🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. ما ذكر في موسى ﵇ من الفضل
وہ فضائل جو موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نقل کیے گئے ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32502 ترقیم الشثری: -- 34005
٣٤٠٠٥ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن، (١) ابي إسحاق عن عمارة بن عبد عن علي قال: (انطلق) (٢) موسى وهارون ﵉ (٣) وانطلق (شبر وشبير) (٤) فانتهوا إلى جبل فيه سرير فنام عليه هارون فقبض روحه، فرجع موسى ⦗٥٠٢⦘ إلى قومه فقالوا: انت قتلته حسدتنا على خلقه او على لينه، او كلمة نحوها -الشك من سفيان- قال: كيف اقتله ومعي (ابناه) (٥) قال: (فاختاروا (من شئتم) (٦) قال: فاختاروا) (٧) من كل سبط عشرة، قال: وذلك قوله: ﴿واختار موسى قومه سبعين رجلا﴾ فانتهوا إليه، فقالوا: من قتلك يا هارون؟ قال: ما قتلني احد، ولكن توفاني الله، قالوا: يا موسى! ما (نعصي) (٨) ؟ قال: فاخذتهم الرجفة، فجعل يتردد يمينا وشمالا ويقول: ﴿لو شئت (اهلكتهم) (٩) من قبل وإياي اتهلكنا بما فعل السفهاء منا إن هي إلا فتنتك﴾ [الاعراف: ١٥٥] ، قال: فدعا الله فاحياهم وجعلهم انبياء كلهم (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، م، هـ]، وانظر: مصادر التخريج وتفسير القرطبي ٧/ ٢٩٤.
(٢) في [ب]: (فانطلق).
(٣) سقط من: [م].
(٤) بياض في: [أ، ب].
(٥) في [ط، هـ]: (أبناؤه).
(٦) في [هـ]: (سبعين رجلًا).
(٧) سقط من: [م].
(٨) في [أ، ب]: (ما تقضي)، وفي [م]: (تعصي).
(٩) في [جـ]: (لأهلكتهم).
(١٠) حسن؛ عمارة قال أحمد عنه: "مستقيم الحديث"، وأخرجه الضياء (٦٨٦)، وابن أبي حاتم (٩٠١٨)، وابن جرير ٩/ ٧٣.

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ موسیٰ اور ہارون i اور شبر اور شبیر چلے اور ایک پہاڑ تک پہنچے جس میں ایک بستر تھا چناچہ ہارون علیہ السلام اس پر سو گئے، اور ان کی روح قبض ہوگئی، چناچہ موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے پاس واپس آئے، تو ان کی قوم کہنے لگی کہ ان کو آپ نے قتل کیا ہے، اور ان کے اخلاق کی وجہ سے آپ کو ہم پر حسد ہوا ہے، یا کہا کہ ان کی نرمی پر، یا اس جیسا کوئی کلمہ کہا، شک سفیان راوی کی طرف سے ہے، آپ نے فرمایا کہ میں ان کو کیسے قتل کرسکتا ہوں جب کہ میرے ساتھ ان کے بیٹے ہیں پھر آپ نے فرمایا کہ جن کو چاہو چن لو، چناچہ انہوں نے ہر قبیلے سے دس افراد چنے، یہی معنی ہے اللہ کے فرمان { وَاخْتَارَ مُوسَی قَوْمَہُ سَبْعِینَ رَجُلاً } کا، جب وہ ان کے پاس پہنچے تو ان سے پوچھا اے ہارون! آپ کو کس نے قتل کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے کسی نے قتل نہیں کیا بلکہ مجھے اللہ نے وفات دی، وہ کہنے لگے اے موسیٰ! آج کے بعد ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے، چناچہ ایک زلزلہ آیا اور وہ ہلاک ہوگئے، اور دائیں بائیں پریشان پھرنے لگے اور عرض کی { لَوْ شِئْت أہْلَکْتَہُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِیَّایَ أَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَہَائُ مِنَّا إنْ ہِیَ إلاَّ فِتْنَتُک } اس کے بعد انہوں نے دعا کی تو اللہ نے ان کو زندہ کردیا اور ان سب کو انبیاء بنادیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34005]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34005، ترقيم محمد عوامة 32502)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34005 in Urdu