مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
4. في أمر القادسية وجلولاء
جنگ قادسیہ اور جنگ جلولاء کا بیان
ترقیم عوامۃ: 34432 ترقیم الشثری: -- 35999
٣٥٩٩٩ - حدثنا ابو اسامة عن إسماعيل عن قيس قال: شهدت القادسية وكان سعد على الناس وجاء رستم فجعل عمرو بن معدي كرب الزبيدي (يمر) (١) على الصفوف ويقول: يا معشر المهاجرين كونوا (اسودا) (٢) اشداء (اغنى) (٣) شانه، إنما الفارسي تيس (بعد) (٤) ان يلقي (نيزكه) (٥) . قال: وكان معهم (اسوار) (٦) لا تسقط له نشابة، فقلنا له: يا ابا ثور، اتق ذاك، قال: فإنا لنقول ذاك إذ رمانا فاصاب فرسه، فحمل عمرو عليه فاعتنقه ثم ذبحه فاخذ سلبه سواري ذهب كانا عليه ومنطقة وقباء ديباج. وفر رجل من ثقيف فخلا بالمشركين فاخبرهم فقال: إن الناس في هذا الجانب واشار إلى (بجيلة) (٧) ، قال: فرموا (إلينا) (٨) (ستة عشر) (٩) فيلا عليها المقاتلة، وإلى سائر الناس (فيلين) (١٠) قال: وكان سعد يقول يومئذ: سا بجيلة (١١) . ⦗١٨⦘ قال قيس: وكنا ربع الناس يوم القادسية، فاعطانا عمر ربع السواد فاخذناه ثلاث سنين، فوفد بعد ذلك جرير إلى عمر ومعه عمار بن ياسر فقال عمر: الا (تخبراني) (١٢) عن منزليكم هذين؟ ومع ذلك إني لاسلكها وإني لاتبين في وجوهها اي المنزلين خير؟ قال: فقال جرير: انا اخبرك يا امير المؤمنين اما احد المنزلين فادنى نخلة من السواد إلى ارض العرب، واما المنزل الآخر فارض فارس (وعكها) (١٣) وحرها وبقها -يعني المدائن، قال: فكذبني عمار فقال: كذبت، قال: فقال عمر: انت اكذب، قال: (ثم) (١٤) قال: الا تخبروني عن (اميركم) (١٥) هذا (امجزئ) (١٦) هو؟ قالوا: لا والله ما هو بمجرئ ولا (كاف ولا) (١٧) عالم بالسياسة، فعزله وبعث المغيرة بن شعبة (١٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (يمر).
(٢) في [جـ]: (أسود).
(٣) في [أ، ب]: (أعبى).
(٤) في [هـ]: (هد).
(٥) في [أ، ب]: (منزله).
(٦) في [أ]: (ساور)، وفي [ب، جـ]: (أساور).
(٧) في [ب]: (نخيلة).
(٨) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٩) في [أ، ب، جـ]: (السادسة عشر).
(١٠) في [أ، س]: (فليس).
(١١) كذا في النسخ، وفي تاريخ دمشق ٤٦/ ٣٧٩: (بجيلة).
(١٢) في [ب]: (يخبراني).
(١٣) في [أ، هـ]: (وعليها).
(١٤) في [هـ]: (لم).
(١٥) في [هـ]: (أمير).
(١٦) في [هـ]: (أمجري).
(١٧) سقط من: [هـ].
(١٨) صحيح.
