مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32367 ترقیم الشثری: -- 33870
٣٣٨٧٠ - حدثنا المحاربي عن عبد الواحد بن ايمن عن ابيه قال: قلت لجابر بن عبد الله: حدثني بحديث عن رسول الله ﷺ (١) سمعته منه ارويه عنك، فقال جابر: كنا مع رسول الله ﷺ يوم الخندق نحفر (٢) فلبثنا ثلاثة ايام لا نطعم طعاما ولا نقدر عليه، فعرضت في الخندق كدية، فجئت إلى رسول الله ﷺ فقلت: يا رسول الله هذه كدية قد عرضت في الخندق، فرششنا عليها الماء، قال: فقام رسول الله ﷺ وبطنه معصوب بحجر، فاخذ المعول او المسحاة ثم سمى ثلاثا ثم ضرب فعادت كثيبا اهيل، فلما رايت ذلك من رسول الله ﷺ (قلت: يا رسول الله) (٣) ائذن لي، فاذن لي، فجئت امراتي فقلت: ثكلتك امك، قد رايت من رسول الله ﷺ شيئا لا اصبر ⦗٤٤١⦘ عليه، فما عندك؟ قالت: عندي صاع من شعير وعناق، (قال) (٤) : (فطحنا) (٥) الشعير (وذبحنا) (٦) العناق وسلخناها وجعلناها في البرمة وعجنا الشعير، ثم رجعت إلى رسول الله ﷺ (فلبثت) (٧) ساعة واستاذنته (٨) فاذن لي فجئت، فإذا العجين قد امكن، فامرتها بالخبز، وجعلت القدر على الاثافي، ثم جئت رسول الله ﷺ (فساررته) (٩) فقلت: إن عندنا طعيما لنا، فإن رايت ان تقوم معي انت ورجل او رجلان معك فعلت، قال:"وكم هو؟" قلت: صاع من شعير وعناق، قال:"ارجع إلى اهلك وقل لها لا تنزعي البرمة من الاثافي ولا تخرجي الخبز من التنور حتى آتي"، ثم قال للناس:"قوموا إلى بيت جابر"، قال: فاستحييت حياء لا يعلمه إلا الله، فقلت لامراتي: ثكلتك امك جاءك رسول الله ﷺ باصحابه اجمعين، فقالت: اكان رسول الله ﷺ سالك عن الطعام؟ فقلت: نعم، فقالت: الله ورسوله اعلم، قد اخبرته بما كان عندنا، قال: فذهب عني بعض ما (١٠) اجد، قلت لها: صدقت، قال: فجاء رسول الله ﷺ فدخل ثم قال لاصحابه:"لا تضاغطوا"، ثم برك على التنور وعلى البرمة، ثم جعلنا ناخذ من التنور الخبز وناخذ اللحم من البرمة، فنثرد ونغرف ونقرب إليهم، وقال رسول الله ﷺ:"ليجلس على الصحفة سبعة او ثمانية"، قال: فلما اكلوا كشفنا التنور والبرمة فإذا هما قد عادا إلى املا ما كانا [فنثرد ⦗٤٤٢⦘ ونغرف ونقرب إليهم فلم نزل نفعل كذلك كلما فتحنا التنور وكشفنا عن البرمة وجدناهما املا ما كانا] (١١) ، حتى شبع المسلمون كلهم، وبقي طائفة من الطعام، فقال لنا رسول الله ﷺ:"إن الناس قد اصابتهم نحمصة فكلوا واطعموا"، قال: فلم نزل يومنا ناكل ونطعم، قال: واخبرني انهم كانوا ثمانمائة او ثلاثمائة (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: ﵇.
(٢) في [هـ]: زيادة (فيه).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [أ]: (قالت).
(٥) في [م]: (فطبخنا).
(٦) في [أ، ب]: (وطبخنا).
(٧) في [ب]: (فلبث).
(٨) في [هـ]: زيادة (الثانية).
(٩) في [أ، ب]: (فساورته).
(١٠) في [هـ]: زيادة (كنت).
(١١) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(١٢) صحيح؛ أخرجه ابن عبد البر في التمهيد ١/ ٢٩٢، وأبو عوانة (٨٩٣٨)، والبيهقي في دلائل النبوة ٣/ ٤٢٤، والفريابي (١٨)، وأصله عند البخاري (٤١٠١)، وأحمد (١٤٢٥٨).
