مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
17. ما ذكر في فضل عثمان ابن عفان ﵁
ان روایات کا بیان جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32686 ترقیم الشثری: -- 34192
٣٤١٩٢ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن حصين (عن) (١) عمر بن جاوان عن الاحنف بن قيس قال: قدمنا المدينة فجاء عثمان (فقيل: هذا عثمان) (٢) ، فدخل ⦗٣٨⦘ عليه (ملية) (٣) له صفراء قد قنع بها راسه، قال: هاهنا علي؟ قالوا: نعم، قال: هاهنا طلحة؟ قالوا نعم، قال: هاهنا الزبير؟ قالوا: نعم، قال: هاهنا سعد، قالوا: نعم، قال: انشدكم بالله الذي لا إله إلا هو، (اتعلمون) (٤) ان رسول الله ﷺ قال:"من يبتاع (مربد) (٥) بني فلان غفر الله (له) (٦) "، فابتعته بعشرين الفا او خمسة وعشرين الفا فاتيت النبي ﷺ فقلت: قد ابتعته، فقال:"اجعله في مسجدنا واجره لك"، قال: فقالوا: اللهم نعم، قال: فقال: انشدكم بالله الذي لا إله إلا هو اتعلمون ان رسول الله ﷺ قال:"من يبتاع بئر رومة غفر الله له"، فابتعتها بكذا وكذا ثم اتيته فقلت قد ابتعتها، فقال:"اجعلها سقاية للمسلمين واجرها لك" (٧) ، قالوا: اللهم نعم، قال: انشدكم بالله الذي لا إله إلا هو، اتعلمون ان رسول الله ﷺ نظر في وجوه القوم فقال:"من (جهز) (٨) هولاء غفر الله له"، -يعني جيش العسرة- فجهزتهم حتى لم يفقدوا عقالا ولا خطاما؟ قالوا: اللهم نعم، قال: قال: اللهم اشهد -ثلاثا (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (بن).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) في [هـ]: (ملاءة).
(٤) في [أ، ب، م]: (تعلموا أن).
(٥) في [ب]: (من).
(٦) سقط من: [م].
(٧) في [م]: زيادة (قال).
(٨) في [هـ]: (يجهز).
(٩) مجهول؛ لجهالة عمر بن جاوان، أخرجه أحمد (٥١١)، والنسائي ٦/ ٤٦، وابن خزيمة (٢٤٨٧)، وابن حبان (٦٩٢٠)، كما أخرجه الترمذي (٣٧٠٣)، والضياء (٣٥٠)، وابن أبي عاصم في السنة (١٣٠٣)، والطيالسي (٨٢)، والبزار (٣٩١)، والدارقطني ٤/ ١٩٥، وابن عساكر ٣٩/ ٣٣١، وابن شبه (٤٤٤)، وابن سعد ٣/ ٥٦، والآجري في الشريعة (١٤١٦)، والبيهقي في الدلائل ٥/ ٢١٥، والخطابي في غريب الحديث ٣/ ٣٩.
