مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
18. فضائل علي بن أبي طالب ﵁
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
ترقیم عوامۃ: 32766 ترقیم الشثری: -- 34274
٣٤٢٧٤ - حدثنا محمد بن مصعب عن الاوزاعي عن شداد ابي عمار قال: دخلت على واثلة وعنده قوم فذكروا فشتموه، فشتمته معهم، فقال: الا اخبرك بما سمعت من رسول الله ﷺ؟ قلت: بلى، قال: اتيت فاطمة اسالها عن علي فقالت: توجه إلى رسول الله ﷺ فجلس، فجاء رسول الله ﷺ ومعه علي وحسن وحسين ⦗٦٩⦘ كل واحد منهما آخذ بيده، (حتى دخل) (١) فادنى عليا وفاطمة فاجلسهما بين يديه، و (اجلس) (٢) حسنا وحسينا كل واحد منهما على فخذه، ثم لف عليهم ثوبه او قال: (كساء) (٣) ، ثم تلا هذه الآية: ﴿إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت (٤) ﴾، ثم قال:"اللهم هولاء اهل بيتي، واهل بيتي احق" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، جـ، هـ].
(٢) في [أ، ب]: (الحسن).
(٣) في [هـ]: (كساءه).
(٤) في [أ، ب] زيادة: (ويطهركم تطهيرًا).
(٥) حسن؛ محمد بن مصعب صدوق، أخرجه أحمد (١٦٨٨)، والحاكم ٢/ ٤١٦، والبخاري في التاريخ ٨/ ١٨٧، وابن حبان (٦٩٧٦)، وأبو يعلى (٧٤٨٦)، والطبراني ٢٢/ (١٦٠)، وابن جرير في التفسير ٢٢/ ٧، والطحاوي في شرح المشكل (٧٧٣)، والبيهقي ٢/ ٤١٦، والقطيعي في زوائد الفضائل (١٤٠٤).
حضرت شداد ابو عمارہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں کہ ان کے پاس چند لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ پس ان لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا پھر ان کو سب و شتم کرنے لگے تو میں نے بھی ان کے ساتھ ان کو برا بھلا کہا۔ تو حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس حدیث کے بارے میں نہ بتلاؤں جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ضرور سنائیں۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا میں نے ان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا: تو وہ فرمانے لگیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ہیں پس میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں درآنحالیکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ان سب نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا یہاں تک کہ وہ گھر میں داخل ہوگئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے قریب کیا اور ان دونوں کو اپنے سامنے بٹھا لیا۔ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھی بٹھایا یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران پر تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب پر اپنا کپڑا یا چادر ڈال دی۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ اے نبی 5 کے گھر والو! اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! یہ لوگ میرے گھر والے ہیں۔ اور میرے گھر والے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34274]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34274، ترقيم محمد عوامة 32766)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34274 in Urdu