🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

60. ما يوصي به الإمام الولاة إذا بعثهم
امام جب گورنروں کو بھیجے تو اس بات کی وصیت کرے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33591 ترقیم الشثری: -- 35129
٣٥١٢٩ - حدثنا ابو اسامة عن عبد الله بن الوليد عن عاصم بن ابي النجود عن ابن خزيمة بن ثابت قال: كان عمر إذا استعمل رجلا اشهد عليه رهطا من الانصار وغيرهم، قال: يقول: إني لم استعملك على دماء المسلمين ولا (١) اعراضهم، ولكني استعملتك عليهم لتقسم بينهم بالعدل، (وتقيم) (٢) فيهم الصلاة، واشترط عليه ان لا ياكل نقيا، ولا يلبس رقيقا، ولا يركب برذونا، ولا يغلق بابه دون حوائج الناس (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (على).
(٢) في [ب]: (وتقسم).
(٣) منقطع؛ ابن خزيمة لا يروي عن عمر.

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بیٹے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب کسی کو گورنر بناتے تو انصار اور دوسرے مسلمانوں کی ایک جماعت کو اس پر گواہ بناتے اور فرماتے: میں نے تجھے مسلمانوں کی جانوں اور عزتوں پر امیر نہیں بنایا لیکن میں نے تجھے ان پر امیر بنایا ہے تاکہ تو ان کے درمیان انصاف سے تقسیم کرے، اور ان میں نماز کو قائم کروائے۔ اور آپ رضی اللہ عنہ اس پر شرط لگاتے کہ وہ چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائے گا اور نہ ہی باریک کپڑا پہنے گا اور نہ ہی اچھی نسل کے گھوڑے پر سوار ہوگا۔ اور لوگوں کی ضروریات کے وقت اپنے دروازے کو بند نہیں کرے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35129]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35129، ترقيم محمد عوامة 33591)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33592 ترقیم الشثری: -- 35130
٣٥١٣٠ - حدثنا ابن علية عن الجريري عن ابي نضرة عن ابي فراس قال: خطب عمر بن الخطاب فقال: الا إني والله ما ابعث إليكم عمالا ليضربوا ابشاركم ولا لياخذوا اموالكم، ولكن ابعثهم إليكم ليعلموكم دينكم وسنتكم، فمن فعل به سوى ذلك فليرفعه إلي، فوالذي نفسي بيده لاقصنه (منه) (١) ، فوثب عمرو بن العاص فقال: يا امير المؤمنين ارايتك، إن كان رجل من المسلمين على رعية فادب بعض (رعيته) (٢) إنك لمقصه منه؟ قال: اي والذي نفس عمر بيده (لاقصنه) (٣) منه، انا لا اقصه منه وقد رايت رسول الله ﷺ يقص من نفسه، الا لا تضربوا المسلمين فتذلوهم، ولا تمنعوهم من حقوقهم فتكفروهم، ولا تجمروهم فتفتنوهم، ولا ⦗٣١٧⦘ تنزلوهم الغياض (فتضيعوهم) (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: (رعتيهم).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (لأقصه).
(٤) في [أ]: (فتضيعونهم).
(٥) مجهول، لجهالة أبي فراس، أخرجه أحمد (٢٨٦)، وأبو داود (٤٥٣٧)، والحاكم ٤/ ٤٣٩، وأبو يعلى (١٩٦)، وابن الجارود (٨٤٤)، ومسدد كما في المطالب (٢١١٩)، والطحاوي في شرح المشكل (٣٥٢٨)، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٥٦٧، والطيالسي (٥٤)، والبيهقي ٨/ ٤٨، والضياء (١١٦)، والمزي ٣٤/ ١٨٤، وابن عساكر ٤٤/ ٢٧٨، وابن شبه (١٣٨٣)، وابن عبد الحكم في فتوح مصر ص ٤٨.

حضرت ابو فراس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا: خبردار! اللہ کی قسم! میں نے تمہاری طرف گورنروں کو اس لیے نہیں بھیجا کہ وہ تمہیں مارنے لگیں اور تمہارے مال چھین لیں۔ بلکہ میں نے ان کو تمہاری طرف اس لیے بھیجا ہے۔ کہ وہ تمہیں تمہارا دین اور تمہارے نبی 5 کی سنت سکھلائیں جس شخص کے ساتھ اس کے علاوہ کوئی دوسرا معاملہ کیا جائے تو وہ اس مسئلہ کو میرے سامنے پیش کرے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ ٔ قدرت میں میری جان ہے میں ضرور بالضرور اس کی طرف سے بدلہ لوں گا۔ اس پر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہاٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے امیر المؤمنین! آپ رضی اللہ عنہ کی کیا رائے ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی آدمی کسی جماعت پر امیر ہو اور وہ اپنی رعایا کے کسی شخص کو ادب سکھلائے تو کیا آپ رضی اللہ عنہ اس کی طرف سے بھی بدلہ لیں گے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ ٔ قدرت میں عمر کی جان ہے۔ ضرور بالضرور اس کی طرف سے بھی بدلہ لیا جائے گا۔ اور میں نے کہا اس کی طرف سے بدلہ لے سکتا ہوں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ اپنی طرف سے بدلہ لیتے تھے؟ خبردار! تم مسلمانوں کو مت مارو اس طرح کہ تم ان کو ذلیل کرنے لگو۔ اور تم ان کو ان کے حقوق سے مت روکو کہ تم ان کو اپنے سامنے جھکانے لگو۔ اور تم ان کو سرحدوں پر بھیج کر گھر واپسی سے مت روکو کہ کہیں تم ان کو فتنہ میں ڈال دو۔ اور تم ان کو گھنے باغات والی جگہ میں مت اتارو کہ وہ منتشر ہوجائیں اور اس طرح تم ان کو ضائع کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35130]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35130، ترقيم محمد عوامة 33592)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33593 ترقیم الشثری: -- 35131
٣٥١٣١ - حدثنا ابن علية عن الجريري عن ابي عثمان قال: كتب عمر إلي ابي موسى الاشعري ان اقطعوا الركب، وانزوا على الخيل نزوا، والقوا الخفاف، و (احذوا) (١) النعال، والقوا السراويلات، واتزروا وارموا (الاغراض) (٢) ، وعليكم بلبس المعدية، وإياكم وهدي العجم، فإن شر الهدي هدي العجم (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (احتذوا).
(٢) في [أ، ب]: (الأعراض).
(٣) صحيح.

