مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
5. في توجيه النعمان بن مقرن إلى نهاوند
سیدنا نعمان بن مقرن کی نہاوند کی جانب روانگی کا بیان
ترقیم عوامۃ: 34479 ترقیم الشثری: -- 36050
٣٦٠٥٠ - حدثنا معاوية بن عمرو قال: حدثنا زائدة قال: ثنا عاصم بن كليب الجرمي قال: حدثني ابي انه ابطا على عمر خبر نهاوند وبن مقرن وانه كان يستنصر وان الناس كانوا يرون من استنصاره انه لم يكن له ذكر (إلا) (١) نهاوند وابن مقرن، قال: فقدم عليهم اعرابي، فقال: ما بلغكم عن نهاوند وابن مقرن؟ قالوا: وما ذاك؟ قال: لا شيء، قال: (فنمت) (٢) إلى عمر، قال: فارسل إليه فقال: ما ذكرك نهاوند وابن مقرن؟ فإن جئت بخبر فاخبرنا، قال: يا امير المؤمنين انا فلان بن فلان العلاني، خرجت باهلي ومالي مهاجرا إلى الله ورسوله حتى نزلنا موضع كذا وكذا، فلما ارتحلنا إذا رجل على جمل احمر لم ار مثله، فقلنا: من اين اقبلت؟ قال: من العراق، قلنا: فما خبر الناس؟ قال: التقوا فهزم الله العدو وقتل ابن مقرن ولا ⦗٤٠⦘ (والله لا) (٣) ادري (٤) (ما) (٥) نهاوند ولا ابن مقرن (قال) (٦) : اتدري اي يوم ذلك من الجمعة، قال: (لا) (٧) والله ما ادري، (قال) (٨) : لكني ادري، فعد (منازلك) (٩) ، قال: ارتحلنا يوم كذا وكذا فنزلنا موضع كذا وكذا فعد منازله، قال: ذاك يوم كذا وكذا من الجمعة، ولعلك ان تكون لقيت (بريدا) (١٠) من برد الجن، فإن لهم بردا، قال: فمضى ما شاء الله ثم جاء الخبر بانهم التقوا في ذلك اليوم (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، هـ].
(٢) أي: بلغت كلمته إلى عمر، وفي [هـ]: (فنمى)، وفي [س]: (فنميت).
(٣) سقط من: [أ، هـ].
(٤) في [هـ]: زيادة (واللَّه).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) سقط من: [ط، هـ].
(٧) سقط من: [أ، ب].
(٨) سقط من: [أ، ب].
(٩) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (منازله).
(١٠) في [أ، ب]: (بردًا).
(١١) حسن؛ كليب والد عاصم صدوق.
حضرت عاصم بن کلیب جرمی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نہاوند اور حضرت نعمان بن مقرن کی خبر آنے میں دیر ہوگئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس بارے میں لوگوں سے پوچھا کرتے تھے، لیکن نہاوند اور ابن مقرن کی کوئی خبر انہیں حاصل نہ ہوئی۔ اتنے میں ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا کہ تمہیں نہاوند اور ابن مقرن کے بارے میں کیا خبر پہنچی ہے؟ لوگوں نے کہا کہ کیا خبر ہے؟ اس نے کہا کچھ نہیں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اس دیہاتی کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ تم نے نہاوند اور ابن مقرن کا ذکر کیوں کیا تھا؟ اگر تمہارے پاس کوئی خبر ہے تو ہمیں بتادو۔ اس دیہاتی نے کہا کہ اے امیر المومنین! میں فلاں بن فلاں ہوں اور میں فلاں قبیلے سے ہوں۔ میں اپنے اہل و عیال اور مال کو لے کر اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی غرض سے نکلا ہوں۔ ہم نے فلاں فلاں جگہ قیام کیا ہے۔ جب ہم روانہ ہوئے تو ہم نے سرخ اونٹ پر ایک ایسا آدمی دیکھا جو ہم نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ ہم نے اس سے کہا کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا کہ میں عراق سے آیا ہوں۔ ہم نے کہا کہ وہاں لوگوں کی کیا خبر ہے؟ اس نے کہا کہ وہاں جنگ ہوئی ہے، اللہ نے دشمن کو شکست دے دی اور ابن مقرن شہید ہوگئے۔ خدا کی قسم میں نہاوند اور ابن مقرن کو نہیں جانتا۔ حضرت عمر نے اس سے پوچھا کہ کیا تم بتاسکتے ہو کہ وہ کون سا دن تھا؟ اس نے کہا کہ میں نہیں جانتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے کس کس جگہ قیام کیا ہے۔ مجھے اپنے قیام کی جگہیں بتاؤ۔ اس نے کہا کہ ہم فلاں دن نکلے تھے اور ہم نے فلاں فلاں جگہ قیام کیا تھا۔ اس طرح دن کو معلوم کرلیا گیا۔ حضرت عمر نے اس سے فرمایا کہ شاید تم جنوں کے کسی قاصد سے ملے تھے۔ پھر کچھ عرصہ گزرا تو نہاوند کی خبر آگئی اور وہ جنگ اسی دن ہوئی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36050]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36050، ترقيم محمد عوامة 34479)
ترقیم عوامۃ: 34480 ترقیم الشثری: -- 36051
٣٦٠٥١ - حدثنا حسين عن زائدة عن عاصم بن كليب عن ابيه قال: ابطا على عمر خبر نهاوند وخبر النعمان فجعل يستنصر (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ كليب صدوق، أخرجه البيهقي ٩/ ٤٥، وأحمد في العلل ٢/ ٢٩٣.
حضرت کلیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس نہاوند اور حضرت نعمان بن مقرن کی خبر آنے میں دیرہوگئی تو آپ لوگوں سے اس بارے میں مدد طلب کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36051]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36051، ترقيم محمد عوامة 34480)
ترقیم عوامۃ: 34481 ترقیم الشثری: -- 36052
٣٦٠٥٢ - حدثنا ابو اسامة قال: ثنا إسماعيل عن قيس بن ابي حازم عن مدرك ابن عوف الاحمسي قال: بينا انا عند عمر إذ اتاه رسول النعمان بن مقرن، فساله عمر عن الناس، قال: فذكروا عند عمر من اصيب يوم نهاوند، فقالوا: قتل فلان وفلان وآخرون لا نعرفهم، فقال عمر: لكن الله يعرفهم، قالوا: ورجل (شرى) (١) نفسه -يعنون عوف بن ابي حية ابا شبيل الاحمسي، (قال) (٢) مدرك ⦗٤١⦘ بن عوف: ذاك والله (خالي) (٣) يا امير المؤمنين يزعم الناس انه القى بيديه إلى التهلكة، فقال عمر: كلذب اولئك ولكنه من الذين اشتروا الآخرة بالدنيا (٤) . - قال إسماعيل: وكان اصيب وهو صائم فاحتمل وبه رمق فابى ان يشرب حتى مات (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (اشترى).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (فقال).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (خال).
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد في العلل ٢/ ٢٦٣، ويعقوب في المعرفة ٢/ ١٣٥، والبيهقي ٩/ ٤٥.
(٥) منقطع؛ إسماعيل لم يدرك ذلك.
حضرت مدرک بن عوف احمسی کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر کے پاس تھا کہ ان کے پاس حضرت نعمان بن مقرن کا قاصد آیا۔ حضرت عمر نے اس سے لوگوں کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے نہاوند کی جنگ میں شہید ہونے والے مجاہدین کا تذکرہ کیا۔ اور بتایا کہ فلاں بن فلاں شہید ہوگئے اور کچھ اور لوگ بھی ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے۔ حضرت عمر نے فرمایا لیکن اللہ انہیں جانتا ہے۔ اس جنگ کے بعض عینی شاہدین نے بتایا کہ ایک آدمی بہت بہادری سے لڑا جس کا نام عوف بن ابی حیہ ابو شبیل احمسی ہے۔ یہ سن کر مدرک بن عوف نے کہا کہ خدا کی قسم! اے امیر المومنین وہ میرے ماموں ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ انہوں نے خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے بدلے آخرت کو خرید لیا۔ حضرت اسماعیل فرماتے ہیں کہ جب وہ زخمی ہوئے تو روزہ کی حالت میں تھے۔ ان میں زندگی کی رمق باقی تھی۔ انہیں پانی پیش کیا گیا لیکن انہوں نے پینے سے انکار کردیا اور اسی حال میں انتقال کرگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36052]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36052، ترقيم محمد عوامة 34481)
ترقیم عوامۃ: 34482 ترقیم الشثری: -- 36053
٣٦٠٥٣ - حدثنا ابو اسامة قال: ثنا شعبة عن علي بن زيد عن ابي عثمان قال: اتيت عمر بنعي النعمان بن مقرن فوضع يده على راسه وجعل يبكي (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد.
