🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

94. فيما يمتنع به من (القتل) وما هو؟ وما يحقن الدم؟
ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں اور وہ چیزیں کیا ہیں؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33769 ترقیم الشثری: -- 35308
٣٥٣٠٨ - حدثنا حفص بن غياث عن الاعمش عن ابي سفيان عن جابر (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ أبو سفيان صدوق، أخرجه مسلم (٢١)، وأحمد (١٤١٧٤).
حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں۔ پس جب ان لوگوں نے یہ کلمہ پڑھ لیا۔ تو انہوں نے ایسا کرنے سے اپنے مال اور اپنی جانوں کو محفوظ کرلیا اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35308]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35308، ترقيم محمد عوامة 33769)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 35309
٣٥٣٠٩ - وعن ابي صالح عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا الله، فإذا (قالوها) (١) عصموا بها اموالهم ودماءهم، وحسابهم على الله" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (قالوا).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٤٦)، ومسلم (٢١).

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35309، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33770 ترقیم الشثری: -- 35310
٣٥٣١٠ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن ابي مالك الاشجعي سعد بن طارق قال: سمعت ابي يقول: سمعت النبي ﷺ يقول:"من وحد الله وكفر بما يعبد من دونه حرم ماله ودمه، وحسابه على الله" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه مسلم (٢٣)، وأحمد (١٥٨٧٥).
حضرت طارق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے اللہ کی وحدانیت بیان کی اور اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے ان کو نہ مانا تو اس کا مال اور اس کی جان حرام ہوگئی اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35310]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35310، ترقيم محمد عوامة 33770)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33771 ترقیم الشثری: -- 35311
٣٥٣١١ - حدثنا ابو معاوية عن (١) الاعمش عن ابي ظبيان عن اسامة بن زيد قال: بعثنا رسول الله ﷺ إلى الحرقات من جهينة (قال) (٢) : فصبحنا القوم وقد (نذروا) (٣) بنا، قال: فخرجنا في آثارهم فادركت رجلا منهم فجعلت إذا لحقته قال: لا إله إلا الله، قال: فظننت (انه) (٤) إنما يقولها فرقا، قال: فحملت عليه فقتلته فعرض في نفسي من امره، فذكرت ذلك للنبي ﷺ فقال لي رسول الله ﷺ:"قال لا إله إلا الله ثم قتلته؟" قلت: يا رسول الله، لم يقلها من قبل نفسه، إنما قالها فرقا من السلاح، قال: فقال:"قال لا إله إلا الله ثم قتلته؟ فهلا شققت عن قلبه حتى تعلم انه إنما قالها فرقا من السلاح"، قال اسامة: فما زال يكررها علي:"قال لا إله إلا الله ثم قتلته؟"، حتى وددت اني لم اكن اسلمت إلا يومئذ (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (أبي).
(٢) في [أ، ب]: (فقال).
(٣) في [أ]: (بدرؤا)، وفي أبي: (هدرؤا)، وفي [هـ]: (تدرؤا).
(٤) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٢٩٦)، ومسلم (٩٦).

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قبیلہ جھینہ کی طرف بھیجا۔ پس ہم نے اس قوم کے پاس صبح کی، اور وہ لوگ ہم سے چوکنا ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے ان لوگوں کا پیچھا کیا تو ان میں سے ایک آدمی کو میں نے پکڑ لیا جیسے ہی میں اس سے ملا اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھا میں نے گمان کیا کہ اس نے یہ کلمہ خوف سے پڑھا ہے۔ پس میں نے اس پر حملہ کیا اور اس کو قتل کردیا۔ پھر میرے دل میں اس کا خیال آیا تو میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اس نے لا الہ الا اللہ پڑھا پھر بھی تم نے اس کو قتل کردیا؟! میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول 5! اس نے یہ کلمہ دل سے نہیں پڑھا تھا بلکہ اس نے یہ کلمہ اسلحہ کے خوف سے پڑھا تھا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھا۔ پھر تم نے اس کو قتل کردیا۔ تم نے اس کا دل کیوں نہیں پھاڑ ڈالا۔ یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہوجاتا کہ اس نے یہ کلمہ اسلحہ کے خوف سے پڑھا ہے؟! حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مجھے یہ کہتے رہے کہ اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھا پھر بھی تم نے اس کو قتل کردیا! یہاں تک کہ میری خواہش ہوئی کہ میں اسلام نہ لایا ہوتا مگر آج ہی کے دن!۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35311]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35311، ترقيم محمد عوامة 33771)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33772 ترقیم الشثری: -- 35312
٣٥٣١٢ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن الاعمش عن ابي ظبيان عن اسامة قال: بعثنا رسول الله ﷺ، ثم ذكر نحو حديث ابي معاوية عن الاعمش (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه البخاري (٦٨٧٢)، ومسلم (٩٦).
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لشکر کے ساتھ بھیجا۔ پھر راوی نے مذکورہ حدیث نقل فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35312]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35312، ترقيم محمد عوامة 33772)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33773 ترقیم الشثری: -- 35313
٣٥٣١٣ - حدثنا عبد الله بن (١) بكر السهمي قال: ثنا حاتم بن ابي صغيرة عن (النعمان) (٢) بن سالم ان (عمرو) (٣) بن اوس اخبره (ان اباه اوسا اخبره) (٤) قال: إنا لقعود عند رسول الله ﷺ وهو يقص علينا ويذكرنا إذ اتاه رجل فساله فقال رسول الله ﷺ:"اذهبوا فاقتلوه"، فلما ولى الرجل دعاه رسول الله ﷺ فقال:"هل تشهد ان لا إله إلا الله؟" قال: نعم، قال:"اذهبوا فخلوا سبيله، وإنما امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا الله، فإذا فعلوا ذلك حرم (علي) (٥) دماؤهم واموالهم" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (أبى).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ط]: (عمر).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (عمر).
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ، ح، ط].
(٥) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٦) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٦١٦٣)، وابن ماجه (٣٩٢٩)، والنسائي ٧/ ٨١، والطيالسي (١١١٠)، والدارمي ١٨/ ٢٢، وأبو يعلى (٦٨٦٢)، وعبد الرزاق (١٨٦٩٨).

حضرت اویس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں وعظ و نصیحت فرما رہے تھے۔ کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ پوچھا: اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اس کو قتل کردو۔ جب وہ آدمی واپس جانے کے لیے پلٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور پوچھا: کیا تم گواہی دیتے ہو اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اس کا راستہ خالی چھوڑ دو اس لیے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ و ہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں۔ اور جب انہوں نے ایسا کرلیا تو مجھ پر ان کی جانیں اور ان کا مال حرام ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35313]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35313، ترقيم محمد عوامة 33773)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33774 ترقیم الشثری: -- 35314
٣٥٣١٤ - حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) سفيان عن ابي الزبير عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ:"امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا الله، فإذا قالوا: لا إله إلا الله، عصموا مني دماءهم واموالهم إلا بحقها، وحسابهم على الله"، ثم قرا: ﴿إنما انت مذكر (٢١) لست عليهم (بمصيطر) (٢) ﴾ (٣) . [الغاشية: ٢١ - ٢٢] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من النسخ إلا: [هـ]، وقد استدركها من كتاب الحدود.
(٢) في [أ، ب]: (بمصيطر).
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢١)، وأحمد (١٤٢٠٩).

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں: جب انہوں نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیا تو انہوں نے مجھ سے اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو محفوظ کرلیا مگر اللہ کے حق کی وجہ سے۔ اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ بس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت کرنے والے ہیں، اور آپ نہیں ہیں ان پر جبر کرنے والے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35314]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35314، ترقيم محمد عوامة 33774)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33775 ترقیم الشثری: -- 35315
٣٥٣١٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن صالح مولى التوامة عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا الله، فإذا قالوا: لا إله إلا الله، حرمت علي دماؤهم واموالهم إلا بحقها، وحسابهم على الله" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٤٦)، ومسلم (٢١).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں۔ جب انہوں نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیا تو مجھ پر ان کی جانیں اور ان کا مال حرام ہوگیا مگر اللہ کے کسی حق کی وجہ سے، اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35315]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35315، ترقيم محمد عوامة 33775)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33776 ترقیم الشثری: -- 35316
٣٥٣١٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن حبيب بن ابي عمرة عن سعيد بن جبير قال: خرج المقداد بن الاسود في سرية (قال) (١) : فمروا برجل في غنيمة له فارادوا قتله، فقال: لا إله إلا الله، فقتله (مقداد) (٢) ، فقيل له: قتلته وهو يقول: لا إله إلا الله، فقال المقداد: ود لو فر باهله وماله، قال: فلما قدموا ذكروا ذلك للنبي ﷺ: فنزلت: ﴿ياايها الذين آمنوا إذا ضربتم في سبيل الله فتبينوا ولا تقولوا لمن القى إليكم السلام لست مؤمنا تبتغون عرض الحياة الدنيا﴾، قال: الغنيمة ﴿فعند الله مغانم كثيرة كذلك كنتم من قبل﴾، قال: تكتمون إيمانكم من المشركين، ﴿فمن الله عليكم﴾ (فاظهر) (٣) الإسلام، ﴿فتبينوا﴾، وعيد الله، ﴿ (إن الله كان) ) (٤) (٥) بما تعملون (خبيرا) (٦) ﴾ (٧) [النساء: ٩٤]