حضرت عمر بن جاوان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت احنف بن قیس رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: ہم لوگ مدینہ میں تھے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ کہا گیا کہ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اس حال میں کہ آپ رضی اللہ عنہ پر زرد رنگ کی چادر تھی جس سے آپ رضی اللہ عنہ نے اپنا سر ڈھانپا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہاں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہاں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہاں حضرت سعد رضی اللہ عنہ ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم لوگوں کو قسم دے کر پوچھتا ہوں اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ کیا تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کو جو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ جو شخص فلاں قبیلہ کے اونٹ کا باڑ ا خریدے گا تو اللہ اس کی مغفرت فرما دیں گے تو میں نے وہ باڑا بیس ہزار یا پچیس ہزار میں خریدا۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا: تحقیق میں نے وہ باڑا خرید لیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس جگہ کو ہماری مسجد کے لیے وقف کردو اور اس کا اجر وثواب تمہیں ملے گا؟ راوی کہتے ہیں: ان سب حضرات نے یک زبان ہو کر کہا: اللہ کی قسم! ایسی ہی بات ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم لوگوں کو قسم دیتا ہوں اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں: کیا تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے متعلق جانتے ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص رومہ میٹھے پانی کا کنواں خریدے گا تو اللہ اس کی مغفرت فرما دیں گے۔ تو میں نے اس کنویں کو اتنے اور اتنے روپوں میں خریدا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا: تحقیق میں نے اس کو خرید لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کردو اور اس کا اجر تمہیں ملے گا؟ راوی کہتے ہیں: ان سب حضرات نے یک زبان ہو کر فرمایا: اللہ کی قسم! ایسی ہی بات ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم لوگوں کو قسم دے کر پوچھتا ہوں اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کیا تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کو جانتے ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے چہرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کہ کون شخص ہے جو ان لوگوں کے سفر کا سامان مہیا کرے گا۔ اللہ اس شخص کی مغفرت فرما دیں گے۔ یعنی غزوہ تبوک میں۔ تو میں نے ان سب کے لیے سامان مہیا کیا یہاں تک کہ ان لوگوں کو اونٹ کی نکیل اور اونٹ کے پیر کی رسی کی بھی کمی نہیں ہوئی؟۔ ان سب حضرات نے یک زبان ہو کر فرمایا: اللہ کی قسم! ایسی ہی بات ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34192]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34192، ترقيم محمد عوامة 32686)
ترقیم عوامۃ: 32687 ترقیم الشثری: -- 34193
٣٤١٩٣ - حدثنا ابو اسامة قال: ثنا كهمس بن الحسن عن عبد الله بن شقيق قال: حدثني (هرم) (١) بن الحارث واسامة بن (خريم) (٢) وكانا (يغازيان) (٣) فحدثاني حديثا ولا يشعر كل واحد منهما ان صاحبه (حدثنيه) (٤) عن مرة (البهزي) (٥) قال: بينما نحن مع نبي الله ﷺ ذات يوم في طريق من طرق المدينة فقال:"كيف تصنعون في فتنة (تحور) (٦) في اقطار الارض كانها صياصي (بقر) (٧) ؟" (قالوا) (٨) : فنصنع ماذا يا رسول الله؟ قال:"عليكم بهذا (و) (٩) اصحابه"، (قال) (١٠) : فاسرعت حتى عطفت على الرجل، فقلت: هذا يا نبي الله (قال: هذا) (١١) فإذا هو عثمان (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (هرمز)، وفي [هـ]: (هرمي).
(٢) في [أ، ب، م]: (خزيم)، في [هـ]: (حزيم)، وفي [جـ]: (حرم).
(٣) في [أ، ب]: (يعاريان).
(٤) في [أ، ب]: (حدثني).
(٥) في [أ، ب]: (البهري).
(٦) في [أ، ب]: (تجود)، وفي [هـ]: (تثور).
(٧) في [هـ]: (هر).
(٨) في [م]: (قال).
(٩) في [ب]: (أو).
(١٠) سقط من: [أ، ب].
(١١) سقط من: [أ، ب].
(١٢) مجهول؛ لجهالة هرم بن الحارث، وأسامة بن خريم، أخرجه أحمد (٢٠٣٥٣)، والطبراني ٢٠/ (٧٥٢)، وابن أبي عاصم في السنة (١٢٩٦) وفي الآحاد (١٣٨٠)، وابن قانع في معجم الصحابة ٣/ ٥٧، وبنحوه الخلال في السنة (٤٢٥)، والترمذي (٣٧٠٤)، والحاكم ٣/ ١٠٢، وابن عساكر ٣٩/ ٢٧١.
