مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
17. ما ذكر في فضل عثمان ابن عفان ﵁
ان روایات کا بیان جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32708 ترقیم الشثری: -- 34215
٣٤٢١٥ - حدثنا زيد بن حباب قال: حدثني معاوية بن صالح قال: حدثني ربيعة بن يزيد الدمشقي قال: ثنا عبد الله بن قيس انه سمع النعمان بن بشير ارسله معاوية بن ابي سفيان بكتاب إلى عائشة فدفعه إليها فقالت لي: انا احدثك بحديث سمعته من رسول الله ﷺ، قلت: بلى، قالت: إني عنده ذات يوم انا وحفصة ⦗٤٧⦘ فقال:"لو كان عندنا (رجل) (١) يحدثنا"، فقلت: (يا رسول) (٢) الله ابعث (إلى) (٣) ابي بكر فيجيء فيحدثنا، قال: فسكت، فقالت حفصة: (يا رسول) (٤) الله ابعث (إلى) (٥) عمر فيحدثنا، فسكت، قالت: فدعا رجلا فاسر إليه دوننا فذهب، ثم جاء عثمان فاقبل عليه بوجهه فسمعته يقول:"يا عثمان، إن الله لعله ان يقمصك قميصا، فإن ارادوك على خلعه فلا تخلعه" -ثلاثا، قلت: يا ام المؤمنين اين كنت عن هذا الحديث؟ قالت: انسيته كاني لم اسمعه قط (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (رجلًا).
(٢) في [جـ]: (برسول).
(٣) في [م]: (إليّ).
(٤) في [جـ]: (برسول).
(٥) في [م]: (إليّ).
(٦) معلول، أخرجه ابن حبان (٦٩١٥)، والطيالسي (١٥٤٤)، وابن سعد ١/ ٤٦٨، والخلال في السنة (٤١٨)، وابن أبي عاصم في السنة (١١٧٢)، وقد خالف الجماعة معاوية بن صالح فقالوا: عبد اللَّه بن عامر بدل قيس، أخرجه أحمد (٢٤٥٦٦)، والترمذي (٣٧٠٥)، وابن شبه في تاريخ المدينة ٣/ ١٠٦٩، والطبراني في الشاميين (١٩٣٤)، وأخرجه بنحوه الحاكم ٣/ ٩٩، وابن ماجه (١١٢).
حضرت عبد اللہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک خط دے کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تو انہوں نے وہ خط ان کو دے دیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ حدیث بیان نہ کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! ضرور سنائیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک دن میں اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا، حضور 5 کے پاس تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے۔ کاش کہ ہمارے پاس کوئی آدمی ہوتا تو وہ ہم سے بات کرتا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول 5! میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام نہ بھیج دوں کہ وہ آئیں اور ہم سے بات چیت کریں؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول 5! میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام نہ بھیج دوں کہ وہ ہم سے بات چیت کریں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو بلا کر ہم سے ہٹ کر اس سے سرگوشی کی پھر وہ چلا گیا پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ ان کی طرف متوجہ کیا۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے عثمان: شاید اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائیں گے پس اگر کچھ لوگ اس کو تم سے اتروانا چاہیں تو تم ہرگز اس کو مت اتارنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار ارشاد فرمایا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی۔ اے ام المؤمنین! آپ رضی اللہ عنہ نے پہلے یہ حدیث کیوں بیان نہیں کی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے یہ بھلا دی گئی تھی گویا کہ میں نے اس کو کبھی سنا ہی نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34215]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34215، ترقيم محمد عوامة 32708)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34215 in Urdu