) الجد مع الإخوة، فإذا كثروا (وفاه) (٢) الثلث، فلما توفي علقمة ⦗٢٩٦⦘ اتيت عبيدة فحدثني ان ابن مسعود كان (يشرك) (٣) الجد مع الإخوة، فإذا كثروا وفاه السدس، فرجعت من عنده وانا (خاثر) (٤) فمررت بعبيد بن (نضيلة) (٥) فقال: ما لي اراك خاثرا؟ قال: قلت: كيف لا اكون (خاثرا؟) (٦) فحدثته، فقال: صدقاك كلاهما، قلت: لله ابوك، وكيف صدقاني كلاهما؟ قال: كان راي عبد الله وقسمته ان (يشركه) (٧) مع الإخوة، فإذا كثروا وفاه السدس، ثم وفد إلى عمر فوجده يشركه مع الإخوة فإذا كثروا وفاه الثلث، فترك رايه وتابع عمر (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (شرَّك).
(٢) في [جـ، م]: (وفى).
(٣) في [أ، ب]: (شرك).
(٤) في [أ، ب]: (حائر).
(٥) في [أ، ب، هـ]: (نضلة).
(٦) في [أ، ب]: (حائرًا).
(٧) في [أ، ب]: (شركه).
(٨) حسن؛ أبو العلاء صدوق.

حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک بنایا کرتے تھے، لیکن جب بھائی تعداد میں زیادہ ہوتے تو آپ اس کو ایک تہائی مال دلاتے، ابراہیم راوی فرماتے ہیں کہ جب علقمہ کی وفات ہوئی تو میں حضرت عُبِیدہ کے پاس آیا، انہوں نے مجھ سے یہ بیان فرمایا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک بنایا کرتے تھے، اور جب بھائی زیادہ ہوتے تو اس کو مال کا حصّہ دلاتے، فرماتے ہیں کہ یہ سن کر میں ان کے پاس سے اس حال میں لوٹا کہ میری طبیعت بوجھل تھی۔ پھر میں حضرت عبید بن نضیلہ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ آپ کی طبیعت میں سستی کیسی ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہ ہو جبکہ اس طرح واقعہ پیش آیا ہے، پھر میں نے ان سے پوری بات بیان کی، انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں نے تمہیں سچ بتلایا، میں نے کہا: آپ کی کیا بات ہے! دونوں نے کیسے سچ کہا؟ فرمانے لگے: حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک کردیا جائے، اور جب وہ بڑھ جائیں تو اس کو مال کا چھٹا حصّہ دلا دیا جائے، پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہیں دیکھا کہ وہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک کرتے ہیں اور جب بھائی زیاد ہ ہوجائیں تو دادا کو ایک تہائی مال دلاتے ہیں، تو آپ نے اپنی رائے چھوڑ دی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے پر عمل کرنے لگے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33318]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33318، ترقيم محمد عوامة 31869)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 33318 in Urdu