حضرت مرۃ البھزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک دن مدینہ کی گلیوں میں سے ایک گلی میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کا کیا حال ہوگا اس فتنہ میں جو اطراف زمین میں پھوٹ پڑے گا گویا کہ وہ گائے کے دو سینگوں کی طرح ہوگا۔ صحابہ رضی اللہ عنہ م نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول 5! ہم لوگ اس صورت میں کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں پر لازم ہے اس شخص کی اور اس کی جماعت کی پیروی کرنا۔ راوی کہتے ہیں: پس میں نے جلدی کی یہاں تک کہ میں اس آدمی کے پاس پہنچ گیا پھر میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی 5! یہ شخص؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی شخص ہے۔ تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34193]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34193، ترقيم محمد عوامة 32687)
ترقیم عوامۃ: 32688 ترقیم الشثری: -- 34194
٣٤١٩٤ - حدثنا إسماعيل ابن علية عن هشام عن ابن سيرين عن كعب بن عجرة ان رسول الله ﷺ ذكر فتنة (فقربها) (١) ، فمر رجل مقنع فقال:"هذا واصحابه يومئذ على الهدى"، فانطلق الرجل فاخذ بمنكبيه واقبل بوجهه إلى رسول الله ﷺ فقال: هذا؟ قال:"نعم"، فإذا هو عثمان (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (يقربها).
(٢) منقطع؛ ابن سيرين لم يدرك كعب بن عجرة، أخرجه أحمد (١٨١٢٩)، وابن ماجه (١١١)، والطبراني ١٩/ (٣٦٠)، وقيل: صوابه عن كعب بن مرة، كما أخرجه أحمد (١٨٠٦٨)، والترمذي (٣٧٠٤)، والحاكم ٣/ ١٠٢.
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ کا ذکر فرمایا: اور اس کو بہت قریب بتلایا۔ پھر ایک شخص گزرا جس کا سر چادر میں چھپا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس دن یہ شخص اور اس کی جماعت ہدایت پر ہوگی۔ پس ایک آدمی اس کے پیچھے گیا اور اس کو کندھے سے پکڑ کر اس کا چہرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھیرا اور پوچھا: یہ شخص؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! پس وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34194]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34194، ترقيم محمد عوامة 32688)
ترقیم عوامۃ: 32689 ترقیم الشثری: -- 34195
٣٤١٩٥ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن ابي قلابة قال: لما قتل عثمان قام خطباء بإيلياء فقام من آخرهم رجل من اصحاب النبي ﷺ يقال له مرة بن كعب فقال: لولا حديث سمعته من رسول الله ﷺ ما قمت، إن رسول الله ﷺ ذكر فتنة احسبه قال:"فقربها"، فمر رجل مقنع فقال رسول الله ﷺ:"هذا واصحابه يومئذ على الحق"، فانطلقت فاخذت بمنكبيه، فاقبلت بوجهه إلى رسول الله ﷺ فقلت: هذا؟ فقال:"نعم"، فإذا هو عثمان (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ أبو قلابة لم يدرك مقتل عثمان، أخرجه أحمد (١٨٠٦١)، والخلال في السنة (٤٢٥)، وابن قانع ٣/ ٥٧، والحاكم ٣/ ١٠٢، والترمذي (٣٧٠٤)، وبنحوه الطبراني ٢٠/ (٧٥٢)، وابن أبي عاصم في السنة (١٢٩٦).
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا تو ایلیاء مقام پر بہت سے خطیبوں نے خطاب کیا پس ان کے آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی جن کا نام کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ تھا وہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اگر یہ حدیث میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنی ہوتی تو میں کبھی کھڑا نہ ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ کا ذکر کیا۔ میر اگمان ہے کہ اس کو بہت قریب بتلایا تو ایک آدمی جس کا سر چادر سے چھپا ہوا تھا وہ گزرا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس دن یہ شخص اور ا س کی جماعت حق پر ہوگی۔ پس میں اس شخص کے پیچھے گیا پھر میں نے اس کو کندھوں سے پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کے چہرے کو پھیرا اور پوچھا: یہ شخص؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ پس وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34195]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34195، ترقيم محمد عوامة 32689)
ترقیم عوامۃ: 32690 ترقیم الشثری: -- 34196
٣٤١٩٦ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا صدقة بن المثنى قال: سمعت جدي (رياح) (١) بن الحارث عن سعيد بن زيد قال: سمعت رسول الله ﷺ (٢) :"عثمان في الجنة" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (رباح).
(٢) زيادة في [أ، ب، جـ، م]: (يقول).
