مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
17. ما ذكر في فضل عثمان ابن عفان ﵁
ان روایات کا بیان جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32724 ترقیم الشثری: -- 34232
٣٤٢٣٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا محمد بن عمرو عن ابي سلمة قال: قال نافع بن عبد الحارث: دخل رسول الله ﷺ حائطا من حيطان المدينة، وقال لي:"امسك علي الباب"، فجاء حتى جلس على القف، ودلى رجليه في البئر، ⦗٥٣⦘ فضرب الباب فقلت من هذا؟ قال: ابو بكر، قلت: يا رسول الله، هذا ابو بكر، فقال: ائذن له وبشره بالجنة، قال: فاذنت له وبشرته بالجنة، فجاء فجلس مع رسول الله ﷺ على القف ودلى رجليه في البئر، ثم ضرب الباب فقلت: من هذا؟ (فقال) (١) : عمر، قلت: يا رسول الله، هذا عمر، فقال:"ائذن له وبشره بالجنة" قال: فاذنت له وبشرته بالجنة، فجاء فجلس مع رسول الله ﷺ على القف ودلى رجليه في البئر، [ثم ضرب الباب، فقلت: من هذا؟ قال: عثمان، قلت: يا رسول الله هذا عثمان قال:"ائذن له وبشره بالجنة (مع) (٢) بلاء"، قال: فاذنت له وبشرته بالجنة، فدخل فجلس مع رسول الله ﷺ على القف ودلى رجليه في البئر] (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ]: (قال).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (معها).
(٣) سقط من: [أ].
(٤) منقطع؛ أبو سلمة لم يدرك نافعًا، والخبر فيه شذوذ ونكارة، حيث رواه الجماعة كابن أبي الزناد، وصالح بن كيسان، ويونس بن يزيد من حديث أبي الزناد عن أبي سلمة عن عبد الرحمن بن نافع بن عبد الحارث عن أبي موسى، وانظر: علل الدارقطني ٧/ ٢٣٣، وتفسير القرطبي ١٢/ ٢١٧، وحديث الباب أخرجه أحمد (١٥٣٧٤)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣٣٧)، وأبو داود (٥١٨٨)، والنسائي في الكبرى (٨١٣٢)، والمزي ١٧/ ٤٥٥، والخطيب في الجامع ١/ ١٦١.
حضرت نافع بن حارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے فرمایا: کہ مجھ پر دروازہ بند کردو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ کنویں کے گرد بنی ہوئی منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں۔ پس دروازہ بجایا گیا تو میں نے پوچھا: کون شخص ہے؟ اس نے کہا: ابوبکر ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول 5! یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو اجازت دے دو اور ان کو جنت کی خوشخبری بھی سنا دو۔ پس وہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کنویں کے منڈیر پر بیٹھ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں۔ پھر دروازہ بجا۔ میں نے پوچھا: کون شخص ہے؟ اس نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول 5! یہ عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو بھی اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنا دو۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان کو آنے کی اجازت دی اور جنت کی خوش خبری بھی سنا دی۔ پس وہ تشریف لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کنویں کے منڈیر پر بیٹھ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں۔ پھر دروازہ بجا۔ میں نے پوچھا: کون شخص؟ وہ کہنے لگا! عثمان رضی اللہ عنہ ہوں۔ میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول 5! یہ عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو بھی اجازت دے دو۔ اور جنت کی خوشخبری بھی سنا دو۔ آزمائش کے ساتھ۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان کو بھی اجازت دی اور جنت کی خوشخبری بھی سنا دی۔ پس وہ داخل ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کنویں کے منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34232]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34232، ترقيم محمد عوامة 32724)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34232 in Urdu