🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. ما جاء في الحسن والحسين ﵄
ان روایات کا بیان جو سیدنا جعفررضی اللہ عنہ بن ابی طالب کی فضیلت میں منقول ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32855 ترقیم الشثری: -- 34364
٣٤٣٦٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرني جرير بن حازم عن محمد بن عبد الله بن ابي يعقوب عن عبد الله بن شداد عن ابيه قال: دعي رسول الله ﷺ لصلاة فخرج وهو حامل حسنا (او) (١) حسينا، فوضعه إلى جنبه فسجد بين ظهراني صلاته سجدة اطال فيها، قال ابي: فرفعت راسي من بين الناس فإذا الغلام على ظهر رسول الله ﷺ فاعدت راسي فسجدت، فلما سلم رسول الله ﷺ قال له القوم: يا رسول الله لقد سجدت في صلاتك هذه سجدة ما كنت تسجدها، افكان يوحي إليك؟ قال:"لا، ولكن ابني ارتحلني فكرهت ان اعجله حتى يقضي حاجته" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (و).
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٦٠٣٣)، والنسائي ٢/ ٢٢٩، والحاكم ٣/ ٦٢٦، والطبراني (٧١٠٧)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٩٣٤).

حضرت عبد اللہ بن شداد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت شداد رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اٹھایا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے پہلو میں بٹھایا ہوا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی پیٹھوں کے درمیان اپنی نماز کا سجدہ ادا کیا اور بہت لمبا سجدہ کیا۔ میرے والد نے کہا: کہ میں نے تمام لوگوں کے درمیان سے سر اٹھایا۔ تو دیکھا ایک بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا ہے۔ تو میں نے دوبارہ اپنا سر سجدہ میں رکھ دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول 5! آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز میں ایسا سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی زندگی بھر نہیں کیا۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی وحی کی جار ہی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! بلکہ میرا بیٹا مجھ پر سوار ہوگیا تھا۔ تو میں نے ناپسند کیا کہ میں جلدی سے اٹھ جاؤں یہاں تک کہ وہ اپنی خواہش پوری کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34364]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34364، ترقيم محمد عوامة 32855)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34364 in Urdu