مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
4. ما ذكر في موسى ﵇ من الفضل
وہ فضائل جو موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نقل کیے گئے ہیں
ترقیم عوامۃ: 32504 ترقیم الشثری: -- 34007
٣٤٠٠٧ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن المنهال عن سعيد بن جبير و (عن) (١) عبد الله بن الحارث عن ابن عباس قال لما اتى موسى قومه فامرهم بالزكاة فجمعهم قارون، فقال: هذا قد جاءكم بالصوم والصلاة وباشياء تطيقونها، تحتملون ان تعطوه اموالكم؟ قالوا: ما نحتمل ان نعطيه اموالنا، فما ترى؟ قال: ⦗٥٠٤⦘ ارى ان نرسل إلى بغي بني إسرائيل فنامرها ان ترميه على رؤوس (الاحبار) (٢) والناس بانه ارادها على نفسها، ففعلوا، فرمت موسى ﵇ (٣) على رؤوس الناس فدعا الله عليهم، فاوحى الله (تعالى) (٤) إلى الارض ان اطيعيه، فقال لها: موسى ﵇ (٥) خذيهم، فاخذتهم إلى (اعقابهم فجعلوا يقولون: يا موسى يا موسى، فقال: خذيهم فاخذتهم إلى ركبهم) (٦) قال: فجعلوا يقولون: يا موسى يا موسى قال: خذيهم فاخذتهم إلى حجزهم، فجعلوا يقولون: (يا موسى يا موسى) (٧) (فقال) (٨) : خذيهم، فاخذتهم إلى اعناقهم فجعلوا يقولون: يا موسى يا موسى، قال: فاخذتهم فغيبتهم، فاوحى الله (تعالى) (٩) إلى موسى ﵇ (١٠) : يا موسى! سالك عبادي وتضرعوا إليك فابيت ان تجيبهم، اما وعزتي لو (إياي دعوا) (١١) لاجبتهم (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك].
(٢) في [أ، ب، هـ]: (الأجناد).
(٣) سقط من: [م].
(٤) سقط من: [أ، ب، م].
(٥) سقط من: [م].
(٦) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٧) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٨) في [جـ]: (قال).
(٩) سقط من: [م].
(١٠) سقط من: [م].
(١١) في [أ، ط، هـ]: (أنهم دعوني)، وفي [س]: (إياي دعوني).
(١٢) صحيح؛ أخرجه الحاكم ٢/ ٤٠٨، وابن جرير ٢٠/ ١١٧، وابن عساكر ٦١/ ٩٨، وابن إسحاق في السيرة ٤/ ١٩٠ (٢٧٣).
عبد اللہ بن حارث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے پاس آئے اور ان کو زکوٰۃ کا حکم فرمایا تو قارون نے ان کو جمع کیا اور کہا کہ یہ تمہارے پاس ایسے حکم لائے یعنی نماز، روزہ وغیرہ کا جس کی تم طاقت رکھتے ہو، تو کیا تم اس کی طاقت رکھتے ہو کہ ان کو اپنے اموال دو؟ وہ کہنے لگے ہمیں اس کی طاقت نہیں، تمہارا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم بنو اسرائیل کی زانیہ کو پیغام بھیجیں اور اس کو حکم دیں کہ لوگوں کے سامنے ان پر تہمت لگائے کہ انہوں نے اس کی عزت پر حملہ کیا ہے، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اور اس عورت نے موسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کے سامنے تہمت لگائی آپ نے ان کے خلاف بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف وحی فرمائی کہ ان کی اطاعت کرو، چناچہ موسیٰ علیہ السلام نے اس سے کہا کہ ان کو پکڑ لے، اس نے ان کو گھٹنوں تک پکڑ لیا، چناچہ وہ کہنے لگے اے موسیٰ! اے موسیٰ! آپ نے پھر فرمایا کہ ان کو پکڑ لے، چناچہ اس نے ان کو گھٹنوں تک پکڑلیا، وہ کہنے لگے اے موسیٰ! اے موسیٰ! آپ نے پھر فرمایا کہ ان کو پکڑ لے، چناچہ اس نے ان کو کمر تک پکڑ لیا، پھر وہ کہنے لگے اے موسیٰ! اے موسیٰ! آپ نے فرمایا ان کو پکڑ لے، چناچہ اس نے ان کو گردن تک پکڑ لیا، وہ کہنے لگے اے موسیٰ! اے موسیٰ! پھر زمین نے ان کو غائب کردیا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ اے موسیٰ! تم سے میرے بندوں نے سوال کیا اور تمہارے سامنے گریہ زاری کی، لیکن تم نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا، میری عزت کی قسم! اگر وہ مجھے پکارتے تو میں ان کی دعا قبول کرلیتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34007]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34007، ترقيم محمد عوامة 32504)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34007 in Urdu