حضرت ابو عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور فرمایا: تم لوگ اونٹوں سے خود کو جدا کرلو اور گھوڑوں پر سوار ہو۔ اور تم موزے اتار دو اور چپل پہنو۔ شلوار چھوڑ دو اور ازار باندھو۔ اور سلوٹوں کو چھوڑ دو، تم قبیلہ معد کا لباس لازم پکڑ لو۔ اور خود کو عجمیوں کے طور طریقوں سے بچاؤ اس لیے کہ بدترین طور طریقے عجمیوں کے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35131]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35131، ترقيم محمد عوامة 33593)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33594 ترقیم الشثری: -- 35132
٣٥١٣٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن ابيه قال: كان رسول الله ﷺ إذا بعث اميرا على سرية او جيش اوصاه في خاصة نفسه بتقوى الله و (لمن) (١) معه من المسلمين خيرا قال:"اغزوا في سبيل الله، قاتلوا من كفر بالله، اغزوا ولا تغلوا ولا تغدروا، ولا (تمثلوا) (٢) ولا تقتلوا وليدا" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (من)، وفي [س]: (بمن).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (تميلوا).
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٣١)، وأحمد (٢٢٣٠٣٠).

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو کسی جماعت یا لشکر پر امیر بنا کر بھیجتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو خاص طور پر اللہ کے تقوے کی وصیت فرماتے۔ اور اس کے ساتھ جو مسلمان ہیں ان سے بھلائی کرنے کی وصیت فرماتے۔ اور فرماتے: اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا، ان لوگوں کے ساتھ قتال کرنا جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا، جاؤ اور خیانت مت کرنا نہ ہی غداری کرنا۔ اور لوگوں کے ہاتھ، پاؤں کاٹ کر مثلہ مت بنانا۔ اور نہ ہی بچوں کو قتل کرنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35132]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35132، ترقيم محمد عوامة 33594)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33595 ترقیم الشثری: -- 35133
٣٥١٣٣ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا هشام بن سعد قال: سمعت زيد بن اسلم يذكر عن ابيه قال: رايت عمر بن الخطاب استعمل مولاه (هنيا) (١) على الحمى، قال: فرايته يقول هكذا: ويحك يا هني، ضم جناحك عن الناس، واتق دعوة المظلوم، فإن دعوة المظلوم مجابة، (و) (٢) ادخل رب الصريمة والغنيمة، ودعني من نعم ابن عفان وابن عوف، فإن ابن عوف وابن عفان إن هلكت ماشيتهما رجعا إلى المدينة إلى نخل وزرع، وإن هذا المسكين إن هلكت ماشيته جاءني يصيح: يا (امير) (٣) المؤمنين، (يا امير المؤمنين) (٤) ؛ فالماء والكلا اهون علي من ان اغرم ذهبا وورقا، والله والله والله إنها لبلادهم في سبيل الله قاتلوا عليها في الجاهلية واسلموا عليها في الإسلام، ولولا هذا النعم الذي يحمل عليه في سبيل الله ما حميت على الناس من بلادهم شيئا (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (هينا).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٣) في [أ]: (أمر).
(٤) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٥) ضعيف؛ لضعف هشام بن سعد.

حضرت اسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے آزاد کردہ غلام ھُنیّ کو چراگاہ پر امیر بنایا۔ راوی کہتے ہیں: کہ میں نے آپ رضی اللہ عنہ کو اسے یوں فرماتے ہوئے سنا: ہلاکت ہو اے ھنیی! لوگوں کے ساتھ نرمی برتو، اور مظلوم کی بددعا سے بچو۔ اس لیے کہ مظلوم کی بددعا قبول کی جاتی ہے۔ تم درختوں اور مال غنیمت کے منتظم بن کر داخل ہو۔ اور تم مجھے چھوڑ دو ابن عفان اور ابن عوف کے جانوروں کے بارے میں کہ اگر ابن عوف اور ابن عفان ان دونوں کے مویشی ہلاک بھی ہوگئے تو یہ دونوں مدینہ میں اپنے کھجور کے درختوں اور کھیتی کی طرف لوٹ جائیں گے۔ اور اگر ان مسکینوں کے مویشی ہلاک ہوگئے تو یہ میرے پاس آئیں گے چیختے ہوئے۔ اے امیر المؤمنین! اے امیر المؤمنین! اور پانی اور چارہ مجھ پر آسان ہے اس بات سے کہ میں ان کو سونا اور چاندی بدلہ میں دوں، اللہ کی قسم! اللہ کی قسم! اللہ کی قسم!۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35133]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35133، ترقيم محمد عوامة 33595)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں