مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
5. ما أعطه الله سليمان بن داود ﵇
وہ فضیلتیں جو اللہ نے سلیمان علیہ السلام کو عطا فرمائیں
ترقیم عوامۃ: 32514 ترقیم الشثری: -- 34017
٣٤٠١٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن عبد الله بن شداد قال: كان كرسي سليمان يوضع على الريح وكراسي من اراد من الجن والإنس، فاحتاج إلى الماء فلم يعلموا بمكانه، وتفقد الطير عند ذلك فلم يجد الهدهد فتوعده، وكان عذابه نتفه وتشميسه، قال: فلما جاء استقبله الطير فقالوا: (قد توعدك) (١) سليمان، فقال الهدهد: (٢) استثنى، قالوا: نعم، الا ان (يجيء) (٣) بعذر، وكان عذره ان جاء بخبر صاحبة سبا قال: فكتب إليهم (٤) سليمان: ﴿ (٥) بسم الله الرحمن الرحيم (٣٠) الا تعلوا ⦗٥٠٩⦘ علي واتوني مسلمين﴾، قال: فاقبلت بلقيس، فلما كانت على قدر فرسخ قال سليمان: ﴿ايكم ياتيني بعرشها قبل ان ياتوني مسلمين﴾ قال عفريت من الجن: ﴿انا آتيك به قبل ان تقوم من مقامك وإني عليه لقوي امين﴾ قال: فقال: (سليمان) (٦) اريد اعجل من ذلك، (قال) (٧) الذي عنده علم من الكتاب: ﴿انا آتيك به قبل ان يرتد إليك طرفك﴾ [النمل: ٣٠ - ٣١، ٣٨، ٣٩، ٤٠] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (قد ترعدك).
(٢) في [هـ]: زيادة (هل).
(٣) في [م]: (تجيء).
(٤) في [أ، هـ]: زيادة (أنه من).
(٥) في [أ، ب]: (وإنه).
(٦) سقط من: [أ، هـ].
(٧) في [هـ]: (فقال).
حضرت عبد اللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی کرسی ہوا پر رکھی جاتی اور اس کے ساتھ جن جنات اور انسانوں کو آپ چاہتے ان کی کرسیاں رکھی جاتیں، آپ کو پانی کی ضرورت ہوئی لیکن لوگوں کو اس کا علم نہ تھا، چناچہ آپ نے اس وقت پرندوں کو تلاش کیا تو ہد ہد کو نہ پایا، آپ نے اس کو دھمکی دی، اور ا س کی سزا یہ تھی کہ اس کے پر اکھیڑ کر اس کو دھوپ میں رکھا جائے، جب وہ آیا تو پرندوں نے اس سے ملاقات کی اور کہا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے تمہارے لیے سزا کا اعلان کیا ہے، ہدہد نے کہا کیا انہوں نے کوئی استثناء کیا ہے؟ وہ کہنے لگے جی ہاں! یہ کہ آپ کوئی عذر بیان کریں، اور اس کا عذر یہ تھا کہ وہ ملکۂ سبا کا قصہ دیکھ کر آیا تھا، چناچہ سلیمان علیہ السلام نے ان کو لکھا {إِنَّہُ مِن سُلَیْمَانَ وَإِنَّہُ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ، أَلاَّ تَعْلُوا عَلَیَّ وَأْتُونِی مُسْلِمِینَ } کہتے ہیں کہ بلقیس چلی، جب وہ ایک فرسخ کی مسافت پر تھی تو سلیمان علیہ السلام نے فرمایا { أَیُّکُمْ یَأْتِینِی بِعَرْشِہَا قَبْلَ أَن یَأْتُونِی مُسْلِمِینَ، قَالَ عِفْریتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِیکَ بِہِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِکَ وَإِنِّی عَلَیْہِ لَقَوِیٌّ أَمِینٌ} حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا میں اس سے زیادہ جلدی چاہتا ہوں، { قَالَ الَّذِی عِندَہُ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتَابِ أَنَا آتِیکَ بِہِ قَبْلَ أَن یَرْتَدَّ إِلَیْکَ طَرْفُکَ }، کہتے ہیں کہ مجھے منصور نے مجاہد کے حوالے سے بیان کیا کہ وہ زمین کے نیچے ایک سرنگ میں داخل ہوئے اور اس کو لے آئے، حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا اس کو تبدیل کردو۔ { قِیلَ لَہَا ادْخُلِی الصَّرْحَ فَلَمَّا رَأَتْہُ حَسِبَتْہُ لُجَّۃً وَکَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْہَا } چناچہ دیکھا وہ بہت بال والی عورت تھیں، حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کو کیا چیز ختم کرے گی؟ لوگوں نے کہا چونا چناچہ اس وقت چونے کا استعمال ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34017]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34017، ترقيم محمد عوامة 32514)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34017 in Urdu