مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
4. في أمر القادسية وجلولاء
جنگ قادسیہ اور جنگ جلولاء کا بیان
ترقیم عوامۃ: 34471 ترقیم الشثری: -- 36042
٣٦٠٤٢ - حدثنا ابو اسامة قال: اخبرنا الصلت بن بهرام حدثنا (جميع) (١) بن عمير (التيمي) (٢) عن عبد الله بن عمر قال: شهدت جلولاء فابتعت من الغنائم باربعين الفا، فقدمت بها على عمر فقال: ما هذا؟ قلت: ابتعت من الغنائم باربعين الفا، فقال: يا صفية (احفظي) (٣) بما قدم به عبد الله (بن عمر) (٤) ، عزمت عليك ان تخرجي منه شيئا، قالت: يا امير المؤمنين، وإن كانت غير طيب، قال: ذاك لك، ⦗٣٦⦘ قال: فقال لعبد الله بن عمر: ارايت (لو) (٥) انطلق بي إلى النار اكنت (مفتدي) (٦) ، قلت: نعم ولو بكل شيء اقدر عليه، قال: فإني كانني شاهدك يوم جلولاء وانت تبايع (الناس) (٧) ويقولون: هذا عبد الله بن عمر صاحب رسول الله ﷺ وابن امير المؤمنين واكرم اهله عليه، و (انت) (٨) كذلك قال: فإن (يرخصوا) (٩) عليك بمائة احب إليهم من ان يغلوا عليكم بدرهم، وإني (مخاصم) (١٠) ، وساعطيك من الربح افضل ما يربح رجل من قريش، اعطيك ربح الدرهم (درهما) (١١) ، قال: فخلى علي سبعة ايام ثم دعا التجار فباعه باربعمائة الف، فاعطاني ثمانين الفا، وبعث بثلاثمائة الف وعشرين الفا إلى سعد، فقال: اقسم هذا المال بين الذين شهدوا الوقعة، فإن كان (مات فيهم) (١٢) احد فابعث بنصيبه إلى ورثته (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ط]: (حميد).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (الليثي)، وفي [جـ، س، ص، ع]: (البتي)؛ والمثبت هو الموافق لكتب التراجم.
(٣) في [س]: (احتفظي).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [أ، ب]: (إن).
(٦) في [أ، هـ]: (مقتدي).
(٧) سقط من: [أ، هـ].
(٨) زيادة من: [هـ].
(٩) في [أ، ب]: (ترخصوا).
(١٠) في [هـ]: (قاسم).
(١١) سقط من: [جـ].
(١٢) في [أ، ب]: (مات منهم).
(١٣) ضعيف؛ لضعف جميع بن عمير، أخرجه أبو عبيد في الأموال (٦٣٨)، وابن عساكر ٤٤/ ٣٢٣.
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں جلولاء کی جنگ میں شریک ہوا اور میں نے مال غنیمت سے چالیس ہزار حاصل کئے۔ پھر میں نے وہ حضرت عمر کی خدمت میں پیش کئے، انہوں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ میں نے کہا کہ میں نے مال غنیمت سے حاصل کئے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اے صفیہ! جو چیز عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما لائے ہیں اس کی حفاظت کرو۔ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم نے اس میں سے کچھ نہیں نکالنا۔ انہوں نے کہ اے امیر المومنین! اگر کوئی چیز غیر طیب ہو تو؟ حضرت عمر نے فرمایا کہ وہ تمہارے لئے ہے۔ (٢) پھر حضرت عمر نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ اگر مجھے آگ کی طرف لے جایا جارہا ہو تو کیا تم یہ چیز فدیہ دے کر مجھے چھڑاؤ گے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں ضرور ایسا کروں گا بلکہ ہر وہ چیز جو میرے پاس ہو میں فدیے میں دے دوں گا۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا کہ جلولاء کی جنگ میں لوگوں نے تمہارا خیال رکھا، تمہارے ہاتھ پر بیعت کی اور کہا کہ یہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ امیر المومنین کے بیٹے ہیں، ان کے معزز ترین فرد ہیں اور آپ واقعی ایسے ہیں۔ وہ آپ کو سو درہم کی رعایت کریں یہ انہیں زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ وہ آپ سے ایک درہم زیادہ وصول کریں۔ میں تقسیم کرتا ہوں میں تمہیں قریش کے ہر آدمی سے زیادہ نفع دوں گا۔ پھر آپ نے تاجروں کو بلایا اور ان کی چیزیں چار لاکھ کی بیچ دیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھے اسی ہزار دیئے اور تین لاکھ بیس ہزار حضرت سعد کو بھجوا دیئے اور فرمایا کہ یہ مال ان مجاہدین میں تقسیم کردو جو جنگ میں شریک تھے۔ اگر ان میں سے کوئی مرچکا ہو تو اس کے ورثہ کو دے دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36042]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36042، ترقيم محمد عوامة 34471)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 36042 in Urdu