ایمن فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کریں جو آپ نے ان سے سنی ہو میں اس کو آپ کے حوالے سے روایت کروں گا، حضرت جابر نے فرمایا کہ ہم خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خندق کھود رہے تھے، چناچہ ہم نے تین دن نہ کچھ کھایا اور نہ اس پر قادر تھے، چناچہ خندق میں ایک چٹان آڑے آگئی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! یہ چٹان خندق میں آڑھے آگئی ہے، ہم نے اس پر پانی چھڑکا، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا، آپ نے کدال کو یا پھاوڑے کو پکڑا، پھر تین مرتبہ بسم اللہ پڑھی، پھر اس پر ضرب لگائی تو وہ ریت کی طرح ہوگیا۔ (٢) جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت دیکھی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجئے، آپ نے مجھے اجازت دی، میں اپنی بیوی کے پاس آیا اور میں نے کہا تجھے تیری ماں روئے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی حالت دیکھی ہے جس پر مجھے صبر نہیں آتا، تمہارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا میرے پاس ایک صاع جو اور بکری کا چھ ماہ کا بچہ ہے، کہتے ہیں کہ ہم نے جو کو ٹے اور بکری کو ذبح کیا، اور ہم نے اس کی کھال اتاری اور اس کو ہنڈیا میں ڈال دیا اور جو کا آٹا گوندھا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ایک گھڑی ٹھہرا اور پھر آپ سے اجازت طلب کی آپ نے اجازت دے دی، پھر میں آیا توآٹا تیار تھا، میں نے اس کو روٹیاں پکانے کا کہا اور ہنڈیا کو چولہے پر چڑھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر سرگوشی کی، میں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تھوڑا سا کھانا ہے، اگر آپ اور آپ کے ساتھ ایک یا دو آدمی میرے ساتھ شریک آجائیں تو بہتر ہے، آپ نے پوچھا کہ وہ کتنا ہے؟ میں نے عرض کیا ایک صاع جو اور ایک بکری کا بچہ ہے، آپ نے فرمایا اپنے گھر جاؤ اور گھر والوں سے کہو کہ ہنڈیا کو چولہے سے نہ اتاریں اور روٹیوں کو تنور سے نہ نکالیں یہاں تک کہ میں آ جاؤں۔ (٣) پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جابر کے گھر کی طرف چلو، کہتے ہیں کہ مجھے ایسی شرم آئی کہ اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تیری ماں تجھے روئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے گھر تمام صحابہ کے ساتھ آ رہے ہیں، اس نے کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کھانے کا پوچھا تھا؟ میں نے کہا جی ہاں! اس نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ نے ان کو اپنا کھانا بتلا دیا ہے، میری پریشانی کم ہوگئی اور میں نے کہا کہ تم نے سچ کہا۔ (٤) کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اندر داخل ہوگئے اور آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ ہجوم نہ کرو، پھر آپ نے تنور اور ہنڈیا پر برکت کی دعا فرمائی، اور ہم تنور سے روٹی اور ہنڈیا سے گوشت لیتے رہے اور ثرید بنا کر لوگوں کو پیش کرتے رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک پیالے پر سات یا آٹھ آدمی بیٹھیں، جب انہوں نے کھالیا تو ہم نے تنور سے پردہ ہٹایا اور ہنڈیا سے ڈھکن اٹھایا، تو وہ پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے تھے، پھر ہم ثرید کرتے اور چمچ بھر کر اس میں ڈالتے اور ان کے قریب کرتے اور ایسا ہی کرتے رہے، جب بھی تنور کھولتے اور ہنڈیا کھولتے ان کو پہلے سے زیادہ بھرا ہوا پاتے، یہاں تک کہ تمام مسلمان سیر ہوگئے، اور کھانا بھی بچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ لوگوں کو بھوک لگی ہے اس لئے تم کھاؤ اور کھلاؤ، کہتے ہیں کہ ہم سارا دن کھاتے اور کھلاتے رہے، کہتے ہیں کہ ہم اس وقت آٹھ سو یا تین سو تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33870]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33870، ترقيم محمد عوامة 32367)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 33870 in Urdu