🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32413 ترقیم الشثری: -- 33916
٣٣٩١٦ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: اخبرنا إسماعيل بن عبد الملك عن ابي الزبير عن جابر قال: خرجت مع رسول الله ﷺ في سفر، وكان رسول الله ﷺ (١) لا ياتي البراز حتى يتغيب، فلا يرى، فنزلنا (بفلاة) (٢) من الارض ليس فيها (شجر) (٣) ولا علم فقال:"يا جابر [اجعل في إداوتك ماء"، ثم انطلق بنا قال: فانطلقنا حتى لا نرى، فإذا هو بشجرتين بينهما اربع اذرع فقال:"يا جابر] (٤) انطلق إلى هذه الشجرة فقل لها: (يقول) (٥) لك رسول الله ﷺ (٦) : الحقي بصاحبتك حتى اجلس خلفكما، فرجعت (إليها) (٧) فجلس رسول الله ﷺ خلفهما، ثم رجعتا ⦗٤٦٤⦘ إلى مكانهما، فركبنا ورسول الله ﷺ بيننا كانما على رءوسنا الطير (تظلنا) (٨) ، فعرضت لنا امراة معها صبي لها فقالت: يا رسول الله إن ابني هذا ياخذه الشيطان كل يوم مرارا، فوقف بها ثم تناول الصبي فجعله بينه وبين مقدم الرحل ثم قال:"اخسا عدو الله، انا رسول الله" -ثلاثا، ثم (دفعه) (٩) إليها، فلما قضينا سفرنا مررنا بذلك الموضع فعرضت لنا المراة معها صبيها ومعها كبشان (تسوقهما) (١٠) ، فقالت: يا رسول الله اقبل مني هديتي، فوالذي بعثك بالحق، ما عاد إليه بعد، فقال:" (خذوا) (١١) منها احدهما، وردوا عليها الآخر"، قال: ثم سرنا ورسول الله ﷺ بيننا كانما على رءوسنا الطير تظلنا، فإذا جمل (ناد) (١٢) حتى إذا كان بين (السماطين) (١٣) خر (ساجدا) (١٤) فجلس رسول الله ﷺ ثم قال:"علي الناس من صاحب هذا الجمل؟" فإذا فتية من الانصار قالوا: هو لنا يا رسول الله، قال:"فما شانه؟" قالوا: (سنينا) (١٥) عليه منذ عشرين سنة، وكانت به شحيمة فاردنا ان ننحره فنقسمه بين غلماننا فانفلت منا، (قال) (١٦) :"تبيعونه"، قالوا: لا، (بل) (١٧) ⦗٤٦٥⦘ هو لك يا رسول الله، قال:" (اما) (١٨) لا، فاحسنوا إليه حتى ياتيه اجله" (١٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: ﵇.
(٢) في [جـ]: (بفلاه).
(٣) في [هـ]: (شجرة).
(٤) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب، هـ].
(٥) في [أ]: (يقل).
(٦) سقطت من: [م].
(٧) في [أ، ب، جـ، م]: (إليهما).
(٨) في [م]: (يظلنا).
(٩) في [أ، ب]: (دفعها).
(١٠) في [م]: (يسوقهما).
(١١) في [أ، ب، جـ]: (خذ).
(١٢) في [أ، ب]: (باد)، وفي [م]: (ناة).
(١٣) في [ب]: (السماء طير).
(١٤) في [أ، ب، جـ، م]: (جالسًا).
(١٥) أي: سقينا عليه الزرع ورفعنا به الماء من البئر، وفي [ب]: (سما)، وفي [هـ]: (استنينا).
(١٦) في [أ، ب]: (فقال).
(١٧) سقطت من: [أ، ب].
(١٨) في [م]: (إما).