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ میں جنگ قادسیہ میں مسلمانوں کی طرف سے شریک تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص اس جنگ میں مسلمانوں کے امیر تھے۔ رستم اپنی فوج کو لے کر آیا تو حضرت عمرو بن معدی کرب زبیدی مسلمانوں کی صفوں میں سے گزرے اور ان سے کہا کہ اے مہاجرین کی جماعت! بہادر شیر بن جاؤ، اصل شیر وہ ہے جو اپنی جان کی پروا نہ کرے۔ فارسیوں کا مزاج ہے کہ جب وہ اپنا نیزہ ڈال دیں تو بکرے کی طرح ہیں۔ ان کے علاقے کے گرد بڑی بڑی دیواریں ہیں جن سے تیر تجاوز نہیں کرتے۔ ہم نے ان سے کہا کہ اے ابو ثور! ان سے بچ کر رہنا۔ پھر ہم نے تیر چلائے، ایک تیر فارسیوں کے بادشاہ کے گھوڑے کو لگا، پھر حضرت عمرو نے اس پر حملہ کرکے اسے قتل کردیا اور اس کا سامان حاصل کرلیا جس میں سونے کے دو کنگن تھے، ایک چادر تھی اور ایک ریشم کا چوغہ تھا۔ (٢) ثقیف کا ایک آدمی بھاگا اور اس نے جا کر مشرکین کو خبر دے دی اور اس نے بجیلہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اس طرف سے آرہے ہیں، پھر انہوں نے ہماری طرف سولہ ہاتھی بھیجے جن پر جنگجو سوار تھے۔ اور تمام لوگوں کی طرف دوہاتھی بھیجے۔ حضرت سعد اس دن فرما رہے تھے کہ بجیلہ سے پیچھے ہٹ جاؤ۔ حضرت قیس فرماتے ہیں کہ ہم جنگ قادسیہ میں لوگوں کا ایک چوتھائی تھے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں آلات جنگ کا چوتھائی حصہ دیا اور ہم نے تین سال اسے استعمال کیا۔ (٣) اس کے بعد حضرت جریر حضرت عمار بن یاسر کی معیت میں ایک وفد کے ساتھ حضرت عمر کے پاس آئے۔ حضرت عمر نے ان سے فرمایا کہ تم دونوں نے مجھے اپنے ان دو گھروں کے بارے میں نہیں بتایا۔ اس کے باوجود میں تم سے سوال کرتا ہوں اور میں تمہارے چہروں سے اندازہ کرسکتا ہوں کہ دونوں میں سے کون سا گھر بہتر ہے؟ حضرت جریر نے کہا کہ اے امیر المومنین! میں آپ کو خبر دیتا ہوں۔ ایک گھر تو وہ ہے جو سرزمین عرب سے کم کھجوریں دینے والا ہے اور دوسرا گھر سرزمین فارس ہے، اس کی گرمی، اس کی تپش اور اس کی وسیع وادی یعنی مدائن ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمار نے میری تکذیب کی اور کہا کہ آپ نے جھوٹ بولا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں تمہارے امیر کے بارے میں بتاؤں کہ کیا وہ تمہارے لئے کافی ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ نہ تو وہ کافی ہیں اور نہ ہی سیاست کے رموز کو جانتے ہیں۔ پھر حضرت عمر نے انہیں معزول کرکے حضرت مغیرہ بن شعبہ کو امیر بنا کر بھیج دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35999]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35999، ترقيم محمد عوامة 34432)
ترقیم عوامۃ: 34433 ترقیم الشثری: -- 36000
٣٦٠٠٠ - حدثنا ابو اسامة عن إسماعيل عن قيس قال: كان سعد قد اشتكى قرحة في رجله يومئذ، فلم يخرج إلى القتال، (قال: فكانت) (١) من الناس انكشافة، قال: فقالت امراة سعد وكانت قبله تحت المثنى بن حارثة الشيباني: لا مثنى للخيل، فلطمها سعد فقالت: (جبنا) (٢) وغيرة، (قال: ثم هزمناهم) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [ب]: (جينا).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) صحيح.
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص کے پاؤں پر ایک پھوڑا نکل آیا اور وہ قتال کے لئے نہ جاسکے۔ لوگوں میں ایک بےچینی تھی۔ حضرت سعد کی زوجہ جو کہ پہلے مثنی بن حارثہ شیبانی کے نکاح میں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ گھڑ سواروں کے لئے کوئی مثنی نہیں ہے! اس پر حضرت سعد نے انہیں تھپڑ مارا۔ اس نے کہا کہ بزدلی اور غیرت کی وجہ سے!!! راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے دشمنوں کو شکست دے دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36000]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36000، ترقيم محمد عوامة 34433)
ترقیم عوامۃ: 34434 ترقیم الشثری: -- 36001
٣٦٠٠١ - [حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل عن قيس ان امراة سعد كان يقال لها سلمى بنت خصفة امراة رجل من بني شيبان يقال له المثنى بن الحارثة، وانها ذكرت شيئا من امر مثنى فلطمها سعد فقالت: جبن وغيرة] (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الحديث من: [أ، ب].