حضرت ابوعثمان فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نعمان بن مقرن کی شہادت کی خبر لایا تو آپ نے سر پر ہاتھ رکھا اور رونا شروع کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36053]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36053، ترقيم محمد عوامة 34482)
ترقیم عوامۃ: 34483 ترقیم الشثری: -- 36054
٣٦٠٥٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن اياس بن معاوية قال: جلست إلى سعيد بن المسيب قال: إني لاذكر عمر بن الخطاب حين نعى النعمان بن مقرن (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت نعمان بن مقرن کی شہادت کی خبر آئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36054]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36054، ترقيم محمد عوامة 34483)
ترقیم عوامۃ: 34484 ترقیم الشثری: -- 36055
٣٦٠٥٥ - حدثنا ابو اسامة قال: ثنا مهدي بن ميمون قال: ثنا محمد بن عبد الله ابن ابي يعقوب عن بشر بن شغاف عن عبد الله بن سلام قال: لما كان حين فتحت نهاوند اصاب المسلمون سبايا من سبايا اليهود، قال: واقبل راس الجالوت يفادي سبايا اليهود، قال: واصاب رجل من المسلمين جارية (بسرة) (١) صبيحة، قال: فاتاني فقال: (هل) (٢) لك ان تمشي معي إلى هذا الإنسان عسى ان يثمن لي بهذه الجارية، قال: فانطلقت معه فدخل على شيخ مستكبر له ترجمان فقال لترجمانه: سل هذه الجارية هل وقع عليها هذا (العربي) (٣) ؟ قال: ورايته غار حين راى ⦗٤٢⦘ حسنها، قال: فراطنها بلسانه ففهمت الذي قال: فقلت له: (اثمت) (٤) بما في كتابك بسؤالك هذه الجارية على ما وراء ثيابها، فقال لي: كذبت ما يدريك ما في كتابي، قلت: انا اعلم بكتابك منك، (قال) (٥) : انت اعلم بكتابي مني؟ قلت: انا اعلم بكتابك منك، قال: من هذا؟ قالوا: عبد الله بن سلام، قال: فانصرفت ذلك اليوم، قال: فبعث إلي رسولا يعزمه لياتيني، قال: وبعث إلي بدابة، قال: فانطلقت إليه لعمر الله احتسابا رجاء ان يسلم، فحبسني عنده ثلاثة ايام اقرا عليه التوراة ويبكي، (قال: وقلت له: إنه والله لهو النبي الذي تجدونه في كتابكم، قال: فقال لي: كيف اصنع باليهود) (٦) ؟ قال: قلت له: إن اليهود لن يغنوا عنك من الله شيئا، قال: فغلب عليه الشقاء و (ابى) (٧) ان يسلم (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (كسرة)، وفي [أ، ب، هـ]: (يسرة)، وفي [ز]: (بشرة).
(٢) زيادة في: [أ، ب، جـ].
(٣) في [أ]: (الغربي).
(٤) في [ط، هـ]: (أبحث).
(٥) في [أ، ب]: (قالوا).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [ب]: (إلى).
(٨) صحيح؛ أخرجه ابن أبي عمر كما في المطالب (٣٨٥٦)، وأبو نعيم في دلائل النبوة (٩٥).
