🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. ما ذكر في موسى ﵇ من الفضل
وہ فضائل جو موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نقل کیے گئے ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32503 ترقیم الشثری: -- 34006
٣٤٠٠٦ - حدثنا عبيد الله قال: ثنا إسرائيل عن ابي إسحاق عن عمرو بن ميمون الاودي عن عمر بن الخطاب ان موسى ﵇ (١) لما ورد ماء مدين وجد عليه امة من الناس يسقون، فلما فرغوا اعادوا الصخرة على البئر ولا يطيق رفعها إلا عشرة رجال، فإذا هو بامراتين تذودان، قال: ما خطبكما؟ (فحدثتاه) (٢) ، فاتى الحجر فرفعه، ثم لم يستق إلا ذنوبا واحدا حتى رويت الغنم، ⦗٥٠٣⦘ ورجعت المراتان إلى ابيهما فحدثتاه، وتولى موسى ﵇ (٣) إلى الظل فقال: ﴿رب إني لما انزلت إلي من خير فقير﴾، قال: ﴿فجاءته إحداهما تمشي على استحياء﴾ واضعة ثوبها على وجهها، ﴿قالت إن ابي يدعوك ليجزيك اجر ما سقيت لنا﴾ قال لها: امشي خلفي وصفي لي الطريق، فإني اكره ان تصيب الريح ثوبك (٤) فيصف لي جسدك، فلما انتهى إلى ابيها قص عليه، قالت إحداهما: ﴿ياابت استاجره إن خير من استاجرت القوي الامين﴾ [القصص: ٢٤، ٢٥، ٢٦] ، قال: يا بنية ما علمك بامانته وقوته؟ قالت: اما قوته فرفعه الحجر ولا يطيقه إلا عشرة، واما امانته فقال لي: امشي خلفي وصفي لي الطريق فإني اخاف ان تصيب الريح ثوبك (فيصف) (٥) جسدك، فقال عمر: فاقبلت إليه ليست بسلفع من النساء لا خراجة ولا ولاجة، (واضعة) (٦) ثوبها على وجهها (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
(٢) في [أ، ب، جـ]: (فأتاه)، وفي [هـ]: (فأخبرتاه).
(٣) سقط من: [م].
(٤) في [ب]: (ثوبك) تكرار.
(٥) في [هـ]: (فتصف).
(٦) في [أ، ب]: (وضعت)، وفي [هـ]: (ومعه).
(٧) صحيح؛ أخرجه ابن أبي حاتم (١٦٨٢٧)، وابن الجوزي في المنتظم ١/ ٣٣٥، ومجاهد في التفسير ٢/ ٦٨٢.

عمرو بن میمون أودی روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ السلام مدین کے پانی پر پہنچے، تو اس پر بعض لوگوں کو پانی بھرتے ہوئے دیکھا، جب وہ فارغ ہوئے تو انہوں نے دوبارہ کنویں پر چٹان رکھ دی، اور اس کو دس سے کم آدمی نہیں اٹھا سکتے تھے، آپ نے وہاں دو عورتوں کو دیکھا جو اپنی بکریاں ہٹا رہی تھیں، آپ نے ان سے پوچھا کہ تمہاری کیا حالت ہے؟ انہوں نے آپ کو بتائی، تو آپ پتھر کے پاس آئے اور اس کو اٹھایا پھر ایک ہی ڈول کھینچا تھا کہ بکریاں سیراب ہوگئیں، اور وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس چلی گئیں، اور ان سے قصّہ بیان کیا، اور موسیٰ علیہ السلام سائے میں تشریف لے گئے اور فرمایا { رَبِّ إنِّی لِمَا أَنْزَلْتَ إلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیرٌ} کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک عورت حیاء کے ساتھ اپنے چہرے پر کپڑا رکھے ہوئے آپ کے پاس آئی، اور کہنے لگی کہ میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ تمہیں ہماری بکریوں کو پانی پلانے کی اجرت دیں، آپ نے فرمایا کہ میرے پیچھے چلو اور مجھے راستہ بتاتی رہو، کیونکہ مجھے یہ بات بری لگتی ہے کہ ہوا آپ کے کپڑوں پر لگے تو آپ کا جسم مجھے نظر آئے، جب وہ اپنے والد کے پاس پہنچی تو اس نے قصہ بیان کیا اور کہا ابا جان اس کو اجرت پر رکھ لیں، بیشک بہترین مزدور وہ ہے جو مضبوط اور امانت دار ہو، انہوں نے فرمایا اے بیٹی! تمہیں اس کی امانت اور طاقت کا کیسے علم ہوا؟ اس نے کہا قوت کا علم اس طرح ہوا کہ انہوں نے پتھر کو اکیلے اٹھایا جبکہ اس کو دس آدمی اٹھاتے ہیں، اور اس کی امانت کا علم اس طرح ہوا کہ اس نے مجھے کہا کہ میرے پیچھے چلو اور مجھے راستہ بتاؤ۔ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ تمہارے کپڑوں پر ہوا لگے اور مجھے تمہارا جسم نظر آئے۔ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ وہ ان کے پاس آئی اس طرح کہ جری عورتوں کی طرح نہیں تھی اور نہ بہت گھر سے نکلنے اور داخل ہونے والی تھی اور اپنے چہرے پر کپڑا رکھے ہوئے تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34006]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34006، ترقيم محمد عوامة 32503)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34006 in Urdu