مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
4. ما ذكر في موسى ﵇ من الفضل
وہ فضائل جو موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نقل کیے گئے ہیں
ترقیم عوامۃ: 32500 ترقیم الشثری: -- 34003
٣٤٠٠٣ - حدثنا شبابة عن يونس بن ابي إسحاق عن ابي إسحاق عن عمرو ابن ميمون عن عبد الله بن مسعود ان موسى ﵇ (١) حين اسرى ببني إسرائيل بلغ فرعون، فامر بشاة فذبحت، ثم قال: لا والله (لا يفرغ) (٢) من سلخها حتى يجتمع إلي ستمائة الف من القبط، قال: فانطلق موسى ﵇ (٣) حتى انتهى إلى البحر فقال له: (افرق) (٤) ، فقال البحر: لقد (استكثرت) (٥) يا موسى، وهل (فرقت) (٦) لاحد من ولد آدم (فافرق) (٧) لك؟ قال: ومع موسى ﵇ (٨) رجل على حصان (له) (٩) ، قال له ذاك الرجل (١٠) : اين امرت يا نبي الله؟ قال: ما امرت إلا بهذا الوجه، قال: فاقحم فرسه فسبح به، فخرج فقال: اين امرت (١١) يا نبي الله؟ قال ما امرت إلا بهذا الوجه، قال: والله ما كذبت ولا كذبت، ⦗٥٠١⦘ (قال) (١٢) : ثم اقتحم الثانية فسبح به ثم خرج، فقال: اين ما امرت (به) (١٣) يا نبي الله؟ قال: ما امرت إلا بهذا الوجه، قال: والله ما كذبت ولا كذبت، قال: فاوحى الله إلى (موسى ﵇ (١٤) ان اضرب بعصاك، فضرب موسى بعصاه فانفلق، فكان كل فرق كالطود العظيم كالجبل العظيم، فكان فيه (اثنا عشر) (١٥) طريقا لاثني عشر سبطا، لكل سبط طريق يتراؤن، فلما خرج اصحاب موسى ﵇ (١٦) وتتام اصحاب فرعون التقى البحر عليهم فاغرقهم (١٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
(٢) في [أ، ب]: (لا نفرغ).
(٣) سقط من: [م].
(٤) في [هـ]: (انفرق).
(٥) في [أ، ب]: (استكبرت).
(٦) في [هـ]: (انفرقت).
(٧) في [هـ]: (فأنفرق).
(٨) سقط من: [جـ، م].
(٩) سقط من: [هـ].
(١٠) زيادة في [جـ]: (له).
(١١) زيادة في [أ، ب، جـ]: (ما).
(١٢) سقط من: [جـ، م].
(١٣) سقط من: [جـ، م].
(١٤) سقط من: [أ، ب، م].
(١٥) في [أ، ب]: (اثنى عشر).
(١٦) سقط من: [جـ، م].
(١٧) صحيح؛ أخرجه ابن أبي حاتم كما في تفسير ابن كثير ٣/ ٣٣٨.
عمرو بن میمون حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو رات کے وقت لے کر چلے تو فرعون کا لشکر پہنچ گیا، آپ نے ایک بکری کو ذبح کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اس کی کھال اترنے سے پہلے چھ لاکھ قبطی میرے پاس جمع ہوجائیں، چناچہ موسیٰ علیہ السلام ان کو لے کر چلے یہاں تک کہ سمندر تک پہنچ گئے تو اس سے فرمایا پھٹ جا، سمندر نے کہا اے موسیٰ! تم تکبر کرتے پھرتے ہو، کیا میں اولادِ آدم میں کسی کے لیے پھٹا ہوں کہ تمہارے لیے پھٹ جاؤں؟ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایک آدمی گھوڑے پر سوار تھا، اس نے کہا اے اللہ کے نبی! آپ کو کس طرف آنے کا حکم ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے تو اس طرف ہی آنے کا حکم ہوا ہے، چناچہ اس نے اپنے گھوڑے کو سمندر میں ڈالا اور اس پر تیرنے لگا پھر نکلا اور کہا اے اللہ کے نبی! آپ کو کہاں جانے کا حکم ہوا ہے؟ ّ آپ نے فرمایا کہ مجھے تو اس طرف ہی آنے کا حکم ہوا ہے، اس نے کہا بخدا نہ آپ نے جھوٹ بولا اور نہ آپ کی تکذیب کی گئی، اس کے بعد اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو، آپ نے اس پر لاٹھی ماری تو وہ پھٹ گیا اور ہر راستہ بڑے ٹیلے کی طرح ہوگیا، چناچہ اس میں بارہ قبیلوں کے لئے بارہ راستے بن گئے، اور ہر قبیلے کا راستہ جدا تھا اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، جب موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی نکل گئے اور فرعون کے ساتھی سب کے سب سمندر میں پہنچ گئے تو سمندر ان پر مل گیا اور وہ سب ڈوب گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34003]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34003، ترقيم محمد عوامة 32500)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34003 in Urdu