🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32332 ترقیم الشثری: -- 33835
٣٣٨٣٥ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا ابو حيان عن ابي زرعة عن ابي هريرة قال: اتي رسول الله ﷺ يوما بلحم فرفعت إليه الذراع، وكانت تعجبه، (فنهس منها نهسة) (١) ثم قال:"انا سيد الناس يوم القيامة؛ وهل تدرون بم ذاك؟ يجمع الله يوم ⦗٤٢٠⦘ القيامة الاولين والآخرين في صعيد واحد، (فيسمعهم) (٢) الداعي، (و) (٣) ينفذهم البصر وتدنو الشمس، فيبلغ الناس من الغم والكرب ما لا يطيقون ولا يحتملون، فيقول بعض الناس لبعض (٤) : الا ترون ما قد بلغكم، الا تنظرون من يشفع لكم إلى ربكم؟ فيقول بعض الناس لبعض: ابوكم آدم (فياتون) (٥) (آدم) (٦) فيقولون: يا آدم انت ابو البشر، خلقك الله (٧) بيده، ونفخ فيك من روحه وامر الملائكة فسجدوا لك، اشفع لنا إلى ربك (٨) ، الا ترى ما نحن فيه، الا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم: إن ربي (قد) (٩) (غضب اليوم غضبا) (١٠) لم يغضب قبله مثله، ولن يغضب بعده مثله، وإنه نهاني عن الشجرة فعصيته، نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري، اذهبوا إلى نوح، فياتون نوحا فيقولون: يا نوح انت اول الرسل إلى اهل الارض، وسماك الله (١١) عبدا شكورا، اشفع لنا إلى ربك الا ترى ما نحن فيه، الا ترى ما قد بلغنا (إليه) (١٢) ؟ فيقول لهم: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله، ولن يغضب بعده مثله، وإنه قد كانت لي دعوة دعوت بها على قومي، نفسي نفسي، اذهبوا إلى ⦗٤٢١⦘ غيري، اذهبوا إلى إبراهيم، فياتون إبراهيم، فيقولون: يا إبراهيم، انت نبي الله وخليله من اهل الارض، اشفع لنا إلى ربك (١٣) الا ترى ما نحن فيه، الا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم إبراهيم: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله، ولا يغضب بعده مثله، وذكر كذباته، نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري، اذهبوا إلى موسى، فياتون موسى فيقولون: يا موسى انت رسول الله (١٤) ، فضلك الله برسالته وبتكليمه على الناس، اشفع لنا إلى ربك، الا ترى إلى ما نحن فيه، الا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم موسى: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله، ولا يغضب بعده مثله، وإني قتلت نفسا لم اومر بقتلها، نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري، اذهبوا إلى عيسى، فياتون عيسى فيقولون: يا عيسى انت رسول الله، وكلمت الناس في المهد، وكلمته القاها إلى مريم وروح منه، اشفع لنا إلى ربك، الا ترى (١٥) ما نحن فيه، الا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم عيسى: إن ربي قد غضب (اليوم) (١٦) غضبا لم يغضب قبله مثله، ولا يغضب بعده مثله، -ولم يذكر له ذنبا- نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري، اذهبوا إلى محمد ﷺ، فياتوني فيقولون: يا محمد انت رسول الله وخاتم الانبياء وغفر (الله لك) (١٧) ما تقدم من ذنبك وما تاخر، اشفع لنا إلى ربك، الا ترى ما نحن فيه؟ الا ترى ما قد بلغنا؟ فانطلق فآتي تحت العرش فاقع ساجدا لربي، ثم يفتح الله علي ويلهمني من محامده وحسن الثناء عليه شيئا لم يفتحه لاحد قبلي، ثم قيل: يا محمد ارفع راسك، ⦗٤٢٢⦘ (سل) (١٨) تعطه، اشفع تشفع، فارفع راسي فاقول: يا رب امتي يارب (١٩) امتي، فيقال: يا محمد، ادخل من امتك (الجنة) (٢٠) من لا حساب (عليهم) (٢١) من الباب الايمن من ابواب الجنة وهم شركاء الناس فيما سوى ذلك من الابواب"، ثم قال:"والذي نفس محمد بيده إن ما بين المصراعين من (مصارع) (٢٢) الجنة لكما بين مكة وهجر او كما بين مكة وبصرى" (٢٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (نهش نهشًا).
(٢) في [هـ]: (فليسمعهم).
(٣) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٤) في [هـ]: زيادة (ألا ترى ما نحن فيه).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٧) في [أ، ب]: زيادة (تعالى).
(٨) في [أ، ب]: زيادة (تعالى).
(٩) سقط من: [أ، ب، هـ].
(١٠) في [أ، ب]: تقديم وتأخير.
(١١) في [أ، ب]: زيادة (تعالى).
(١٢) سقط من: [هـ].
(١٣) زيادة ﷿ في: [أ، ب].
(١٤) زيادة في [أ، ب]: ﷺ.
(١٥) في [س]: زيادة (إلى).
(١٦) سقط من: [ط].
(١٧) في [أ، ب، ط]: (لك اللَّه).
(١٨) في [أ، ب، جـ]: (وسل)، وفي [م]: زيادة (مراتي).
(١٩) في [جـ]: زيادة (يا رب).
(٢٠) في [هـ]: (الجنة من أمتك).
(٢١) في [جـ، م]: (عليه).
(٢٢) في [هـ]: (مصاريع).
(٢٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٣٤٠)، ومسلم (١٩٤).

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دن گوشت لایا گیا، آپ کو اس کا بازو کا گوشت پیش کیا گیا جو آپ کو پسند تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک مرتبہ نوچا پھر فرمایا میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا، اور تم جانتے ہو کہ یہ کس طرح ہوگا؟ اللہ قیامت کے دن اولین و آخرین کو ایک میدان میں جمع فرمائیں گے، پس ایک پکارنے والے کی پکار ان کو سنوائیں گے اور ان کی نظریں تیز ہوجائیں گی، اور سورج قریب ہوجائے گا اور لوگوں کو اتنی تکلیف اور غم ہوگا کہ جس کی ان کے اندر طاقت نہ ہوگی، لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ تمہیں کیا مصیبت آ پڑی ہے؟ کیا تم کوئی ایسا شخص نہیں دیکھتے جو تمہارے رب کی طرف تمہاری سفارش کرے؟ (٢) چناچہ لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام ہیں، وہ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے آدم! آپ انسانوں کے باپ ہیں، اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا، اور آپ کے اندر اپنی جانب سے روح پھونکی، اور ملائکہ کو حکم دیا کہ آپ کو سجدہ کریں، ہمارے لئے اپنے رب کی طرف سفارش کریں، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ ہماری مصیبت کو نہیں دیکھتے؟ وہ فرمائیں گے کہ میرے رب آج ایسے غصہ میں ہیں کہ اس سے پہلے کبھی نہیں تھے، اور اس کے بعد کبھی نہ ہوں گے، اور اللہ نے مجھے درخت کے پاس جانے سے منع فرمایا تھا لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی، مجھے تو اپنی جان کی امان چاہیے، تم کسی اور کے پاس جاؤ تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ، (٣) چناچہ وہ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے، اور کہیں گے اے نوح! آپ زمین والوں کی طرف پہلے رسول ہیں، اور اللہ نے آپ کو شکر گزار بندے کا نام دیا ہے، ہمارے لئے اپنے رب کی طرف سفارش کیجیے، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا مصیبت آ پڑی ہے؟ نوح علیہ السلام ان سے فرمائیں گے کہ میرے رب آج ایسے غصے میں ہیں کہ کبھی اس سے پہلے نہ تھے اور کبھی آج کے بعد نہ ہوں گے، اور میرے پاس ایک دعا کا اختیار تھا جو میں نے اپنی قوم کے خلاف کردی، مجھے اپنی جان کی امان چاہیے، تم کسی اور کے پاس جاؤ، تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ (٤) چناچہ وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے ابراہیم! آپ اللہ کے نبی اور زمین والوں میں سے اس کے خلیل ہیں، ہمارے لئے اپنے رب کے ہاں سفارش فرمائیں، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم پر کیا مصیبت آ پڑی ہے؟ چناچہ ابراہیم علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ میرا رب آج ایسے غصے میں ہے کہ کبھی اس سے پہلے نہ تھا، اور نہ کبھی اس کے بعد اس جیسے غصے میں ہوگا، اور وہ اپنے جھوٹ ذکر فرمائیں گے، مجھے اپنی جان کی امان چاہیے، تم کسی اور کے پاس جاؤ، تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ (٥) چناچہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے، اور کہیں گے اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کو اپنی رسالت اور ہم کلامی کے ذریعے فضیلت بخشی، ہمارے لیے اپنے رب کی طرف سفارش کریں، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا مصیبت آ پڑی ہے؟ چناچہ موسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ آج میرا رب ایسے غصے میں ہے کہ کبھی اس سے پہلے نہ تھا او کبھی اس کے بعد نہ ہوگا، اور میں نے ایک ایسی جان کو قتل کیا تھا جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں تھا، مجھے اپنی جان کی امان چاہیے، تم کسی اور کے پاس جاؤ، تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ (٦) چناچہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ نے لوگوں سے پن گھوڑے میں بات کی، اور آپ اللہ کا کلمہ ہیں جو اس نے مریم کی طرف القاء کیا تھا، اور اس کی روح ہیں، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کر دیجئے، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا مصیبت آ پڑی ہے؟ چناچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ میرا رب آج ایسے غصے میں ہے کہ اس سے پہلے ایسے غصے میں نہیں تھا اور نہ اس کے بعد ایسے غصے میں ہوگا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا کوئی گناہ ذکر نہیں فرمایا، مجھے اپنی جان کی امان چاہیے، تم کسی اور کے پاس چلے جاؤ، تم محمد 5 کے پاس چلے جاؤ۔ (٧) چناچہ وہ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں، اور اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرمائے ہیں، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کیجیے، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا مصیبت آ پڑی ہے؟ میں عرش کے نیچے جاؤں گا اور اپنے رب کو سجدہ کرنے کے لئے گر جاؤں گا، پھر اللہ میرا سینہ کھولیں گے، اور مجھے اپنی حمدو ثناء القاء فرمائیں گے جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے کسی کو القاء نہیں فرمائی ہوگی، پھر کہا جائے گا اے محمد! اپنا سر اٹھائیے، سوال کیجیے، آپ کو عطا کیا جائے گا، سفارش کیجئے آپ کی سفارش قبو [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33835]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33835، ترقيم محمد عوامة 32332)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 33835 in Urdu