🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. في ابنة وأخت وجد، (أو) أخوات عدة وجد وابنة
بیٹی، بہن اور دادا کے مسئلے اور متعدّد بہنوں، بیٹے اور دادا اور بیٹی کے مسئلے کے بیان میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31903 ترقیم الشثری: -- 33366
٣٣٣٦٦ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم في رجل ترك ابنته واخته لابيه وامه وجدا، فلابنته النصف ولجده السدس وما بقي فلاخته في قول علي، لم يكن يزيد الجد مع الولد على السدس شيئا، وفي قول عبد الله لابنته النصف، وما بقي فبين الاخت والجد، فإن كانتا اختان فما بقي بين (الاختين والجد) (١) في قول عبد الله وزيد، وفي قول علي: للجد السدس ولاختيه ما بقي، كان كن ثلاث اخوات مع الابنة والجد فللابنة النصف وللجد خمسا ما بقي، وللاخوات ثلاثة اخماس في قول عبد الله وزيد (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تقديم وتأخير في [جـ، م]: هكذا (الجد والأختين).
(٢) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك زيدًا وعبد اللَّه وعليًا.

فضیل حضرت ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ جو آدمی اپنی بیٹی، حقیقی بہن اور دادا کو چھوڑ جائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول میں اس کی بیٹی کو آدھا مال، اس کے دادا کو چھٹا حصّہ اور بقیہ اس کی بہن کو دیا جائے گا، اور آپ دادا کو اولاد کے ہوتے ہوئے چھٹے حصّے سے زیادہ نہیں دلاتے تھے، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق اس کی بیٹی کو آدھا مال دیا جائے گا، اور بقیہ مال بہن اور دادا کے درمیان تقسیم کردیا جائے گا، اور اگر (ایک کی بجائے) دو بہنیں ہوں تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق بقیہ مال بہنوں اور دادا کے درمیان تقسیم کیا جائے گا، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق دادا کے لئے مال کا چھٹا حصّہ اور اس کی دونوں بہنوں کے لئے بقیہ مال ہے۔ اور اگر بہنیں تین ہوں اور بیٹی اور دادا ہوں تو بیٹی کو آدھا مال دیا جائے گا، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق دادا کے لئے بقیہ مال کے د و پانچویں حصّے (٥/٢) ہوں گے اور بہنوں کے لئے بقیہ تین پانچویں حصّے ہوں گے، حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق دس حصّوں سے نکلے گا، پانچ حصّے بیٹی کے لئے، دو حصّے دادا کے لئے اور بہنوں کے لئے ایک ایک حصّہ ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33366]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33366، ترقيم محمد عوامة 31903)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 33366 in Urdu