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٦٢٩)، وأبو داود (٤٦٥٠)، وابن ماجه (١٣٣)، والنسائي في الكبرى (٨٢١٩)، وسبق ١٢/ ١٢، وانظر: ١٢/ ٨٨.
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ عثمان جنت میں ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34196]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34196، ترقيم محمد عوامة 32690)
ترقیم عوامۃ: 32691 ترقیم الشثری: -- 34197
٣٤١٩٧ - حدثنا ابن علية عن خالد عن ابي قلابة قال رسول الله ﷺ:"اصدق امتي حياء عثمان" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ أبو قلابة تابعي، أخرجه عبد الرزاق (٢٠٣٨٧)، وقد ورد من طريق أبي قلابة عن أنس مرفوعًا، أخرجه النسائي (٨٢٤٢)، وابن ماجه (١٥٤)، والترمذي (٣٧٩١)، وأحمد (١٢٩٢٧)، والبغوي في التفسير ٤/ ٢٠٧، والضياء (٢٢٤١)، والحاكم ٣/ ٤٧٧، وابن حبان (٧١٣١)، والبيهقي ٦/ ٢١٠، والطيالسي (٢٠٩٦)، وأبو نعيم في الحلية ٣/ ١٢٢.
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں سب سے زیادہ حیادار عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34197]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34197، ترقيم محمد عوامة 32691)
ترقیم عوامۃ: 32692 ترقیم الشثری: -- 34198
٣٤١٩٨ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن ابي قلابة ان رجلا من قريش يقال له: ثمامة كان على صنعاء، فلما جاءه قتل عثمان بكى فاطال البكاء، فلما افاق قال: اليوم انتزعت النبوة او قال: خلافة النبوة، وصارت ملكا وجبرية، من غلب على شيء اكله (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ أبو قلابة لم يدرك مقتل عثمان.
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قریش کا ایک آدمی جس کو ثمامہ کہتے تھے؛ وہ صنعاء میں تھا جب اس کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کی خبر پہنچی پس وہ رونے لگا اور کافی دیر تک روتا رہا۔ جب وہ خاموش ہوا تو کہنے لگا۔ آج نبوت یا نبوت کی خلافت چھین لی گئی۔ اور بادشاہت اور ظلم ہوگا۔ جو جس چیز پر غالب آئے گا اس کو کھاجائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34198]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34198، ترقيم محمد عوامة 32692)
ترقیم عوامۃ: 32693 ترقیم الشثری: -- 34199
٣٤١٩٩ - حدثنا محمد بن بشر العبدي عن مسعر عن عبد الملك بن عمير عن موسى بن طلحة قال: قالت عائشة: كان عثمان احصنهم فرجا واوصلهم (للرحم) (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (رحمًا).
(٢) صحيح.
حضرت موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے اور سب سے زیادہ صلہ رحمی فرمانے والے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34199]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34199، ترقيم محمد عوامة 32693)
ترقیم عوامۃ: 32694 ترقیم الشثری: -- 34200
٣٤٢٠٠ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة ان عثمان حمل في جيش العسرة على الف بعير إلا سبعين كلها خيلا (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ قتادة تابعي.
حضرت سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت قتادہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: کہ بلاشبہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک میں مجاہدین کو ستر کم ایک ہزار اونٹوں پر سوار کیا۔ اور ہزار کے عدد کو ستر گھوڑوں سے مکمل کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34200]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34200، ترقيم محمد عوامة 32694)
ترقیم عوامۃ: 32695 ترقیم الشثری: -- 34201
٣٤٢٠١ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن عبد الله بن سنان قال: قال عبد الله حين استخلف عثمان: ما الونا عن (اعلاها ذا) (١) فوق (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (أعلى هذا)، والمراد: أننا لم نقصر في اختيار عثمان حيث وليناه خيارنا فهو بمثابة أعلى السهم.
(٢) صحيح.
حضرت عبد اللہ بن سنان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جب خلیفہ بنادیا گیا تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ہم نے اپنے میں سے سب سے بلند مرتبہ کو منتخب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34201]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34201، ترقيم محمد عوامة 32695)