مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
60. ما يوصي به الإمام الولاة إذا بعثهم
امام جب گورنروں کو بھیجے تو اس بات کی وصیت کرے
ترقیم عوامۃ: 33592 ترقیم الشثری: -- 35130
٣٥١٣٠ - حدثنا ابن علية عن الجريري عن ابي نضرة عن ابي فراس قال: خطب عمر بن الخطاب فقال: الا إني والله ما ابعث إليكم عمالا ليضربوا ابشاركم ولا لياخذوا اموالكم، ولكن ابعثهم إليكم ليعلموكم دينكم وسنتكم، فمن فعل به سوى ذلك فليرفعه إلي، فوالذي نفسي بيده لاقصنه (منه) (١) ، فوثب عمرو بن العاص فقال: يا امير المؤمنين ارايتك، إن كان رجل من المسلمين على رعية فادب بعض (رعيته) (٢) إنك لمقصه منه؟ قال: اي والذي نفس عمر بيده (لاقصنه) (٣) منه، انا لا اقصه منه وقد رايت رسول الله ﷺ يقص من نفسه، الا لا تضربوا المسلمين فتذلوهم، ولا تمنعوهم من حقوقهم فتكفروهم، ولا تجمروهم فتفتنوهم، ولا ⦗٣١٧⦘ تنزلوهم الغياض (فتضيعوهم) (٤) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: (رعتيهم).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (لأقصه).
(٤) في [أ]: (فتضيعونهم).
(٥) مجهول، لجهالة أبي فراس، أخرجه أحمد (٢٨٦)، وأبو داود (٤٥٣٧)، والحاكم ٤/ ٤٣٩، وأبو يعلى (١٩٦)، وابن الجارود (٨٤٤)، ومسدد كما في المطالب (٢١١٩)، والطحاوي في شرح المشكل (٣٥٢٨)، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٥٦٧، والطيالسي (٥٤)، والبيهقي ٨/ ٤٨، والضياء (١١٦)، والمزي ٣٤/ ١٨٤، وابن عساكر ٤٤/ ٢٧٨، وابن شبه (١٣٨٣)، وابن عبد الحكم في فتوح مصر ص ٤٨.
حضرت ابو فراس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا: خبردار! اللہ کی قسم! میں نے تمہاری طرف گورنروں کو اس لیے نہیں بھیجا کہ وہ تمہیں مارنے لگیں اور تمہارے مال چھین لیں۔ بلکہ میں نے ان کو تمہاری طرف اس لیے بھیجا ہے۔ کہ وہ تمہیں تمہارا دین اور تمہارے نبی 5 کی سنت سکھلائیں جس شخص کے ساتھ اس کے علاوہ کوئی دوسرا معاملہ کیا جائے تو وہ اس مسئلہ کو میرے سامنے پیش کرے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ ٔ قدرت میں میری جان ہے میں ضرور بالضرور اس کی طرف سے بدلہ لوں گا۔ اس پر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہاٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے امیر المؤمنین! آپ رضی اللہ عنہ کی کیا رائے ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی آدمی کسی جماعت پر امیر ہو اور وہ اپنی رعایا کے کسی شخص کو ادب سکھلائے تو کیا آپ رضی اللہ عنہ اس کی طرف سے بھی بدلہ لیں گے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ ٔ قدرت میں عمر کی جان ہے۔ ضرور بالضرور اس کی طرف سے بھی بدلہ لیا جائے گا۔ اور میں نے کہا اس کی طرف سے بدلہ لے سکتا ہوں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ اپنی طرف سے بدلہ لیتے تھے؟ خبردار! تم مسلمانوں کو مت مارو اس طرح کہ تم ان کو ذلیل کرنے لگو۔ اور تم ان کو ان کے حقوق سے مت روکو کہ تم ان کو اپنے سامنے جھکانے لگو۔ اور تم ان کو سرحدوں پر بھیج کر گھر واپسی سے مت روکو کہ کہیں تم ان کو فتنہ میں ڈال دو۔ اور تم ان کو گھنے باغات والی جگہ میں مت اتارو کہ وہ منتشر ہوجائیں اور اس طرح تم ان کو ضائع کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35130]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35130، ترقيم محمد عوامة 33592)
1 .....
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 35130 in Urdu