مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
59. ما قالوا: في عدل الوالي وقسمه قليلا كان أو كثيرا
حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
ترقیم عوامۃ: 33583 ترقیم الشثری: -- 35121
٣٥١٢١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا هشام عن ابن سيرين عن الاحنف بن قيس قال: كنا جلوسا بباب عمر فخرجت جارية فقلنا: سرية عمر (فقالت) (١) : إنها ليست سرية لعمر، إني لا احل لعمر، إني من مال الله فتذاكرنا ⦗٣١٢⦘ بيننا ما يحل- (له من مال الله، قال: فرقي ذلك إليه، فارسل إلينا فقال: ما كنتم تذاكرون؟ فقلنا: خرجت علينا جارية، فقلنا: هذه سرية عمر، فقالت: إنها ليست بسرية عمر، إنها لا تحل لعمر، إنها من مال الله، فتذاكرنا ما بيننا ما يحل) (٢) لك من مال الله، فقال: انا اخبركم بما استحل من مال الله: حلة الشتاء (والقيظ) (٣) ، وما احج عليه وما اعتمر من الظهر، وقوت اهلي كرجل من قريش، ليس باغناهم ولا بافقرهم، انا رجل من المسلمين يصيبني ما اصابهم (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (فقال).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٣) في [أ، ب]: (القنص).
(٤) صحيح.
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت احنف بن قیس رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: کہ ہم لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک باندی نکلی ہم نے اسے کہا: عمر کی باندی، تو وہ کہنے لگی کہ میں عمر کی باندی نہیں ہوں اور نہ میں عمر کے لیے حلال ہوں۔ میں تو اللہ کا مال ہوں۔ راوی فرماتے ہیں: پھر ہم لوگ آپس میں اس بات کا تذکرہ کرنے لگے کہ اللہ کے مال میں سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے کیا حلال ہیْ اس کی آواز حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے ہمیں قاصد بھیج کر بلایا اور پوچھا: تم لوگ کیا باتیں کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا: ہمارے پاس ایک باندی آئی تو ہم نے اسے کہا: عمر کی باندی، اس پر وہ کہنے لگی کہ وہ عمر کی باندی نہیں ہے، نہ ہی وہ عمر رضی اللہ عنہ کے لئے حلال ہے، بیشک وہ تو اللہ کا مال ہے۔ ادھر ہم نے اس بات کا تذکرہ شروع کردیا کہ اللہ کے مال میں سے کتنی مقدار آپ رضی اللہ عنہ کے لیے حلال ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ میں نے اللہ کے مال میں کتنی مقدار کو حلال سمجھا ہے۔ گرمی اور سردی کا ایک جوڑا اور جس سواری پر میں حج کرتا ہوں اور جس پر میں عمرہ کرتا ہوں۔ اور میرے گھرو الوں کا راشن جو قریش کے عام آدمی کے برابر ہے۔ نہ قریش کے مالداروں کی طرح ہے نہ ان کے فقراء کی طرح۔ اور میں بھی مسلمانوں میں سے ایک آدمی ہوں جو ضروریات ان کی ہیں وہی ضروریات مجھے بھی لاحق ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35121]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35121، ترقيم محمد عوامة 33583)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 35121 in Urdu