🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

51. في ابنة وأخت وجد، (أو) أخوات عدة وجد وابنة
بیٹی، بہن اور دادا کے مسئلے اور متعدّد بہنوں، بیٹے اور دادا اور بیٹی کے مسئلے کے بیان میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31898 ترقیم الشثری: -- 33360
٣٣٣٦٠ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم عن عبد الله انه قال في ابنة واخت وجد: اعطى الابنة النصف، وجعل ما بقي بين الجد والاخت له نصف، ولها نصف (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك عبد اللَّه.
ابراہیم روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے بیٹی، بہن اور دادا کے مسئلے کے بارے میں فرمایا کہ بیٹی کو آدھا مال دیا جائے، اور باقی مال دادا اور بہن کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کردیا جائے۔ اور آپ سے بیٹی، دو بہنوں اور دادا کے مسئلے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے آدھا مال بیٹی کو اور باقی مال دادا اور دو بہنوں کے درمیان نصف نصف تقسیم کیے جانے کا فیصلہ فرمایا، اور ایک موقع پر آپ سے بیٹی، تین بہنوں اور دادا کے مسئلے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے بیٹی کو آدھا مال اور دادا کو بقیہ مال کے دو پانچویں حصّے اور ہر بہن کو پانچواں حصّہ دینے کا فیصلہ فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33360]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33360، ترقيم محمد عوامة 31898)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33361
٣٣٣٦١ - وسئل عن ابنة واختين وجد، فاعطى البنت النصف، وجعل ما بقي بين الجد والاختين له نصف ولهما نصف، وسئل عن ابنة وثلاثة اخوات وجد، فاعطى البنت النصف، وجعل للجد خمسي ما بقي واعطى الاخوات خمسا خمسا (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33361، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31899 ترقیم الشثری: -- 33362
٣٣٣٦٢ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن عبيدة في ابنة واخت وجد، قال: هي من اربعة: سهمان للبنت، وسهم للجد، وسهم للاخت، قلت له: فإن كانتا اختين؟ قال: جعلها عبيدة من اربعة: للبنت سهمان، وسهم للجد، وللاختين سهم، (قلت له: فإن كن ثلاث اخوات) (١) قال: جعلها مسروق من عشرة: للبنت خمسة اسهم، وللجد سهمان، ولكل واحدة منهن سهم سهم (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٢) في [ط]: زيادة (بينهم).

ابراہیم سے روایت ہے کہ حضرت عَبِیدہ نے بیٹی، بہن اور دادا کے مسئلے کے بارے میں فرمایا کہ یہ چار حصّوں سے نکلے گا، دو حصّے بیٹی کے لئے، ایک حصّہ دادا کے لئے اور ایک حصّہ بہن کے لئے، راوی فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے عرض کیا کہ اگر ایک بہن کی بجائے دو بہنیں ہوں؟ فرمایا کہ اس کو بھی حضرت عَبِیدہ نے چار حصّوں سے نکالا ہے، بیٹی کے لئے دو حصّے، دادا کے لئے ایک حصّہ اور دونوں بہنوں کے لئے ایک حصّہ، راوی کہتے ہیں میں نے ابراہیم سے عرض کیا کہ اگر بہنیں تین ہوں؟ تو فرمایا کہ اس مسئلے کو حضرت مسروق نے دس حصّوں سے نکالا ہے، بیٹی کے لئے پانچ حصّے، دادا کے لئے دو حصّے اور ہر بیٹی کے لئے ایک حصّہ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33362]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33362، ترقيم محمد عوامة 31899)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31900 ترقیم الشثری: -- 33363
٣٣٣٦٣ - (١) حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن الاعمش عن إبراهيم عن مسروق في بنت وثلاث اخوات وجد قال: من عشرة للبنت النصف خمسة (٢) ، وللجد سهمان، ولكل اخت سهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [م]: (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) في [س]: زيادة (أسهم).

