مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
5. في توجيه النعمان بن مقرن إلى نهاوند
سیدنا نعمان بن مقرن کی نہاوند کی جانب روانگی کا بیان
ترقیم عوامۃ: 34479 ترقیم الشثری: -- 36050
٣٦٠٥٠ - حدثنا معاوية بن عمرو قال: حدثنا زائدة قال: ثنا عاصم بن كليب الجرمي قال: حدثني ابي انه ابطا على عمر خبر نهاوند وبن مقرن وانه كان يستنصر وان الناس كانوا يرون من استنصاره انه لم يكن له ذكر (إلا) (١) نهاوند وابن مقرن، قال: فقدم عليهم اعرابي، فقال: ما بلغكم عن نهاوند وابن مقرن؟ قالوا: وما ذاك؟ قال: لا شيء، قال: (فنمت) (٢) إلى عمر، قال: فارسل إليه فقال: ما ذكرك نهاوند وابن مقرن؟ فإن جئت بخبر فاخبرنا، قال: يا امير المؤمنين انا فلان بن فلان العلاني، خرجت باهلي ومالي مهاجرا إلى الله ورسوله حتى نزلنا موضع كذا وكذا، فلما ارتحلنا إذا رجل على جمل احمر لم ار مثله، فقلنا: من اين اقبلت؟ قال: من العراق، قلنا: فما خبر الناس؟ قال: التقوا فهزم الله العدو وقتل ابن مقرن ولا ⦗٤٠⦘ (والله لا) (٣) ادري (٤) (ما) (٥) نهاوند ولا ابن مقرن (قال) (٦) : اتدري اي يوم ذلك من الجمعة، قال: (لا) (٧) والله ما ادري، (قال) (٨) : لكني ادري، فعد (منازلك) (٩) ، قال: ارتحلنا يوم كذا وكذا فنزلنا موضع كذا وكذا فعد منازله، قال: ذاك يوم كذا وكذا من الجمعة، ولعلك ان تكون لقيت (بريدا) (١٠) من برد الجن، فإن لهم بردا، قال: فمضى ما شاء الله ثم جاء الخبر بانهم التقوا في ذلك اليوم (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، هـ].
(٢) أي: بلغت كلمته إلى عمر، وفي [هـ]: (فنمى)، وفي [س]: (فنميت).
(٣) سقط من: [أ، هـ].
(٤) في [هـ]: زيادة (واللَّه).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) سقط من: [ط، هـ].
(٧) سقط من: [أ، ب].
(٨) سقط من: [أ، ب].
(٩) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (منازله).
(١٠) في [أ، ب]: (بردًا).
(١١) حسن؛ كليب والد عاصم صدوق.
حضرت عاصم بن کلیب جرمی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نہاوند اور حضرت نعمان بن مقرن کی خبر آنے میں دیر ہوگئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس بارے میں لوگوں سے پوچھا کرتے تھے، لیکن نہاوند اور ابن مقرن کی کوئی خبر انہیں حاصل نہ ہوئی۔ اتنے میں ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا کہ تمہیں نہاوند اور ابن مقرن کے بارے میں کیا خبر پہنچی ہے؟ لوگوں نے کہا کہ کیا خبر ہے؟ اس نے کہا کچھ نہیں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اس دیہاتی کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ تم نے نہاوند اور ابن مقرن کا ذکر کیوں کیا تھا؟ اگر تمہارے پاس کوئی خبر ہے تو ہمیں بتادو۔ اس دیہاتی نے کہا کہ اے امیر المومنین! میں فلاں بن فلاں ہوں اور میں فلاں قبیلے سے ہوں۔ میں اپنے اہل و عیال اور مال کو لے کر اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی غرض سے نکلا ہوں۔ ہم نے فلاں فلاں جگہ قیام کیا ہے۔ جب ہم روانہ ہوئے تو ہم نے سرخ اونٹ پر ایک ایسا آدمی دیکھا جو ہم نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ ہم نے اس سے کہا کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا کہ میں عراق سے آیا ہوں۔ ہم نے کہا کہ وہاں لوگوں کی کیا خبر ہے؟ اس نے کہا کہ وہاں جنگ ہوئی ہے، اللہ نے دشمن کو شکست دے دی اور ابن مقرن شہید ہوگئے۔ خدا کی قسم میں نہاوند اور ابن مقرن کو نہیں جانتا۔ حضرت عمر نے اس سے پوچھا کہ کیا تم بتاسکتے ہو کہ وہ کون سا دن تھا؟ اس نے کہا کہ میں نہیں جانتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے کس کس جگہ قیام کیا ہے۔ مجھے اپنے قیام کی جگہیں بتاؤ۔ اس نے کہا کہ ہم فلاں دن نکلے تھے اور ہم نے فلاں فلاں جگہ قیام کیا تھا۔ اس طرح دن کو معلوم کرلیا گیا۔ حضرت عمر نے اس سے فرمایا کہ شاید تم جنوں کے کسی قاصد سے ملے تھے۔ پھر کچھ عرصہ گزرا تو نہاوند کی خبر آگئی اور وہ جنگ اسی دن ہوئی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36050]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36050، ترقيم محمد عوامة 34479)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 36050 in Urdu