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب، جـ]: (المقدام).
(٣) في [ط، هـ]: (فاظهروا).
(٤) سقط من: [أ، جـ].
(٥) سقط من: [ب].
(٦) في [ب]: (خبير).
(٧) مرسل؛ سعيد بن جبير تابعي، أخرجه ابن جرير في التفسير ٥/ ٢٢٥، والحارث (٣/ بغية)، والواحدي في أسباب النزول ص ٢٠٣، وورد من حديث سعيد بن جبير عن ابن عباس، أخرجه الطبراني (١٢٣٧٩)، وبحشل في تاريخ واسط ص ١٦٠، والضياء في المختارة ١٠/ (١٤٧)، وابن بشكوال في المبهمة ٧/ ٤٥٧، وابن عساكر ٦٠/ ١٧١.

حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کسی لشکر میں نکلے۔ یہ لوگ کسی آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنی چند بھیڑ بکریوں کے پاس تھا ان لوگوں نے اس کو قتل کرنا چاہا تو اس شخص نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیا۔ پھر بھی حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کردیا۔ آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کردیا حالانکہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ رہا تھا؟ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ وہ چاہتا تھا کہ اپنے گھر والوں اور مال کو لے کر بھاگ جائے۔ جب یہ لوگ واپس آئے تو انہوں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم نکلو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے تو خوب تحقیق کرلیا کرو اور نہ کہو اس شخص کو جو تمہیں سلام کرے کہ تو مومن نہیں ہو۔ کیا تم حاصل کرنا چاہتے ہو سازو سامان دنیاوی زندگی کا؟ (حیاۃ دنیا سے مراد بھیڑ بکریوں کا ریوڑ ہے) تو اللہ کے ہاں بہت غنیمتیں ہیں۔ ایسے تو تم اسلام سے پہلے تھے (یعنی تم مشرکین سے اپنا ایمان چھپاتے تھے) پھر اللہ نے تم پر احسان کیا (یعنی اسلام کو ظاہر کیا) لہٰذا خوب تحقیق کرلیا کرو۔ (اللہ کی وعید کی) بیشک اللہ ہر اس بات سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35316]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35316، ترقيم محمد عوامة 33776)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33777 ترقیم الشثری: -- 35317
٣٥٣١٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: مر رجل من بني سليم على نفر من اصحاب رسول الله ﷺ ومعه غنم له، فسلم عليهم فقالوا: ما سلم عليكم إلا ليتعوذ منكم، فعمدوا إليه فقتلوه، واخذوا غنمه فاتوا بها رسول الله ﷺ فانزل الله تعالى: ﴿ياايها الذين آمنوا إذا ضربتم في سبيل الله فتبينوا ولا تقولوا لمن القى إليكم السلام لست مؤمنا تبتغون عرض الحياة الدنيا فعند الله مغانم كثيرة﴾ إلى آخر الآية (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة، أخرجه أحمد (٢٠٢٣)، والترمذي (٣٠٣٠)، وابن حبان (٤٧٥٢)، والطبري ٥/ ٢٢٣، والطبراني (١١٧٣١)، والحاكم ٢/ ٢٣٥، والبيهقي ٩/ ١١٥، والواحدي في أسباب النزول ص ١١٥، وأصله في البخاري (٤٥٩١)، ومسلم (٣٠٢٥).
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: کہ قبیلہ بنو سلیم کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ایک گروہ کے پاس سے گزرا اس حال میں کہ اس کے پاس بکریوں کا ریوڑ تھا۔ اس نے ان لوگوں پر سلام کہا: تو کچھ لوگوں نے کہا: کہ اس شخص نے تمہیں سلام نہیں کیا مگر اس وجہ سے کہ وہ خود کو تم سے محفوظ رکھے۔ پس یہ لوگ اس کے پیچھے گئے اور اس شخص کو قتل کردیا اور اس کی بکریاں لے لیں پھر وہ اس مال کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم نکلو اللہ کے راستہ میں جہاد کے لیے تو خوب تحقیق کرلیا کرو اور نہ کہو اس شخص کو جو تمہیں سلام کرے کہ تم مومن نہیں ہے۔ کیا تم حاصل کرنا چاہتا ہو سازوسامان دنیاوی زندگی کا؟ تو اللہ کے ہاں بہت غنیمتیں ہیں۔ آیت کے آخر تک۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35317]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35317، ترقيم محمد عوامة 33777)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں