🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
117. من قال يؤم القوم أقرؤهم لكتاب الله
جو حضرات فرماتے ہیں کہ جو قرآن مجید کا سب سے زیادہ قاری ہو وہ امامت کرائے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 3475 ترقیم الشثری: -- 3493
٣٤٩٣ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن عمرو بن سلمة قال: كنا على حاضر، فكان الركبان يمرون بنا راجعين من عند النبي ﷺ، فادنو منهم فاستمع حتى حفظت قرآنا كثيرا، وكان الناس ينتظرون بإسلامهم فتح مكة، فلما فتحت جعل الرجل ياتيه فيقول (١) : يا رسول الله انا وافد بني فلان وجئتك بإسلامهم، فانطلق ابي ⦗٢٥٦⦘ بإسلام قومه، فلما رجع قال: (قال) (٢) رسول الله ﷺ:"قدموا اكثركم قرآنا". (قال: فنظروا وانا على حواء عظيم فما وجدوا فيهم احدا) (٣) اكثر قرآنا منى فقدموني وانا غلام فصليت بهم (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (فقال).
(٢) في [أ، جـ]: زيادة.
(٣) سقط من: [أ].
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٠٣٣)، والبخاري (٤٣٠٢).

حدثنا ابن علية ، عن ايوب ، عن عمرو بن سلمة ، قال: كنا على حاضر فكان الركبان يمرون بنا راجعين من عند النبي صلى الله عليه وسلم فادنو منهم فاستمع حتى حفظت قرآنا كثيرا وكان الناس ينتظرون بإسلامهم فتح مكة فلما فتحت جعل الرجل ياتيه، فيقول: يا رسول الله انا وافد بني فلان وجئتك بإسلامهم فانطلق ابي بإسلام قومه فلما رجع، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " قدموا اكثركم قرآنا"، قال: فنظروا وانا على حواء عظيم، فما وجدوا فيهم احدا اكثر قرآنا مني فقدموني وانا غلام فصليت بهم
حضرت عمرو بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ہم پانی کے ایک گھاٹ کے پاس رہتے تھے۔ جس کی وجہ سے قافلے ہمارے پاس رکا کرتے تھے، ان میں بعض قافلے ایسے بھی ہوتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے واپس آرہے ہوتے تھے۔ میں ان کے پاس جاتا اور ان کی باتیں سنا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں نے قرآن مجید کا بہت سا حصہ یاد کرلیا۔ لوگ اسلام قبول کرنے کے لئے فتحِ مکہ کا انتظار کررہے تھے۔ جب مکہ فتح ہوگیا تو لوگ ایک ایک کرکے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے اور کہتے یارسول اللہ! ہم فلاں قبیلے کی طرف سے نمائندے ہیں اور ان کے اسلام کی اطلاع دینے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں میری والد بھی اپنی قوم کے اسلام کی خبر دینے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جب وہ واپس آنے لگے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنے میں سے نماز کے لئے اس کو آگے کرو جو قرآن زیادہ جانتا ہے۔ انہوں نے غور کیا، اس وقت میں پانی کے پاس بنے ایک بڑے کمرے میں تھا۔ انہوں نے مجھ سے زیادہ عمدہ قرآن پڑھنے والا کسی کو نہ پایا چناچہ نماز کے لئے مجھے آگے کردیا۔ میں نوعمر لڑکا تھا اور انہیں نماز پڑھایا کرتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصلوات/حدیث: 3493]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3493، ترقيم محمد عوامة 3475)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 3493 in Urdu