مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
17. ما ذكر في فضل عثمان ابن عفان ﵁
ان روایات کا بیان جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32704 ترقیم الشثری: -- 34211
٣٤٢١١ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن كليب بن وائل عن حبيب بن ابي مليكة قال: سال رجل ابن عمر عن عثمان فقال: شهد بدرا؟ فقال: لا، فقال: هل شهد بيعة الرضوان؟ فقال: لا، قال: فهل تولى يوم التقى الجمعان؟ قال: نعم، قال: ثم ذهب الرجل، فقيل لابن عمر: إن هذا يزعم انك (عبت) (١) عثمان، قال: ردوه (علي) (٢) ، (قال) (٣) : (فردوه) (٤) عليه، فقال (له) (٥) : هل عقلت ما قلت لك؟ قال: نعم، قال: سالتني هل شهد عثمان بدرا فقلت لك: لا، فقال: إن رسول الله ﷺ قال:"اللهم إن عثمان في حاجتك وحاجة رسولك (٦) "، فضرب له (بسهمه) (٧) وسالتني هل شهد بيعة الرضوان، قال: ⦗٤٥⦘ فقلت لك: لا، وإن رسول الله ﷺ بعثه إلى الاحزاب ليوادعونا (ويسالمونا) (٨) فابوا وإن رسول الله ﷺ بايع له وقال:"اللهم إن عثمان في حاجتك وحاجة رسولك ﷺ (٩) "، ثم مسح بإحدى يديه على الاخرى فبايع له، وسالتني هل كان عثمان تولى يوم التقى الجمعان قال: فقلت: نعم، وإن الله قال: ﴿إن الذين تولوا منكم يوم التقى الجمعان إنما استزلهم الشيطان ببعض ما كسبوا ولقد عفا الله عنهم﴾ [آل عمران: ١٥٥] ، فاذهب فاجهد علي جهدك (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عتبت).
(٢) زيادة في [م]: (عليّ).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [م]: (فرد)، وفي [أ، ب، جـ]: (فردّه).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [جـ] زيادة: ﷺ
(٧) في [م]: (بسهم).
(٨) في [أ، ب]: (يسالونا).
(٩) سقط من: [م].
(١٠) صحيح؛ أخرجه أبو داود (٢٧٢٠)، والحاكم ٣/ ٩٨، والطحاوي ٣/ ٢٤٤، والطبراني ١/ (١٢٥)، وأبو يعلى (٥٥٩٩)، والمزي ٥/ ٤٠٢، والبيهقي في الدلائل ٣/ ٣١١، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٤٤)، وأصله عند البخاري (٣٦٩٨).
حضرت حبیب بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا: کہ کیا وہ غزوہ بدر میں حاضر ہوئے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں۔ پھر اس نے پوچھا: کیا وہ بیعت الرضوان میں حاضر ہوئے تھے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں! اس نے پوچھا: کہ کیا وہ اس دن پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تھے جس دن دو لشکر آمنے سامنے ہوئے تھے (غزوہ احد)؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں! راوی کہتے ہیں: پھر وہ آدمی چلا گیا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: بلاشبہ یہ آدمی سمجھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا عیب بیان کیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کو میرے پاس واپس بلاؤ۔ پس اس شخص کو واپس لے آئے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو میں نے تمہیں کہا ہے کیا تم اسے سمجھے بھی ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا کہ نہیں ہوئے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! بلاشبہ عثمان تیری اور تیرے رسول کی حاجت میں ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں ان کا حصہ بھی مقرر فرمایا: اور تم نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بیعت الرضوان میں حاضر تھے؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا کہ نہیں تھے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مشرکوں کی طرف بھیجا کہ وہ لوگ ہم سے مصالحت کرلیں مگر ان لوگوں نے انکار کردیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بیعت لی۔ اور فرمایا: اے اللہ! بلاشبہ عثمان تیری اور تیرے رسول کی حاجت میں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ میں دے کر ان کی طرف سے بھی بیعت کی اور تم نے مجھ سے سوا ل کیا کہ کیا حضرت عثمان اس دن پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تھے جس دن دو لشکروں کا آمنا سامنا ہوا؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا: جی ہاں! اور یقینا اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: (ترجمہ: بیشک وہ لوگ جو پیٹھ پھیر گئے تم میں سے جس دن باہم ٹکرائیں دو فوجیں۔ اس کا سبب صرف یہ تھا کہ قدم ڈگمگا دیے تھے ان کے شیطان نے بوجہ بعض ان حرکتوں کے جو وہ کر بیٹھے تھے۔ بہرحال معاف کردیا اللہ نے انہیں) پس تم جاؤ اور جو میرے خلاف کرنا ہے کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34211]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34211، ترقيم محمد عوامة 32704)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34211 in Urdu