🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. ما ذكر في موسى ﵇ من الفضل
وہ فضائل جو موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نقل کیے گئے ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32499 ترقیم الشثری: -- 34002
٣٤٠٠٢ - حدثنا ابن علية عن الجريري (١) عن ابي (السليل) (٢) عن قيس بن عباد وكان من اكثر الناس او من احدث الناس عن بني إسرائيل قال: فحدثنا ان الشرذمة الذين سماهم فرعون (من بني إسرائيل كانوا ستمائة الف، وكان مقدمة فرعون) (٣) سبعمائة الف كل رجل منهم على حصان، على راسه بيضة وبيده حربة (وهو) (٤) خلفهم في الدهم، فلما انتهى موسى ﵇ (٥) ببني إسرائيل إلى ⦗٤٩٩⦘ البحر، قالت (بنو) (٦) إسرائيل: (اين) (٧) ما وعدتنا؟ هذا البحر بين ايدينا، وهذا فرعون وجنوده قد دهمنا (او) (٨) من خلفنا، فقال موسى ﵇ (٩) للبحر: انفلق (ابا) (١٠) خالد، فقال: لا انفلق لك يا موسى، انا اقدم منك خلقا او اشد، قال: فنودي ان اضرب بعصاك البحر، (فضرب) (١١) فانفلق، قال الجريري: وكانوا (اثني) (١٢) عشر (١٣) سبطا، وكان لكل سبط منهم طريق، فلما انتهى اول جنود فرعون إلى البحر هابت الخيل (١٤) ، ومثل (لحصان) (١٥) منها فرس (وديق) (١٦) ، فوجد ويحها (فانسل) (١٧) فتبعه (الخيل) (١٨) ، فلما (تتام) (١٩) آخر جنود فرعون في البحر خرج آخر بني إسرائيل من البحر (فانصفق) (٢٠) عليهم، فقالت بنو إسرائيل: ما مات فرعون ⦗٥٠٠⦘ وما كان ليموت ابدا، قال: فلم يعد ان سمع الله تكذيبهم (نبيه) (٢١) ، فرمى به على الساحل كانه (ثور) (٢٢) احمر يراه بنو إسرائيل.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عن أبي).
(٢) في [أ، ب، م]: (السنابل)، وفي [جـ]: (السبايل).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٤) في [جـ، م]: (وهم).
(٥) سقط من: [م].
(٦) في [جـ]: (بني).
(٧) سقط من: [أ، ب].
(٨) سقط من: [هـ].
(٩) سقط من: [م].
(١٠) في [ب]: (أيا).
(١١) في [هـ]: (فضربه).
(١٢) في [جـ]: (اثنا).
(١٣) زيادة في: [جـ، م]: (فحسب).
(١٤) زيادة في: [جـ، م]: (ألهب)، وفي تفسير ابن جرير ١١/ ١٦٥ و ١٩/ ٧٦: (اللهب).
(١٥) في [جـ، م]: (بحصان).
(١٦) أي: تشتهي الفحل، في [أ، ب]: (ودنو).
(١٧) في [هـ]: (فأبسل).
(١٨) سقط من: [أ، ب].
(١٩) في [ب]: (تام).
(٢٠) في [أ، ب]: (فانطبق).
(٢١) في [أ، ب]: (نبئه).
(٢٢) في [جـ، م]: (ثوب).

ابو السّلیل حضرت قیس بن عبا د سے روایت کرتے ہیں جو بنی اسرائیل کے بارے میں سب سے زیادہ روایت کرنے والے تھے، کہتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں بیان کیا کہ وہ جماعت جن کے نام فرعون نے لکھے ہوئے تھے چھ لاکھ لوگ تھے اور فرعون کا مقدمۃ الجیش سات لاکھ افراد پر مشتمل تھا، اور ہر شخص گھوڑے پر سوار ہوتا اور اس کے سر پر خود ہوتا، اور اس کے ہاتھ میں نیزہ ہوتا، اور وہ ان لوگوں کے پیچھے پیچھے ہوتا، جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو سمندر تک لے گئے تو بنی اسرائیل کہنے لگے کہاں ہے جس کا تم نے ہم سے وعدہ کیا ہے، سمندر ہمارے سامنے ہے اور فرعون اور اس کا لشکر ہم پر چڑھا آ رہا ہے، یا کہا کہ ہمارے پیچھے، موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے سمندر! پھٹ جا، اس نے کہا اے موسیٰ میں آپ کے لیے نہیں پھٹتا، میں پیدائش میں آپ سے مقدم ہوں، یا کہا مضبوط ہوں، چناچہ آواز دی گئی کہ سمندر پر اپنا عصار مارو، آپ نے عصا مارا تو وہ پھٹ گیا۔ جُریری کہتے ہیں کہ وہ بارہ قبیلے تھے اور ہر قبیلے کا ایک راستہ جدا تھا، جب فرعون کے لشکر کا پہلا حصّہ سمندر تک پہنچا تو گھوڑے مشعلوں سے ڈر گئے، اور ہر گھوڑے کے سامنے ایک مادہ گھوڑی کی شکل آگئی چناچہ گھوڑے تیزی سے ان کے پیچھے دوڑنے لگے، جب لشکر کا آخری حصّہ سمندر میں پہنچ گیا تو بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل گئے، چناچہ سمندر ان پر مل گیا، بنی اسرائیل کہنے لگے کہ فرعون نہیں مرا، اور وہ تو کبھی نہیں مرے گا، چناچہ ابھی اللہ نے ان کی تکذیب ان کے نبی تک بھی نہ پہنچائی تھی کہ سمندر نے اس کو ساحل پر ڈال دیا گویا کہ وہ سرخ رنگ کا بیل تھا، اس کو بنی اسرائیل دیکھنے لگے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34002]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34002، ترقيم محمد عوامة 32499)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34002 in Urdu