حضرت عبد اللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ جب نہاوند فتح ہوا تو بہت سے جنگی قیدی مسلمانوں کے ہاتھ لگے۔ ایک مالدار شخص ان قیدیوں کا فدیہ دے کر انہیں چھڑا رہا تھا۔ ایک مسلمان کو ایک بہت خوبصورت اور جوان باندی ملی تھی۔ وہ میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میرے ساتھ اس مالدار کی طرف چلو شاید وہ مجھے اس باندی کی قیمت دے دے۔ (٢) چنانچہ میں اس کے ساتھ چلا، ہم ایک مغرور بوڑھے کے پاس پہنچے جس کا ایک ترجمان تھا۔ اس نے اپنے ترجمان سے کہا کہ اس باندی سے سوال کرو کہ کیا اس عربی نے اس سے جماع کیا ہے؟ وہ اس باندی کے حسن کو دیکھ کر غیرت میں آگیا تھا۔ اس نے باندی سے اپنی زبان میں کچھ مجہول بات کی جسے میں سمجھ گیا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ تو نے اس باندی سے اس کی خفیہ بات کے بارے میں سوال کرکے اپنی کتاب کی روشنی میں گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ اس نے مجھ سے کہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو، تمہیں کیا معلوم کہ میری کتاب میں کیا ہے؟ میں نے کہا کہ میں تمہاری کتاب کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ اس نے کہا کہ کیا تم میری کتاب کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہاں میں تمہاری کتاب کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ اس نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ عبد اللہ بن سلام ہیں۔ پھر اس دن میں واپس آگیا۔ (٣) پھر اس نے میری طرف ایک قاصد کو بھیجا اور مجھے تاکید کے ساتھ اپنے پاس بلایا۔ میں اس کے پاس اس نیت سے گیا کہ شاید وہ اسلام قبول کرلے اور میرے نامہ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ ہوجائے۔ اس نے مجھے اپنے پاس تین دن تک روکے رکھا۔ میں اسے تورات پڑھ کر سناتا تھا اور وہ روتا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ واللہ یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر تم تورات میں پاتے ہو۔ اس نے کہا کہ پھر میں یہود کا کیا کروں؟ میں نے کہا کہ اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کسی کام نہیں آسکتے۔ بہرحال اس پر بدبختی غالب آگئی اور اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36055]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36055، ترقيم محمد عوامة 34484)
ترقیم عوامۃ: 34485 ترقیم الشثری: -- 36056
٣٦٠٥٦ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة قال: اخبرنا ابو عمران الجوني عن علقمة بن عبد الله المزني عن معقل بن يسار ان عمر بن الخطاب شاور الهرمزان في فارس واصبهان واذربيجان فقال: اصبهان الراس، وفارس واذربيجان الجناحان، [فإن قطعت احد الجناحين مال الراس بالجناح الآخر، وإن قطعت الراس وقع الجناحان] (١) ، فابدا بالراس، فدخل المسجد فإذا هو بالنعمان بن مقرن يصلي، فقعد إلى جنبه، فلما قضى صلاته قال: ما اراني إلا مستعملك، قال: اما جابيا فلا، ولكن غازيا، قال: فإنك غاز، فوجهه وكتب إلى اهل الكوفة ان يمدوه، قال: ومعه الزبير بن العوام وعمرو بن معدي كرب وحذيفة وابن عمر والاشعث بن ⦗٤٣⦘ قيس، قال: فارسل النعمان المغيرة بن شعبة إلى ملكهم وهو يقال: له (ذو الجناحين) (٢) ، فقطع إليهم (نهرهم) (٣) فقيل لذي الجناحين: إن رسول العرب هاهنا، فشاور اصحابه فقال: ما ترون؟ (اقعد له في) (٤) بهجة الملك وهيئة الملك او (٥) في هيئة الحرب؟ قالوا: لا، (بل) (٦) اقعد له في بهجة الملك، فقعد على سريره ووضع التاج على راسه، وقعد ابناء الملوك سماطين، عليهم القرطة (٧) و (اساور) (٨) الذهب والديباج، قال: فاذن للمغيرة فاخذ بضبعة رجلان، ومعه رمحه وسيفه، قال: فجعل يطعن برمحه في بسطهم يخرقها ليتطيروا حتى قام بين يديه، قال: فجعل يكلمه والترجمان يترجم بينهما: إنكم معشر العرب اصابكم جوع وجهد فجئتم، فإن شئتم (مرناكم) (٩) ورجعتم، قال: فتكلم المغيرة بن شعبة فحمد الله واثنى عليه (ثم قال) (١٠) : إنا معشر العرب كنا اذلة يطؤنا (الناس) (١١) ولا نطاهم، وناكل الكلاب والجيفة وإن الله ابتعث منا نبيا في شرف منا، اوسطنا حسبا واصدقنا حديثا، ⦗٤٤⦘ قال: فبعث النبي ﷺ بما بعثه به، فاخبرنا باشياء وجدناها كما قال، وانه وعدنا فيما وعدنا انا سنملك ما هاهنا ونغلب (عليه) (١٢) ، واني ارى هاهنا بزة وهيئة ما من خلفي بتاركها حتى يصيبها، قال: فقالت لي نفسي: لو جمعت (جراميزك) (١٣) (فوثبت) (١٤) فقعدت مع العلج على سريره حتى يتطير، قال: فوثبت وثبة، فإذا انا معه على سريره، فجعلوا يطؤوني بارجلهم و (يجروني) (١٥) بايديهم فقلت: إنا لا نفعل هذا برسلكم، فإن كنت عجزت (او) (١٦) استحمقت فلا تؤاخذوني، فإن الرسل لا يفعل بهم هذا، فقال الملك: إن شئتم قطعنا إليكم وإن شئتم قطعتم إلينا، فقلت: (لا بل) (١٧) نحن نقطع إليكم، قال: فقطعنا إليهم (فتسلسلوا) (١٨) كل خمسة وسبعة وستة وعشرة في سلسلة حتى لا يفروا، فعبرنا إليهم فصاففناهم فرشقونا حتى اسرعوا فينا، فقال المغيرة للنعمان: إنه قد اسرع في الناس قد خرجوا، قد اسرع فيهم، فلو حملت؟ قال النعمان: إنك لذو مناقب وقد شهدت مع رسول الله ﷺ، (ولكن) (١٩) شهدت مع رسول الله ﷺ، فكان إذا لم يقاتل اول النهار ينتظر حتى تزول الشمس وتهب الرياح و (ينزل) (٢٠) النصر؛ ثم قال: إني هاز لوائي ثلاث هزات، فاما اول هزة فليقض الرجل حاجته وليتوضا، واما الثانية ⦗٤٥⦘ (فلينظر) (٢١) الرجل إلى (شسعه) (٢٢) ورم من سلاحه (٢٣) ، فإذا هززت الثالثة فاحملوا، ولا يلوين احد على احد، وإن قتل النعمان فلا يلوين عليه احد، وإني داع الله بدعوة فاقسمت على كل امرئ مسلم لما امن عليها، فقال: اللهم ارزق النعمان اليوم الشهادة في نصر وفتح عليهم، قال: فامن القوم (فهز) (٢٤) ثلاث هزات ثم قال: سل درعه ثم حمل وحمل الناس، قال: وكان اول صريع، قال (معقل) (٢٥) : فاتيت عليه فذكرت عزمته فلم الو عليه واعلمت علما حتى اعرف مكانه، قال: فجعلنا إذا قتلنا الرجل شغل عنا اصحابه (به) (٢٦) قال: ووقع ذو الجناحين عن بغلة له شهباء فانشق بطنه، ففتح الله على المسلمين، فاتيت مكان النعمان وبه رمق، فاتيته بإداوة فغسلت عن وجهه فقال: من هذا؟ (فقلت) (٢٧) : معقل بن يسار، (قال) (٢٨) : ما فعل الناس؟ قلت: فتح الله عليهم، قال: لله الحمد، اكتبوا (بذلك) (٢٩) إلى عمر، وفاضت نفسه، واجتمع الناس إلى الاشعث بن قيس، قال: فارسلوا إلى (٣٠) ام ولده: هل عهد إليك النعمان عهدا، ام عندك كتاب؟ قالت: (سفط) (٣١) فيه ⦗٤٦⦘ كتاب، فاخرجوه فإذا فيه: إن قتل النعمان ففلان، وإن قتل فلان ففلان (٣٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين من: [س].
(٢) هكذا ورد في أكثر النسخ، وكذلك في المطالب العالية ٨/ ٢٤، ومجمع الزوائد ٦/ ٢١٦، وفتح الباري ٦/ ٢٦٥، والمنتظم ٤/ ٢٦٩، وفي [ك]: (الحاجبين)، وانظر: المستدرك ٣/ ٣٣٢، وعمدة القاري ١٥/ ٨٤، وتاريخ أصبهان ١/ ٤٢، والبداية والنهاية ٧/ ١١٢، والكامل ٢/ ٤٢٢، وتاريخ ابن جرير ٢/ ٥٣٣، وسير أعلام النبلاء ١/ ٤٠٥.
(٣) في [ب]: (عبرهم).
(٤) في [أ، ب]: (فقعد على).
(٥) في [أ، ب، جـ]: زيادة (أقعد له).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) القرط: حلية الأذن.
(٨) في [أ، ب، جـ]: (أساورة).
(٩) أي: أعطيناكم الميرة والطعام.
(١٠) في [أ، ب]: (فقال).
(١١) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(١٢) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(١٣) أي: الثياب مع السلاح، وفي [أ، ب، جـ]: (جرا منزل).
(١٤) في [أ، ب]: (وثبت).
(١٥) سقط من: [جـ، ط، هـ].
(١٦) في [أ، ب]: (و).
(١٧) في [أ، ب]: (بلى).
(١٨) في [ط، هـ]: (فسلسلوا).
(١٩) في [س]: (لكني).
(٢٠) في [ط، هـ]: (تنزل).
(٢١) في [أ، ب، جـ]: (يطر).
(٢٢) في [أ، ب]: (سيفه).
(٢٣) أي: أصلح سلاحه، انظر: النهاية ٢/ ٢٦٨، وغريب الحديث للحربي ١/ ٧٣، ولسان العرب ١٢/ ٢٥٢.
(٢٤) في [ط، هـ]: (وهز لواءه).
(٢٥) سقط من: [هـ].
(٢٦) سقط من: [هـ].
(٢٧) في [ب، م]: (قلت).
(٢٨) في [جـ]: (فقال).
(٢٩) في [هـ]: (ذلك).
(٣٠) في [أ، ب، جـ]: زيادة (ابن).
(٣١) في [أ، ب، جـ]: (سقط).
(٣٢) صحيح؛ أخرجه ابن أبي عمر كما في المطالب (٤٣٦٥)، والطبراني كما في مجمع الزوائد ٦/ ٢٦٦، وبعضه عند البخاري (٣١٥٩)، وأحمد (٢٣٧٤٤)، وأبو داود (٢٦٥٥)، والترمذي (١٦١٣)، وابن حبان (٤٧٥٦)، والحاكم ٣/ ٢٩٣، وابن الجوزي في المنتظم ٤/ ٢٦٩.
حضرت معقل بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے فارس، اصبہان اور آذربائیجان کے بارے میں مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اصبہان کی مثال سر کی سی ہے اورفارس اور آذربائیجان کی مثال بازوؤں کی سی ہے۔ اگر آپ ایک بازو کو کاٹ دیں گے تو سر دوسرے بازو کے سہارے باقی رہے گا اور اگر آپ سر کو کاٹ دیں گے تو بازو خود ہی گرجائیں گے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں گئے تو دیکھا کہ حضرت نعمان بن مقرن نماز پڑھ رہے ہیں۔ آپ ان کے قریب بیٹھ گئے، جب انہوں نے نماز پوری کرلی تو حضرت عمر نے ان سے فرمایا کہ میں تمہیں امیر بنانا چاہتاہوں۔ انہوں نے عرض کیا کہ اگر کسی علاقے کا بنانا ہے تو میں راضی نہیں اور اگر جہاد پر بھیجنے کا بنانا ہے تو مجھے قبول ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ جہاد کے لئے امیر بن کر جاؤ گے۔ آپ نے انہیں روانہ فرمایا اور اہل کوفہ سے فرمایا کہ ان کی مدد کرو۔ ان کے ساتھ زبیر بن عوام، عمرو بن معدی کرب، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ، مغیرہ بن شعبہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما اور اشعث بن قیس بھی تھے۔ (٢) حضرت نعمان بن مقرن نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کو ان کے بادشاہ کے پاس بھیجا جس کا نام ”ذوالحاجبین“ تھا۔ اسے بتایا گیا کہ عربوں کا قاصد آرہا ہے۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ میں اس کے ساتھ بادشاہوں کے انداز میں بیٹھوں یا جنگجو کے انداز میں؟ انہوں نے مشورہ دیا کہ بادشاہوں کے انداز میں بیٹھو۔ پس وہ اپنے تخت پر بیٹھا اور اپنے سر پر تاج رکھا۔ اس کے شہزادے بھی اس کے آس پاس بیٹھ گئے جن کے کانوں میں بالیاں اور ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے اور ان کے جسموں پر ریشم کا لباس تھا۔ حضرت مغیرہ کو ملاقات کی اجازت ملی، آپ کو دو آدمیوں کے پہرے میں لایا گیا، آپ کی تلوار اور آپ کا نیزہ آپ کے ہاتھ میں تھے۔ حضرت مغیرہ نے اپنے نیزے سے ان کے قالین میں سوراخ کردیئے تاکہ وہ اس سے بدفالی لیں۔ وہ بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوئے۔ دونوں کے درمیان ایک شخص ترجمان تھا۔ بادشاہ نے کہا کہ اے اہل عرب تمہیں بھوک اور تکلیف نے ستایا ہے اور تم ہماری طرف آلپکے ہو، اگر تم چاہو تو ہم تمہیں مال دے کر واپس بھیج دیتے ہیں۔ (٣) حضرت مغیرہ بن شعبہ نے گفتگو شروع کی، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور پھر فرمایا کہ ہم عرب ذلیل لوگ تھے۔ لوگ ہم پر ظلم ڈھاتے تھے لیکن ہم کسی پر ظلم نہیں کرتے تھے۔ ہم کتے اور مردارکھاتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہم میں ایک ایسے نبی کو مبعوث فرمایا جن کی بعثت سے ہمیں عزت بخشی، وہ خاندان کے اعتبار سے سب سے بہتر اور گفتگو کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دین عطا فرمایا اور جو باتیں آپ نے فرمائیں وہ سب سچ ثابت ہوئیں۔ انہوں نے ہم سے ایک وعدہ یہ بھی کیا تھا کہ فلاں فلاں علاقے کے مالک بنیں گے اور لوگوں پر غالب آئیں گے۔ میں تمہارے اس علاقے میں بہت زیب وزینت اور آرائش دیکھ رہا ہوں اور جو لوگ میرے پیچھے ہیں وہ کبھی ان چیزوں سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ پھر میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر میں چھلانگ لگا کر اس کے تخت پر بیٹھ جاؤں تو یہ اس سے بدفالی لیں گے۔ پس میں نے چھلانگ لگائی اور بادشاہ کے ساتھ اس کے تخت پر جا بیٹھا۔ وہ مجھے اپنی ٹانگوں سے مارنے لگے اور اپنے ہاتھوں سے کھینچنے لگے۔ میں نے کہا کہ ہم تمہارے قاصدوں کے ساتھ ایسا نہیں کریں گے۔ اگر میں نے نادانی کی ہے تو تم مجھے سزا نہ دو کیونکہ قاصدوں کے ساتھ ایسا نہیں کیا جاتا۔ (٤) بادشاہ نے کہا کہ اگر تم چاہو تو ہم تم پر حملہ کریں اور اگر تم چاہو تو تم ہم پر حملہ کردو۔ میں نے کہا کہ ہم تم پر حملہ کریں گے۔ پس لوگ پانچ، سات، چھ اور دس کی ٹولیوں میں تقسیم ہوگئے تاکہ بھاگ نہ سکیں۔ ہم ان کی طرف بڑھے اور ان کے سامنے صف بنا کر کھڑے ہوگئے۔ وہ تیزی سے ہماری طرف دوڑے۔ حضرت مغیرہ نے حضرت نعمان سے کہا کہ وہ جلدی سے آگئے ہیں، وہ نکل پڑے ہیں اگر آپ حملہ کردیں تو بہتر ہے۔ حضرت نعمان نے کہا کہ آپ بہت سے فضائل اور مناقب والے ہیں۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت سے غزوات میں شریک رہے ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا ہے کہ آپ دن کے شروع حصے میں قتال نہیں فرماتے تھے، جب سورج زائل ہوجاتا، ہوا چلنے لگتی اور مدد نازل ہوتی تو پھر آپ قتال کرتے تھے۔ (٥) پھر حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اپنا جھنڈا تین مرتبہ ہلاؤں گا۔ جب میں پہلی مرتبہ جھنڈے کو حرکت دوں ہر شخص اپنی حاجت کو پورا کرکے وضو کرلے۔ جب میں دوسری مرتبہ جھنڈا ہلاؤں تو ہر شخص اپنا ہتھیار اٹھا لے اور جب میں تیسری مرتبہ جھنڈا ہلاؤں تو حملہ کردینا۔ کوئی شخص کسی کی طرف متوجہ نہ ہو، اگر نعمان بھی مار دیا جائے تو کوئی اسکی طرف بھی متوجہ نہ ہو۔ میں اللہ کی طرف بلانے والا ہوں۔ میں ہر شخص کو قسم دیتا ہوں کہ وہ اس چیز کی حفاظت کرے جو اس کے سپرد کی گئی ہے۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ اے اللہ نعمان کو آج مدد اور کامیابی والی شہادت [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36056]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36056، ترقيم محمد عوامة 34485)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 36057
٣٦٠٥٧ - (قال حماد) (١) قال علي بن زيد: فحدثنا ابو عثمان قال: ذهبت بالبشارة إلى عمر فقال: ما فعل النعمان؟ قلت: قتل، قال: ما فعل فلان؟ قلت: قتل، قال: ما فعل فلان؟ قلت: قتل، فاسترجع، قلت: وآخرون لا نعلمهم، قال: لا (نعلمهم) (٢) لكن الله يعلمهم (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٢) في [أ، ب]: (تعلمهم).
(٣) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36057، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 34486 ترقیم الشثری: -- 36058
٣٦٠٥٨ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة عن حبيب بن الشهيد عن محمد قال: لما حمل النعمان قال: والله ما وطئنا (كتفيه) (١) حتى ضرب في القوم (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (النصه).
(٢) صحيح.
حضرت محمد فرماتے ہیں کہ جب حضرت نعمان نے حملہ کیا تو خدا کی قسم ابھی ہم نے پوری طرح حملہ بھی نہیں کیا تھا کہ لوگوں کے درمیان وہ نشانہ بن گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36058]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36058، ترقيم محمد عوامة 34486)
ترقیم عوامۃ: 34487 ترقیم الشثری: -- 36059
٣٦٠٥٩ - حدثنا شاذان قال: ثنا حماد بن سلمة عن ابي عمران الجوني عن علقمة بن عبد الله عن معقل بن يسار قال: شاور عمر الهرمزان -ثم ذكر نحوا من حديث عفان إلا انه قال: فاتاهم النعمان بنهاوند وبينهم وبينه نهر فسرح المغيرة بن شعبة فعبر إليهم النهر، وملكهم يومئذ ذو (الجناحين) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (الحاجبين)؛ والخبر صحيح الإسناد، أخرجه الحاكم ٣/ ٣٣٢، وابن أبي عمر كما في المطالب العالية (٤٣٦٥)، وأبو الشيخ في طبقات أصبهان ١/ ١٧٨، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٤٢، والطبري في التاريخ ٢/ ٥٣٣، وخليفة بن خياط في التاريخ ص ١٤٨، والبلاذري ص ٣٠٠.
حضرت معقل بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ہرمزان سے مشورہ کیا۔ (پھر انہوں نے عفان جیسی حدیث نقل کی) اس میں یہ اضافہ ہے: حضرت نعمان انہیں لے کر نہاوند گئے اور ان کے اور لوگوں کے درمیان دریا تھا۔ حضرت مغیرہ نے لوگوں کو دریا عبورکرایا اور اس وقت ان کا بادشاہ ذوالحاجبین تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36059]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36059، ترقيم محمد عوامة 34487)