مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. حديث اليمامة ومن شهدها
جنگ یمامہ کا تذکرہ
ترقیم عوامۃ: 34415 ترقیم الشثری: -- 35981
٣٥٩٨١ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة قال: ثنا ثمامة بن عبد الله عن انس ان خالد بن الوليد (وجه) (١) الناس يوم اليمامة (فاتوا) (٢) (على نهر) (٣) ⦗٩⦘ فجعلوا اسافل (اقبيتهم) (٤) في حجزهم، ثم قطعوا إليهم فتراموا فولى المسلمون مدبرين، فنكس خالد ساعة ثم رفع راسه وانا بينه وبين البراء، وكان خالد إذا (حزبه) (٥) امر نظر إلى السماء ساعة ثم رفع راسه إلى السماء، ثم (يفري) (٦) له رايه، (فاخذ) (٧) البراء (افكل) (٨) (فجعلت) (٩) الحده إلى الارض فقال: يا ابن اخي إني (لا افطر) (١٠) . ثم قال: يا براء قم، فقال البراء: الآن؟ قال: نعم الآن، فركب البراء فرسا له انثى، فحمد الله و (اثنى) (١١) عليه ثم قال: (اما) (١٢) بعد يا ايها الناس إنه ما إلى المدينة سبيل، إنما هي الجنة فحضهم ساعة ثم (مصع) (١٣) فرسه (مصعات) (١٤) ، فكاني اراها (تمصع بذنبها) (١٥) ، ثم كبس (١٦) وكبس الناس (١٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (وجد).
(٢) في [أ، ب]: (ماتوا).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [أ، ب، جـ]: (أفنيتهم).
(٥) في [أ، ب]: (أحزنه).
(٦) في [هـ]: (يفرق).
(٧) في [هـ]: (فأخذت).
(٨) أي: رعدة، وسقط من: [أ، ب، هـ].
(٩) في [أ، ب]: (فجعل).
(١٠) في [س، ط]: (لأفطر).
(١١) في [هـ]: (وأنثى).
(١٢) سقط من: [أ، ب، جـ].
(١٣) في [هـ]: (مضغ).
(١٤) في [هـ]: (مضغات).
(١٥) في [أ، ط، هـ]: (تمضغ ثدييها).
(١٦) أي: هجم، وفي [هـ]: زيادة (عليهم).
(١٧) صحيح.
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو دشمنوں کی طرف روانہ فرمایا۔ وہ دریا کے کنارے پر پہنچے، دشمن نے ایک چال کے ذریعے مسلمانوں پر حملہ کیا تو مسلمان تتر بتر ہوگئے اور الٹے پاؤں واپس لوٹ آئے۔ پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر سر جھکایا اور پھر سر اٹھایا۔ میں اس وقت ان کے اور حضرت براء کے درمیان کھڑا تھا۔ حضرت خالد کا معمول تھا کہ جب انہیں کوئی اہم کام پیش آتا تھا تو وہ کچھ دیر آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تھے اور پھر آسمان کی طرف سر اٹھاتے تھے۔ پھر وہ اپنی رائے کا اظہار فرماتے تھے۔ اتنے میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ پر کپکپی طاری ہوئی تو میں نے انہیں زمین کے ساتھ ملا دیا وہ کہنے لگے اے میرے بھائی! میں روزہ توڑنا چاہتا ہوں۔ پھر حضرت خالد نے فرمایا کہ اے براء! اٹھو۔ انہوں نے کہا اس وقت؟ حضرت خالد نے فرمایا کہ ہاں اسی وقت۔ (٢) پھر حضرت براء اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی۔ پھر فرمایا اے لوگو! مدینہ جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے، راستہ ہے تو جنت کا ہے۔ پھر آپ نے کچھ دیر انہیں ترغیب دی۔ پھر اپنے گھوڑے کو تھپکیاں دیں اور چل پڑے اور لوگ بھی ان کے پیچھے چل پڑے۔ (٣) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یمامہ والوں کے شہر میں ایک ٹیلہ تھا۔ یمامہ کے سربراہ نے اس پر اپنے پاؤں رکھے اور وہ ایک موٹا اور لمبا آدمی تھا۔ وہ رجز پڑھنے لگا اور کہنے لگا کہ میں یمامہ کا سربراہ ہوں، میں یہاں کے لوگوں کا ٹھکانہ ہوں اور میں، میں ہوں۔ (٤) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک پہلوان آدمی تھا۔ اس نے حضرت براء رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا تو حضرت براء نے زرہ کے ذریعے اپنا بچاؤ کیا پھر حضرت براء نے اس کی پنڈلی پر وار کیا اور اسے مار ڈالا۔ یمامہ کے حاکم کے پاس ایک چوڑی ذرہ تھی، حضرت براء نے اپنی تلوار رکھی اور اس کی ذرہ لے کر اس سے مارا اور وہ ٹوٹ گیا پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ اس چیز کو رسوا کرے جو تیرے اور میرے درمیان ہے۔ پھر آپ نے اس کی تلوار لے لی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35981]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35981، ترقيم محمد عوامة 34415)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 35981 in Urdu