(٢) صحيح.
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص کی ایک بیوی جن کا نام سلمی بنت خصفہ تھا، وہ بنو شیبان کے ایک شخص مثنی بن حارثہ کے نکاح میں رہ چکی تھیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ حضرت سعد کے سامنے مثنی کا ذکر کیا تو حضرت سعد نے انہیں تھپڑ مارا۔ انہوں نے کہا بزدلی اور غیر ت کی وجہ سے مارتے ہو!!! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36001]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36001، ترقيم محمد عوامة 34434)
ترقیم عوامۃ: 34435 ترقیم الشثری: -- 36002
٣٦٠٠٢ - حدثنا ابو معاوية عن (عمرو) (١) بن مهاجر عن إبراهيم بن محمد بن سعد عن ابيه قال: اتي سعد بابي محجن يوم القادسية وقد شرب الخمر فامر به (إلى) (٢) (القيد) (٣) . قال: وكان بسعد جراحة، فلم يخرج يومئذ إلى الناس قال: فصعدوا به فوق العذيب (٤) لينظر إلى الناس، قال: واستعمل على الخيل خالد بن عرفطة. فلما التقى الناس قال ابو محجن: كفى حزنا ان تردى الخيل بالقنا … واترك مشدودا علي وثاقيا فقال لابنة خصفة امراة سعد: اطلقيني، ولك علي إن سلمني الله ان ارجع حتى اضع رجلي في القيد، وإن قتلت (استرحتم) (٥) قال: فحلته حين التقى الناس. قال: فوثب على فرس لسعد يقال لها البلقاء، قال: ثم اخذ رمحا ثم خرج، فجعل لا يحمل على ناحية من العدو إلا هزمهم، قال: وجعل الناس يقولون: هذا ⦗٢٠⦘ ملك، لما يرونه يصنع، قال: وجعل سعد يقول: (الضبر ضبر) (٦) البلقاء، والطعن طعن ابي محجن، وابو محجن في القيد، قال: فلما هزم العدو رجع ابو محجن حتى وضع رجليه في القيد. فاخبرت بنت خصفة سعدا بالذي كان من امره، قال: فقال سعد: والله لا اضرب اليوم رجلا ابلى الله المسلمين على يدله ما ابلاهم، قال: فخلى سبيله، قال: فقال ابو محجن: قد كنت اشربها حيث كان يقام علي الحد فاطهر منها، فاما إذ بهرجتني فلا والله لا اشربها ابدا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، وسنن سعيد (٢٥٠٢)، والاستيعاب ٤/ ١٧٥٠، ولعل صوابه: محمد بن مهاجر القرشي الكوفي لين الحديث.
(٢) في [هـ]: (إلا).
(٣) في [أ، ب]: (العبد).
(٤) قصر قرب القادسية.
(٥) في [أ، ب، جـ]: (استرحم).
(٦) أي: الوثب، وفي [أ، ب]: (الصبر صبر).
حضرت محمد بن سعد فرماتے ہیں کہ قادسیہ کی جنگ کے دوران ایک دن ابو محجن شاعر کو شراب پینے کے جرم میں حضرت سعد بن ابی وقاص کے پاس لایا گیا۔ حضرت سعد نے اسے بیڑیوں میں باندھنے کا حکم دے دیا۔ اس وقت حضرت سعد زخمی تھے اور لوگوں کے پاس نہ جاسکتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے اپنے مجاہدین کی نگرانی کے لئے عذیب نامی چشمے کے علاقے کو منتخب کیا اور معائنہ کرنے لگے۔ آپ نے خالد بن عرفطہ کو گھڑ سواروں کا قائد بنایا تھا۔ جب جنگ شروع ہوئی تو ابو محجن نے ایک شعرکہا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ تم گھڑ سواروں کو ہلاک کررہے ہو اور مجھے بیڑیوں میں جکڑ رکھا ہے۔ (٢) پھر اس نے حضرت سعد کی بیوی بنت خصفہ سے کہا کہ تم مجھے آزاد کردو میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر زندہ رہا تو واپس آکر خود اس بیڑی میں خود کو جکڑ لوں گا اور اگر مار دیا گیا تو رحمت کی دعا کی درخواست کروں گا۔ پھر بنت خصفہ نے اس کھول دیا اورادھر میدان کارزار گرم ہوچکا تھا۔ (٣) اس نے ایک چھلانگ لگائی تو حضرت سعد کے بلقاء نامی گھوڑے پر سوار ہوا، ایک نیزہ پکڑا اور دشمنوں پر حملہ کردیا وہ جہاں جاتا تھا دشمنوں کو شکست دے دیتا ہے۔ یہاں تک کہ لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ یہ بادشاہ ہے! اور حضرت سعد فرما رہے تھے کہ چھلانگ تو میرے گھوڑے بلقاء کی ہے اور نیزہ چلانا ابو محجن کا ہے جب کہ ابو محجن تو قید میں ہے!! (٤) جب دشمن کو شکست ہوگئی تو ابو محجن واپس آیا اور خود کو بیڑی میں جکڑ لیا۔ بنت خصفہ نے سارا واقعہ حضرت سعد کو بتایا تو انہوں نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں ایسے آدمی پر حد جاری نہیں کرسکتا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کامیابی عطا فرمائی۔ پھر حضرت سعد نے ابو محجن کو آزاد کردیا۔ اس پر ابو محجن نے کہا کہ جب مجھ پر حد قائم کی جاتی تھی تو میں شراب پیتا تھا اور حد کے ذریعہ پاک ہوجاتا تھا اور اب جبکہ آپ نے مجھ سے حد معاف کردی ہے تو خدا کی قسم میں شراب نہیں پیوں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36002]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36002، ترقيم محمد عوامة 34435)
ترقیم عوامۃ: 34436 ترقیم الشثری: -- 36003
٣٦٠٠٣ - حدثنا عفان قال: ثنا ابو (عوانة) (١) قال: ثنا حصين عن ابي وائل قال: جاء سعد بن ابي وقاص (حتى) (٢) نزل القادسية ومعه الناس، قال: فما ادري لعلنا ان لا نزيد على سبعة آلاف او ثمانية آلاف بين ذلك، والمشركون (ستون) (٣) الفا او نحو ذلك، معهم الفيول. قال: فلما نزلوا قالوا لنا: ارجعوا وإنا لا نرى لكم عددا، ولا نرى لكم قوة ولا سلاحا، فارجعوا، قال: قلنا: ما نحن براجعين؟ قال: وجعلوا يضحكون بنبلنا ويقولون: (دوك) (٤) -يشبهونها بالمغازل. قال: فلما (ابينا) (٥) عليهم قالوا: ابعثوا إلينا رجلا عاقلا يخبرنا بالذي جاء ⦗٢١⦘ بكم من بلادكم، فإنا لا نرى لكم عددا ولا عدة، (قال) (٦) : فقال المغيرة بن شعبة: انا، قال: فعبر إليهم. قال: فجلس مع رستم على السرير، قال: (فنخر) (٧) ونخروا (حين جلس معه) (٨) على السرير، قال: قال المغيرة: ما زادني (٩) مجلسي هذا ولا نقص صاحبكم، قال: فقال: اخبروني ما جاء بكم من بلادكم، فإني لا ارى لكم عددا ولا عدة، قال: فقال: كنا قوما في (شقاء) (١٠) وضلالة فبعث الله فينا (نبيا) (١١) فهدانا الله على يديه ورزقنا على يديه، فكان فيما رزقنا حبة زعموا انها تنبت (بهذه) (١٢) الارض، فلما اكلنا منها واطعمنا منها اهلينا قالوا: لا خير لنا حتى (تنزلوا) (١٣) هذه البلاد فناكل هذه الحبة، قال: فقال رستم: إذا نقتلكم، قال: فإن قتلتمونا دخلنا الجنة، وإن قتلناكم دخلتم النار، وإلا اعطيتم الجزية، قال: فلما قال: اعطيتم الجزية قال: صاحوا ونخروا وقالوا: لا صلح بيننا وبينكم، (قال) (١٤) : (فقال) (١٥) المغيرة: (اتعبرون) (١٦) إلينا او (نعبر) (١٧) ⦗٢٢⦘ إليكم، قال: فقال رستم: بل (نعبر) (١٨) إليكم (١٩) . (قال) (٢٠) : فاستاخر منه المسلمون حتى عبر منهم (من عبر) (٢١) قال: فحمل عليهم المسلمون فقتلوهم وهزموهم (٢٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (أعوانه).
(٢) في [أ، هـ]: (حين).
(٣) في [أ، ب، هـ]: (ثلاثون).
(٤) في [أ، ط]: (دور)، وفي [س]: (دود).
(٥) في [أ، ب]: (أتينا).
(٦) في [أ]: (قا).
(٧) في [أ، ب]: (فنخروا).
(٨) في [أ، ب]: (معه حين جلس).
(٩) في [هـ]: زيادة (في).
(١٠) في [س]: (شقاق).
(١١) في [أ، هـ]: (نبينا).
(١٢) في [أ، ب، جـ]: (بهذا).
(١٣) في [جـ]: (تزلوا).
(١٤) سقط من: [جـ].
(١٥) في [أ، ب]: (قال).
(١٦) في [أ، ب]: (أتغيرون).
(١٧) في [أ، ب]: (نغير).
(١٨) في [أ، ب]: (نغير).
(١٩) في [جـ]: زيادة (بدلا).
(٢٠) في [أ، ب]: (بدلا).
(٢١) سقط من: [أ، ب].
(٢٢) صحيح؛ أخرجه الطبراني في التاريخ ٢/ ٣٨٩.
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص اپنا لشکر لے کر قادسیہ پہنچے۔ میرے خیال میں ہم لوگ سات یا آٹھ ہزار سے زائد نہیں تھے۔ جبکہ مشرک دشمن ساٹھ ہزار سے زائد تھے۔ ان کے پاس ہاتھی بھی تھے۔ جب وہ میدان میں اترے تو انہوں نے ہم سے کہا کہ واپس چلے جاؤ، نہ تمہارے پاس تعداد ہے، نہ قوت ہے اور نہ ہی اسلحہ۔ واپس چلے جاؤ۔ ہم نے کہا کہ ہم واپس نہیں جائیں گے۔ وہ ہمارے تیروں کو دیکھ کر بھی ہنستے تھے اور انہیں چرخے سے تشبیہ دیتے تھے۔ جب ہم نے ان کی بات ماننے اور واپس جانے سے انکار کردیا تو انہوں نے کہا کہ کسی سمجھدار آدمی کو ہمارے پاس بھیجو جو تمہاری آمد کے مقصد کو ہمارے لئے واضح کردے کیونکہ ہم تو نہ تم میں کوئی تعداد دیکھتے ہیں اور نہ ہی کوئی قوت! (٢) اس پر حضرت مغیرہ بن شعبہ نے کہا کہ میں ان کے پاس جاتا ہوں۔ حضرت مغیرہ ان کے پاس گئے اور جاکر رستم کے ساتھ اس کے تخت پر بیٹھ گئے۔ یہ بات رستم کو اور اس کے ساتھیوں کو بہت ناگوار محسوس ہوئی۔ حضرت مغیرہ نے کہا کہ میرے یہاں بیٹھنے سے نہ تو میری عزت میں اضافہ ہوا ہے اور نہ تمہارے بادشاہ کی شان میں کوئی کمی ہوئی ہے۔ رستم نے کہا کہ مجھے بتاؤ کہ تم اپنے شہر سے یہاں کیوں آئے ہو کیونکہ میں تم میں نہ کوئی تعداد دیکھتا ہوں اور نہ ہی قوت؟ اس پر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم ایک ایسی قوم تھے جو بدبختی اور گمراہی کا شکارتھی۔ اللہ تعالیٰ نے ہم میں ایک نبی کو بھیجا جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی وجہ سے ہمیں روزی بھی عطا کی۔ جو روزی ان کی وجہ سے ہمیں ملی اس میں ایک ایسا غلہ تھا جس کے بارے میں لوگوں کو خیال ہے کہ وہ اس سرزمین میں پیدا ہوتا ہے۔ جب ہم نے اسے کھایا اور اپنے گھر والوں کو کھلایا تو لوگوں نے کہا کہ ہمارے لئے اس وقت تک کوئی بھلائی نہیں جب تک ہم اس سرزمین میں جاکر اس غلے کونہ کھالیں۔ (٣) رستم نے کہا کہ پھر ہم تمہیں قتل کریں گے۔ حضرت مغیرہ نے کہا کہ اگر تم ہمیں قتل کرو گے تو ہم جنت میں داخل ہوں گے اور اگر ہم نے تمہیں قتل کیا تو تم جہنم میں جاؤ گے۔ لڑائی نہ ہونے کی صورت میں تمہیں جزیہ دینا ہوگا۔ جب حضرت مغیرہ نے کہا کہ تمہیں جزیہ دینا ہوگا تو وہ لوگ چیخنے لگے اور شدید غصے کا اظہار کرنے لگے۔ اور کہا کہ تمہاری اور ہماری صلح نہیں ہوگی۔ پھر حضرت مغیرہ نے فرمایا کہ تم ہماری طرف پیش قدمی کرتے ہو یا ہم تمہاری طرف بڑھیں؟ رستم نے کہا کہ ہم تمہاری طرف آتے ہیں۔ پس مسلمان پیچھے ہوئے اور ان میں سے جس نے آگے بڑھنا تھا آگے بڑھا اور مسلمانوں نے ان پر حملہ کیا، انہیں قتل کیا اور انہیں شکست دے دی۔ راوی حضرت حصین فرماتے ہیں کہ ان کے بادشاہ رستم کا تعلق آذربائیجان سے تھا۔ (٤) حضرت حصین فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ایک بزرگ عبید بن جحش کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہم آدمیوں کی پشتوں پر چل رہے تھے اور آدمیوں کی پشتوں پر خندق عبورکر رہے تھے۔ انہیں کسی ہتھیارنے چھوا تک نہیں تھا، انہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا تھا۔ ہمیں ایک شیشی میں کچھ کافورملی، ہم نے سمجھا کہ یہ نمک ہے۔ چناچہ ہم نے گوشت پکایا اور اس پرا سے چھڑکا لیکن ہمیں کچھ ذائقہ محسوس نہ ہوا۔ ہمارے پاس سے ایک قمیص میں ملبوس ایک عیسائی راہب گزرا اور اس نے کہا کہ اے عرب کے لوگو! اپنا کھانا خراب نہ کرو۔ اس سرزمین کے نمک میں کوئی خیر نہیں۔ کیا میں تمہیں اسکے بدلے یہ قمیص دے دوں۔ چناچہ نے ہم نے وہ شیشی ایک قمیص کے بدلے اسے دے دی اور وہ قمیص اپنے ایک ساتھی کو دی اور وہ اس نے پہن لی۔ ہم اسے گھمانے لگے اور خوش ہونے لگے۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ اس قمیص کی قیمت دودرہم ہے۔ (٥) عبید بن جحش نامی بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا جس نے دو کنگن پہن رکھے تھے، اسکا ہتھیار ایک قبر میں تھا۔ میں نے اسے باہر نکلنے کو کہا وہ باہر نکلا، نہ اس نے ہم سے بات کی اور نہ ہم نے اس سے بات کی اور ہم نے اسے قتل کردیا۔ پھر ہم نے انہیں شکست دے دی اور وہ فرات چلے گئے۔ ہم نے انہیں تلاش کیا اور شکست خوردہ ہو کر سوراء تک چلے گئے۔ پھر ہم نے انہیں تلاش کیا، انہیں شکست دی تو وہ صراۃ چلے گئے، پھر ہم نے انہیں تلاش کیا، انہیں شکست دی تو وہ مدائن چلے گئے۔ پھر ہم کوثیٰ نامی جگہ ٹھہرے، وہاں مشرکین کے مسلح جنگجو تھے۔ مسلمانوں کے گھڑ سواروں نے ان سے جنگ کی تو وہ شکست کھا کرمدائن چلے گئے۔ (٦) پھر مسلمان چلے اور دریائے دجلہ کے کنارے جاکر پڑاؤ ڈالا۔ پھر مسلمانوں کی ایک جماعت نے کلواذی یا اس کی نچلی جانب سے مدائن کو عبور کیا اور کافروں کا محاصرہ کرلیا۔ یہاں تک کہ ان کے پاس کھانے کے لئے ان کے کتوں اور بلیوں کے سوا کچھ نہ بچا۔ پھر ایک رات کے بعد وہ جلولاء آئے اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ لوگوں کو لے کر چلے اور حضرت ہاشم بن عتبہ لوگوں کے آگے تھے۔ اس کے بعد [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36003]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36003، ترقيم محمد عوامة 34436)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 36004
٣٦٠٠٤ - قال حصين: كان ملكهم رستم من اهل آذربيجان (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36004، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 36005
٣٦٠٠٥ - قال حصين: وسمعت شيخا منا يقال: له عبيد بن جحش قال: لقد رايتنا نمشي على ظهور الرجال، نعبر الخندق على ظهور الرجال، ما مسهم (سلاح) (١) ، قد قتل بعضهم بعضا. قال: ووجدنا جرابا فيه كافور، قال: فحسبناه ملحا لا نشك فيه انه ملح، قال: فطبخنا لحما فطرحنا منه فيه، (فلم) (٢) نجد له طعما فمر بنا عبادي معه قميص، قال: فقال: يا معشر المعربين لا تفسدوا طعامكم فإن ملح هذه الارض لا خير فيه، هل لكم ان اعطيكم فيه هذا القميص. قال: (فاعطانا) (٣) به قميصا، فاعطيناه صاحبا لنا فلبسه، قال: فجعلنا ⦗٢٣⦘ نطيف به ونعجب (٤) ، قال: فإذا (ثمن) (٥) القميص حين (عرفنا) (٦) الثياب درهمان. قال: ولقد رايتني اشرت إلى رجل وإن عليه لسوارين من ذهب وإن سلاحه تحت في قبر من تلك القبور، واشرت إليه فخرج إلينا، قال: فما (كلمنا ولا) (٧) كلمناه حتى ضربنا عنقه. فهزمناهم حتى بلغوا الفرات قال: فركبنا فطلبناهم فانهزموا حتى انتهوا [ (سوراء) (٨) ، قال: فطلبناهم فانهزموا حتى اتوا السراة، قال: فطلبناهم حتى انتهوا إلى] (٩) المدائن، قال: فنزلنا (كوثى) (١٠) ، قال: ومسلحة (للمشركين) (١١) (بديري من) (١٢) (المسالح) (١٣) ، فاتتهم خيل المسلمين فتقاتلهم، فانهزمت مسلحة المشركين حتى لحقوا بالمدائن. وسار المسلمون حتى نزلوا على شاطئ دجلة، وعبر طائفة من المسلمين من (كلواذي) (١٤) من اسفل من الدائن فحصروهم حتى ما (يجدون) (١٥) طعاما إلا ⦗٢٤⦘ كلابهم (وسنانيرهم) (١٦) ، قال: فتحملوا في ليلة حتى اتوا جلولاء، قال: فسار إليهم سعد بالناس وعلى مقدمته هاشم بن عتبة، قال: وهي الواقعة التي كانت، قال: فاهلكهم الله وانطلق (فلهم) (١٧) إلى نهاوند.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (السلاح)، وفي [جـ]: (سالع).
(٢) في [س، ط]: (فلما)، وفي [هـ]: (فلما لم).
(٣) في [أ، ب]: (فأعطى).
(٤) في [هـ]: زيادة (منه).
(٥) في [أ، ب، جـ]: (عن).
(٦) في [س]: (عرفت).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) في [س]: (سوار)، وفي [خ]: (سرًا).
(٩) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب، جـ، هـ].
(١٠) في [أ، ب، جـ]: (لوثا)، وفي [هـ]: (كوثا).
(١١) في [أ، ب]: (المشركين).
(١٢) في [هـ]: (بدير).
(١٣) في [هـ]: (المسلاخ).
(١٤) في [أ، ب]: (كاف أداو)، وفي [جـ]: (كاواداو).
(١٥) في [أ، ب، جـ]: (يجدوا).
(١٦) في [أ، ب، جـ]: (سافريهم).
(١٧) في [جـ]: (فهم).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36005، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 36006
٣٦٠٠٦ - قال: وقال ابو وائل: إن المشركين لما انهزموا من جلولاء اتوا نهاوند، قال: فاستعمل عمر بن الخطاب على اهل الكوفة حذيفة بن اليمان، وعلى اهل البصرة مجاشع بن مسعود السلمي. قال: (فاتاه) (١) عمرو بن معدي كرب فقال له: اعطني (فرس مثلي) (٢) ، وسلاح مثلي، قال: نعم، اعطيك من مالي، قال: فقال له عمرو بن معدي كرب: والله لقد هاجيناكم (فما افحمناكم) (٣) وقاتلناكم فما اجبناكم، وسالناكم فما (ابخلناكم) (٤) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (فأتى).
(٢) في [هـ]: (فرسي).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [هـ]: (أنجلناكم).
(٥) صحيح؛ وهو تكملة الخبر ١٢/ ٥٦٥.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36006، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 36007
٣٦٠٠٧ - قال حصين: وكان النعمان بن مقرن على كسكر، قال: فكتب إلى عمر: يا امير المؤمنين إن مثلي ومثل كسر كمثل رجل شاب عند مومسة (تلون) (١) له وتعطر، وإني انشدك بالله لما عزلتني عن كسكر، وبعثتني في جيش من جيوش المسلمين، قال: فكتب إليه: سر إلى الناس بنهاوند فانت عليهم. ⦗٢٥⦘ قال: فسار إليهم فالتقوا، فكان اول قتيل، قال: واخذ سويد بن مقرن الراية ففتح الله لهم واهلك الله المشركين، فلم يقم لهم جماعة بعد يومئذ، قال: وكان اهل (كل) (٢) مصر يسيرون إلى عدوهم (و) (٣) بلادهم. قال حصين: لما هزم المشركون من المدائن لحقهم يحلولاء، ثم رجع وبعث عمار بن ياسر فسار حتى نزل المدائن، قال: واراد ان ينزلها بالناس، فاجتواها الناس وكرهوها. فبلغ عمر ان الناس كرهوها فسال: هل يصلح بها الإبل؟ قالوا: لا؛ لان بها البعوض، قال: فقال عمر: فإن العرب لا تصلح بارض لا يصلح بها الإبل، قال: (فرجعوا) (٤) ، قال: فلقي سعد (عباديا) (٥) ، قال: فقال: انا ادلكم على ارض ارتفعت من البقة وتطاطات من السبخة وتوسطت الريف وطعنت في انف التربة، قال: ارض بين الحيرة والفرات (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (يكون).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٣) في [ط، هـ]: (في).
(٤) في [هـ]: (فارجعوا).
(٥) في [ب]: (عبادتا).
(٦) منقطع؛ عبيد بن مجشن لم يدرك ذلك.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36007، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 34437 ترقیم الشثری: -- 36008
٣٦٠٠٨ - حدثنا ابن ابي زائدة عن مجالد عن الشعبي قال: كتب عمر إلى سعد يوم القادسية: إني قد بعثت إليك اهل الحجاز واهل اليمن، فمن ادرك منهم القتال قبل ان (يتفقؤا) (١) فاسهم لهم (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ينفيؤا)، وتقدم (ينقضوا).
(٢) ضعيف منقطع، الشعبي تابعي، ومجالد ضعيف.
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ کے موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد کے نام ایک خط لکھا جس میں لکھا کہ میں آپ کی طرف حجاز والوں کو اور یمن والوں کو بھیج رہا ہوں، ان میں سے جو قتال کے قابل ہو اسے مال غنیمت میں سے حصہ دیجئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36008]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36008، ترقيم محمد عوامة 34437)