🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. ما ذكر في فضل عثمان ابن عفان ﵁
ان روایات کا بیان جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32700 ترقیم الشثری: -- 34206
٣٤٢٠٦ - حدثنا ابو اسامة قال: ثنا إسماعيل اخبرنا قيس قال: اخبرنا ابو سهلة مولى عثمان قال: قال رسول الله ﷺ في مرضه:"وددت ان عندي بعض اصحابي"، فقالت عائشة: ادعو لك ابا بكر؟ (قالت) (١) : فسكت، فعرفت انه لا يريده، فقلت: ادعو لك عمر؟ فسكت، فعرفت انه لا يريده، قلت: فادعو لك ⦗٤٣⦘ عليا؟ فسكت، فعرفت انه لا يريده، قلت: فادعو لك عثمان بن عفان؟ قال:"نعم"، فدعوته، فلما جاء اشار إلي النبي ﷺ ان تباعدي، فجاء فجلس إلى النبي ﷺ فجعل رسول الله ﷺ يقول له:"ولون عثمان يتغير" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (قلت).
(٢) مرسل؛ أبو سهلة تابعي، أخرجه أحمد (٤٠٧)، والترمذي (٣٧١١)، وابن ماجه (١١٣)، وابن حبان (٦٩١٨)، والخلال في السنة (٤١٩)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٥٨، وابن سعد ٣/ ٦٦، وأبو يعلى (٤٨٠٥)، والحاكم ٣/ ٩٩، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٣٩١، والحميدي (٢٦٨)، وإسحاق (١٧٧٦)، وابن أبي عاصم في السنة (١١٧٦).

حضرت ابو سھلہ رضی اللہ عنہ جو کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں ارشاد فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس میرا ایک ساتھی ہو۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کیا میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا دوں؟ آپ فرماتی ہیں۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بلانا نہیں چاہتے۔ تو میں نے عرض کیا: کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کو بلا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بھی بلانا نہیں چاہتے۔ میں نے عرض کیا: کہ میں علی رضی اللہ عنہ کو بلا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بھی بلانا نہیں چاہتے۔ میں نے عرض کیا: میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بلا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! پس میں نے ان کو بلوا دیا۔ جب وہ حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دور ہونے کے لیے اشارہ کیا۔ پس وہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کچھ فرماتے رہے اور حضرت عثمان کا رنگ تبدیل ہو رہا تھا۔ حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سھلہ رحمہ اللہ نے مجھے بتلایا: کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ گھر میں محصور تھے۔ تو ان کو کہا گیا: آپ رضی اللہ عنہ قتال کیوں نہیں کرتے؟! تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک وعدہ لیا تھا اور میں اس پر صبر کرنے والا ہوں۔ حضرت ابو سھلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہ م کا گما ن تھا کہ وہ اسی مجلس میں وعدہ ہو اتھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34206]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34206، ترقيم محمد عوامة 32700)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34206 in Urdu