🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
94. فيما يمتنع به من (القتل) وما هو؟ وما يحقن الدم؟
ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں اور وہ چیزیں کیا ہیں؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33776 ترقیم الشثری: -- 35316
٣٥٣١٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن حبيب بن ابي عمرة عن سعيد بن جبير قال: خرج المقداد بن الاسود في سرية (قال) (١) : فمروا برجل في غنيمة له فارادوا قتله، فقال: لا إله إلا الله، فقتله (مقداد) (٢) ، فقيل له: قتلته وهو يقول: لا إله إلا الله، فقال المقداد: ود لو فر باهله وماله، قال: فلما قدموا ذكروا ذلك للنبي ﷺ: فنزلت: ﴿ياايها الذين آمنوا إذا ضربتم في سبيل الله فتبينوا ولا تقولوا لمن القى إليكم السلام لست مؤمنا تبتغون عرض الحياة الدنيا﴾، قال: الغنيمة ﴿فعند الله مغانم كثيرة كذلك كنتم من قبل﴾، قال: تكتمون إيمانكم من المشركين، ﴿فمن الله عليكم﴾ (فاظهر) (٣) الإسلام، ﴿فتبينوا﴾، وعيد الله، ﴿ (إن الله كان) ) (٤) (٥) بما تعملون (خبيرا) (٦) ﴾ (٧) [النساء: ٩٤]

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب، جـ]: (المقدام).
(٣) في [ط، هـ]: (فاظهروا).
(٤) سقط من: [أ، جـ].
(٥) سقط من: [ب].
(٦) في [ب]: (خبير).
(٧) مرسل؛ سعيد بن جبير تابعي، أخرجه ابن جرير في التفسير ٥/ ٢٢٥، والحارث (٣/ بغية)، والواحدي في أسباب النزول ص ٢٠٣، وورد من حديث سعيد بن جبير عن ابن عباس، أخرجه الطبراني (١٢٣٧٩)، وبحشل في تاريخ واسط ص ١٦٠، والضياء في المختارة ١٠/ (١٤٧)، وابن بشكوال في المبهمة ٧/ ٤٥٧، وابن عساكر ٦٠/ ١٧١.

حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کسی لشکر میں نکلے۔ یہ لوگ کسی آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنی چند بھیڑ بکریوں کے پاس تھا ان لوگوں نے اس کو قتل کرنا چاہا تو اس شخص نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیا۔ پھر بھی حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کردیا۔ آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کردیا حالانکہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ رہا تھا؟ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ وہ چاہتا تھا کہ اپنے گھر والوں اور مال کو لے کر بھاگ جائے۔ جب یہ لوگ واپس آئے تو انہوں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم نکلو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے تو خوب تحقیق کرلیا کرو اور نہ کہو اس شخص کو جو تمہیں سلام کرے کہ تو مومن نہیں ہو۔ کیا تم حاصل کرنا چاہتے ہو سازو سامان دنیاوی زندگی کا؟ (حیاۃ دنیا سے مراد بھیڑ بکریوں کا ریوڑ ہے) تو اللہ کے ہاں بہت غنیمتیں ہیں۔ ایسے تو تم اسلام سے پہلے تھے (یعنی تم مشرکین سے اپنا ایمان چھپاتے تھے) پھر اللہ نے تم پر احسان کیا (یعنی اسلام کو ظاہر کیا) لہٰذا خوب تحقیق کرلیا کرو۔ (اللہ کی وعید کی) بیشک اللہ ہر اس بات سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35316]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35316، ترقيم محمد عوامة 33776)

 1 .....
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 35316 in Urdu