مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32333 ترقیم الشثری: -- 33836
٣٣٨٣٦ - حدثنا ابو معاوية عن عاصم عن ابي عثمان عن (سلمان) (١) قال: تعطى الشمس يوم القيامة حر عشر سنين، ثم (تدنى) (٢) من جماجم الناس حتى (تكون) (٣) قاب قوسين، (فيعرقون) (٤) حتى يرشح العرق قامة في الارض ثم يرتفع حتى يغرغر الرجل، قال سلمان: حتى يقول الرجل: غر غر، فإذا (راوا) (٥) ما هم فيه، قال بعضهم لبعض: الا ترون ما انتم فيه، ائتوا اباكم آدم فليشفع لكم إلى ربكم، فياتون آدم فيقولون: يا ابانا، انت الذي خلقك الله بيده ونفخ فيك من روحه واسكنك جنته، قم فاشفع لنا إلى ربنا فقد ترى ما نحن فيه، فيقول: لست ⦗٤٢٣⦘ (هناك) (٦) ولست بذاك، فاين الفعلة، فيقولون: إلى من تامرنا؟ فيقول: ائتوا عبدا جعله الله شاكرا، فياتون نوحا فيقولون: يا نبي الله، انت الذي جعلك الله شاكرا، وقد ترى ما نحن فيه، (فقم) (٧) (فاشفع لنا إلى ربك) (٨) فيقول: لست هناك ولست بذاك، فاين الفعلة؟ فيقولون إلى من تامرنا؟ فيقول: [ائتوا خليل الرحمن إبراهيم، فياتون إبراهيم فيقولون: يا خليل الرحمن، قد ترى ما نحن فيه فاشفع لنا إلى (ربك) (٩) ، فيقول: لست هناك ولست بذاك، فاين الفعلة؟ فيقولون: إلى من تامرنا؟] (١٠) فيقول: [ائتوا موسى عبدا اصطفاه الله برسالته وبكلامه، فياتون موسى فيقولون: قد ترى ما نحن فيه فاشفع لنا إلى ربنا، فيقول: ليست هناك ولست بذاك، فاين الفعلة؟ فيقولون: إلى من تامرنا؟ فيقول] (١١) : ائتوا كلمة الله وروحه عيسى (ابن مريم) (١٢) فياتون عيسى فيقولون: يا كلمة الله وروحه، قد ترى ما نحن فيه، فاشفع لنا إلى ربنا، فيقول: لست هناك ولست بذاك، فاين الفعلة؟ فيقولون: إلى من تامرنا؟ فيقول: ائتوا عبدا فتح الله به وختم، وغفر له ما تقدم من ذنبه وما تاخر، (ويجيء) (١٣) في هذا اليوم (آمنا) (١٤) ، فياتون محمدا ﷺ (١٥) فيقولون: يا نبي الله (انت ⦗٤٢٤⦘ الذي) (١٦) فتح الله بك وختم، وغفر لك ما تقدم من ذنبك وما تاخر، وجئت في هذا اليوم آمنا، وقد ترى ما نحن فيه، فاشفع لنا إلى ربنا، فيقول: انا صاحبكم فيخرج (يحوش) (١٧) الناس حتى ينتهي إلى باب الجنة، فياخذ بحلقة في الباب من ذهب، فيقرع الباب فيقال: من هذا؟ (فيقال) (١٨) : محمد، قال: (فيفتح) (١٩) له فيجيء حتى يقوم بين يدي الله فيستاذن (في السجود) (٢٠) فيؤذن له، فيسجد فينادى: يا محمد، ارفع راسك، سل تعطه، واشفع تشفع، وادع تجب، قال: فيفتح الله عليه من الثناء والتحميد والتمجيد ما لم يفتح لاحد من الخلائق، قال: فيقول:"رب امتي امتي"، ثم يستاذن في السجود فيؤذن له فيسجد، فيفتح الله عليه من الثناء والتحميد والتمجيد ما لم يفتح لاحد من الخلائق، وينادى: يا محمد (يا محمد) (٢١) ارفع راسك سل تعطه، واشفع تشفع، وادع تجب، فيرفع راسه (فيقول) (٢٢) :"يا رب امتي امتي"، -مرتين او ثلاثا- قال سلمان: فيشفع في كل من كان في قلبه مثقال حبة من حنطة من إيمان، او مثقال شعيرة من إيمان، او مثقال حبة خردل من إيمان، فذلكم المقام المحمود (٢٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (سليمان).
(٢) في [أ]: (تدن)، وفي [هـ]: (تدنو).
(٣) في [هـ]: (يكون).
(٤) في [هـ]: (فيغرقون).
(٥) في [هـ]: (رأوه).
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) سقط من: [أ، ب، هـ]، وفي [جـ]: (قم).
(٨) سقط من: [أ، ب]، وسقط من: [جـ، م]: (إلى ربك).
(٩) في [ك]: (ربنا).
(١٠) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب، جـ].
(١١) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(١٢) سقط من: [م].
(١٣) في [أ، ب، هـ]: (ونحن).
(١٤) في [هـ]: (أمناء).
(١٥) في [هـ]: زيادة (فيأتون محمدًا).
(١٦) سقط من: [أ، هـ].
(١٧) في [أ، ب]: (محق)، وفي [هـ]: (من بين)، وفي [س]: (يحوس)، وفي [ط]: (يجوس)؛ وانظر: المطالب العالية ١٨/ ٥٨٦ (٤٥٧٥).
(١٨) في [أ، هـ]: (فيقول).
(١٩) في [أ، ب]: (فيستفتح).
(٢٠) في [أ، ب]: (بالسجود).
(٢١) سقط من: [أ، هـ].
(٢٢) في [أ، ب، هـ]: (ويقول).
(٢٣) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٢٠٨٥٠)، وابن أبي عاصم في السنة (٨١٣)، والطبراني (٦١١٧)، وابن المبارك في الزهد (٣٤٧)، وهناد (٣٣٢).
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن سورج کو دس سال کی گرمی دے دی جائے گی، پھر اس کو لوگوں کے سروں کے قریب کردیا جائے گا یہاں تک کہ دو کمانوں کے درمیانی فاصلے کی دوری پر ہوگا، چناچہ لوگوں کو پسینہ آئے گا یہاں تک کہ پسینہ زمین میں قد آدم ہوجائے گا، پھر بلند ہوگا یہاں تک کہ آدمی ”غر غر“ کہے گا، سلمان فرماتے ہیں کہ یہاں تک کہ آدمی غر غر کہنے لگے گا، جب وہ اپنی حالت دیکھیں گے تو ایک دوسرے کو کہیں گے کہ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ تم کس حالت میں ہو؟ اپنے باپ آدم علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ تمہارے لئے تمہارے رب کی طرف سفارش کرے، چناچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے ہمارے باپ! آپ ہی ہیں جن کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا، اور آپ میں روح پھونکی، اور آپ کو اپنی جنت میں ٹھہرایا، اٹھیے اور ہمارے لئے سفارش کیجئے، کیا آپ ہماری حالت کو دیکھ رہے ہیں، وہ فرمائیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں، اور میں اس مرتبہ کا نہیں، تو میں ایسا کس طرح کروں؟ وہ کہیں گے کہ پھر آپ ہمیں کس کے پاس جانے کا حکم فرماتے ہیں؟ وہ فرمائیں گے کہ تم اس بندے کے پاس جاؤ جس کو اللہ نے شکر گذار قرار دیا ہے۔ (٢) چناچہ وہ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے اللہ کے نبی! آپ ہی ہیں جن کو اللہ نے شکر گذار قرار دیا ہے، اور آپ ہماری حالت دیکھ رہے ہیں، اٹھیے اور ہمارے لیے سفارش کیجئے، وہ فرمائیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں اور میرا یہ مرتبہ نہیں، پس میں یہ کیسے کروں، وہ کہیں گے کہ آپ ہمیں کس کے پاس جانے کا حکم دیتے ہیں؟ وہ فرمائیں گے کہ تم اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ (٣) چناچہ وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے اللہ کے خلیل! آپ ہماری حالت دیکھ رہے ہیں، پس ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کر دیجئے، وہ فرمائیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں، اور میں اس مرتبے کا نہیں، میں کیسے یہ کام کروں؟ وہ کہیں گے کہ آپ ہمیں کس کے پاس جانے کا حکم دیتے ہیں؟ وہ فرمائیں گے کہ تم موسیٰ کے پاس جاؤ، جن کو اللہ نے اپنی رسالت اور اپنی ہم کلامی کے لیے چنا تھا۔ (٤) چناچہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے، اور کہیں گے کہ آپ ہماری حالت دیکھ رہے ہیں پس ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کر دیجئے، وہ فرمائیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں اور میں اس مرتبے کا نہیں، میں ایسا کیسے کروں؟ وہ کہیں گے کہ آپ ہمیں کس کے پاس جانے کا حکم دیتے ہیں؟ وہ فرمائیں گے کہ تم اللہ کے کلمہ اور اس کی روح عیسیٰ علیہ السلام بن مریم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ (٥) چناچہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے اللہ کے کلمہ اور اے روح اللہ! آپ ہماری حالت دیکھ رہے ہیں پس ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کر دیجئے، وہ فرمائیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں اور میں اس مرتبے کا نہیں، ایسا کیسے کروں؟ وہ کہیں گے کہ آپ ہمیں کس کے پاس جانے کا حکم فرماتے ہیں؟ وہ فرمائیں گے کہ تم اس بندے کے پاس جاؤ جس کے ذریعے اللہ نے کھولا اور جس کے ذریعے مہر لگائی، اور اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرمائے، اور وہ اس دن امن کے ساتھ آئیں گے۔ (٦) چناچہ وہ محمد 5 کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے اللہ کے نبی 5! آپ ہی ہیں جس کے ذریعے اللہ نے کھولا اور جس کے ذریعے مہر لگائی، اور آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرمائے، اور اس دن آپ امن کے ساتھ آئے، اور آپ ہماری حالت دیکھ رہے ہیں، پس ہمارے رب سے ہماری سفارش کر دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ چناچہ آپ لوگوں کو ہٹاتے ہوئے نکلیں گے یہاں تک کہ جنت کے دروازے پر آئیں گے، اور درواز میں لگے ہوئے سونے کے حلقے کو پکڑیں گے اور دروازہ کھٹکھٹائیں گے، پس کہا جائے گا یہ کون ہے؟ جواب دیا جائے گا کہ یہ محمد ہیں، کہتے ہیں کہ پھر آپ کے لئے دروازہ کھول دیا جائے گا، پھر آپ آئیں گے اور اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے، اور سجدے کی اجازت چاہیں گے، اور آپ کو اجازت دی جائے گی تو آپ سجدہ کریں گے، چناچہ آپ کو پکارا جائے گا اے محمد! اپنا سر اٹھائیے، سوال کیجئے، آپ کو دیا جائے گا، سفارش کیجئے آپ کی سفارش قبول کی جائے گی، اور دعا کیجئے آپ کی دعا قبول کی جائے گی، کہتے ہیں کہ پھر اللہ آپ کے دل پر ایسی حمدو ثناء القاء فرمائیں گے جو مخلوقات میں کسی کو القاء نہیں ہوئی ہوگی، آپ فرمائیں گے اے رب! میری اُمت، میری امت، پھر سجدے کی اجازت مانگیں گے، پھر آپ کو اجازت دی جائے گی اور آپ سجدہ کریں گے، پھر اللہ آپ کے دل میں ایسی حمد وثناء القاء فرمائیں گے جو مخلوقات میں سے کسی کو القاء نہیں ہوئی ہوگی، اور پکارا جائے گا اے محمد! اے محمد! اپنا سر اٹھائیے، مانگیے آپ کو دیا جائے گا، سفارش کیجئے آپ کی سفارش قبول کی جائے گی، اور دعا کیجئے آپ کی دعا قبول کی جائے گی، آپ اپنا سر اٹھائیں گے اور فرمائیں گے اے رب! میری امت، میری امت، دو یا تین مرتبہ، حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ آپ کی س [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33836]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33836، ترقيم محمد عوامة 32333)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 33836 in Urdu