(١٩) ضعيف؛ لضعف إسماعيل بن عبد الملك، أخرجه الدارمي (١٧)، وابن عبد البر في التمهيد ١/ ٢٢٣، وعبد بن حميد (١٠٥٣)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ١٨، وابن عساكر ٤/ ٣٧٣، وبعضه مخرج عند الحاكم ١/ ٢٣٦ (٤٨٩)، وأبي داود (٢)، وابن ماجه (٣٣٥)، والبغوي (١٨٥)، وأبو نعيم في الدلائل (٢٥٤).

حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے نہ جاتے یہاں تک کہ اتنی دور چلے جائیں کہ نظر نہ آئیں، چناچہ ہم ایک چٹیل میدان میں اترے جس میں کوئی درخت یا ٹیلہ نہیں تھا، آپ نے فرمایا اے جابر! اپنے برتن میں پانی ڈالو، پھر ہمارے ساتھ چلو، کہتے ہیں کہ ہم چلے یہاں تک کہ ہم نظر نہیں آ رہے تھے، وہاں آپ کو دو درخت نظر آئے جن کے درمیان چار ہاتھ کا فاصلہ تھا، آپ نے فرمایا اے جابر! اس درخت کے پاس جاؤ اور اس کے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے فرما رہے ہیں کہ اپنے ساتھ والے درخت کے ساتھ مل جاؤ تاکہ میں تمہارے پیچھے بیٹھ سکوں، چناچہ وہ درخت دوسرے سے مل گیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے بیٹھ گئے، پھر وہ اپنی جگہ واپس چلے گئے۔ (٢) پھر ہم سوار ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے، گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے سایہ فگن ہیں، چناچہ ہمارا ایک عورت سے سامنا ہوا جس کے ساتھ اس کا بچہ تھا، اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے اس بیٹے کو ہر روز کئی مرتبہ شیطان پکڑ لیتا ہے، آپ اس کے لئے ٹھہرے اور بچے کو لیا اور اس کو اپنے اور کجاوے کے اگلے حصّے کے درمیان رکھا، پھر فرمایا اے اللہ کے دشمن! دفع ہوجا، میں اللہ کا رسول ہوں، تین مرتبہ اس طرح فرمایا، پھر بچہ عورت کو دے دیا، جب ہم اس سفر سے واپس ہوئے تو ہم اس جگہ سے گزرے وہ عورت ہمارے سامنے آئی اور اس کے پاس دو مینڈھے تھے جن کو وہ ہانک رہی تھی، اس نے عرض کی یا رسول اللہ مجھ سے یہ قبول کر لیجیے، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے وہ اس کے پاس دوبارہ نہیں آیا، آپ نے فرمایا اس سے ایک لے لو اور دوسرا واپس کردو۔ (٣) فرماتے ہیں کہ پھر ہم چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے، اس طرح تھے کہ گویا ہمارے سروں پر پرندے سایہ فگن ہیں، اچانک ایک اونٹ دو قطاروں کے درمیان بھاگتا ہوا آیا اور سجدے میں گرگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اے لوگو! کون اس اونٹ کا مالک ہے؟ معلوم ہوا کہ انصار کے چند جوان ہیں، کہنے لگے یا رسول اللہ! یہ ہمارا ہے، آپ نے فرمایا کہ اس کی کیا حالت ہے؟ وہ کہنے لگے کہ ہم نے بیس سال اس سے پانی لگوایا ہے، اور اس میں کچھ چربی ہے اس لیے ہم اس کو ذبح کرنا چاہتے ہیں اور اپنے غلاموں میں اس کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں، لیکن یہ ہم سے چھوٹ گیا، آپ نے فرمایا کہ کیا تم اس کو بیچتے ہو؟ وہ کہنے لگے نہیں، بلکہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کو ہدیہ ہے، آپ نے فرمایا کہ اگر بیچنا نہیں چاہتے تو اس کے ساتھ حسن سلوک کرو یہاں تک کہ اس کی موت آجائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33916]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33916، ترقيم محمد عوامة 32413)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 33916 in Urdu