ابراہیم ایک دوسری سند سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت مسروق نے بیٹی، تین بہنوں اور دادا کے مسئلے کے بارے میں فرمایا کہ یہ مسئلہ دس حصّوں سے نکلے گا، پانچ حصّے یعنی آدھا مال بیٹی کے لئے، دادا کے لئے دو حصّے اور ہر بہن کے لئے ایک حصّہ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33363]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33363، ترقيم محمد عوامة 31900)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31901 ترقیم الشثری: -- 33364
٣٣٣٦٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن عبيدة في ابنة واخت وجد قال: من اربعة: سهمان (للبنت) (١) النصف، وسهم للجد، وسهم للاخت.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (للابنة).
حضرت ابراہیم حضرت عَبِیدہ سے بیٹی، بہن اور دادا کے مسئلہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ یہ چار حصّوں سے نکلے گا، دو حصّے یعنی نصف مال بیٹی کے لئے اور ایک حصّہ دادا کے لئے اور ایک حصّہ بہن کے لئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33364]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33364، ترقيم محمد عوامة 31901)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31902 ترقیم الشثری: -- 33365
٣٣٣٦٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن مسروق في ابنة واختين وجد، قال: من ثمانية اسهم: (للابنة) (١) النصف اربعة، وللجد سهمان، ولكل اخت سهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، هـ]: (للبنت).
حضرت ابراہیم حضرت مسروق سے بیٹی، دو بہنوں اور دادا کے مسئلے کے بارے میں روایت کرتے ہیں فرمایا کہ یہ مسئلہ آٹھ حصّوں سے نکلے گا، بیٹی کے لئے نصف مال یعنی چار حصّے اور دادا کے لئے دو حصّے اور ہر بہن کے لئے ایک حصّہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33365]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33365، ترقيم محمد عوامة 31902)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31903 ترقیم الشثری: -- 33366
٣٣٣٦٦ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم في رجل ترك ابنته واخته لابيه وامه وجدا، فلابنته النصف ولجده السدس وما بقي فلاخته في قول علي، لم يكن يزيد الجد مع الولد على السدس شيئا، وفي قول عبد الله لابنته النصف، وما بقي فبين الاخت والجد، فإن كانتا اختان فما بقي بين (الاختين والجد) (١) في قول عبد الله وزيد، وفي قول علي: للجد السدس ولاختيه ما بقي، كان كن ثلاث اخوات مع الابنة والجد فللابنة النصف وللجد خمسا ما بقي، وللاخوات ثلاثة اخماس في قول عبد الله وزيد (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تقديم وتأخير في [جـ، م]: هكذا (الجد والأختين).
(٢) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك زيدًا وعبد اللَّه وعليًا.

فضیل حضرت ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ جو آدمی اپنی بیٹی، حقیقی بہن اور دادا کو چھوڑ جائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول میں اس کی بیٹی کو آدھا مال، اس کے دادا کو چھٹا حصّہ اور بقیہ اس کی بہن کو دیا جائے گا، اور آپ دادا کو اولاد کے ہوتے ہوئے چھٹے حصّے سے زیادہ نہیں دلاتے تھے، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق اس کی بیٹی کو آدھا مال دیا جائے گا، اور بقیہ مال بہن اور دادا کے درمیان تقسیم کردیا جائے گا، اور اگر (ایک کی بجائے) دو بہنیں ہوں تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق بقیہ مال بہنوں اور دادا کے درمیان تقسیم کیا جائے گا، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق دادا کے لئے مال کا چھٹا حصّہ اور اس کی دونوں بہنوں کے لئے بقیہ مال ہے۔ اور اگر بہنیں تین ہوں اور بیٹی اور دادا ہوں تو بیٹی کو آدھا مال دیا جائے گا، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق دادا کے لئے بقیہ مال کے د و پانچویں حصّے (٥/٢) ہوں گے اور بہنوں کے لئے بقیہ تین پانچویں حصّے ہوں گے، حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق دس حصّوں سے نکلے گا، پانچ حصّے بیٹی کے لئے، دو حصّے دادا کے لئے اور بہنوں کے لئے ایک ایک حصّہ ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33366]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33366، ترقيم محمد عوامة 31903)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33367
٣٣٣٦٧ - قال ابو بكر: فهذه في قول علي من ستة اسهم، وفي قول عبد الله وزيد من عشرة اسهم: خمسة للبنت، وسهمان للجد وللاخوات سهم سهم.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33367، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31904 ترقیم الشثری: -- 33368
٣٣٣٦٨ - حدثنا وكيع عن (فطر) (١) قال: قلت للشعبي: كيف قول علي في ابنة واخت وجد؟ قال: من اربعة، قال: قلت: إنما هذه في قول عبد الله (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، م]: (فطن).
(٢) صحيح.

فطر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے عرض کیا کہ یہی بات حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قول میں بھی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33368]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33368، ترقيم محمد عوامة 31904)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں