مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
5. في توجيه النعمان بن مقرن إلى نهاوند
سیدنا نعمان بن مقرن کی نہاوند کی جانب روانگی کا بیان
ترقیم عوامۃ: 34481 ترقیم الشثری: -- 36052
٣٦٠٥٢ - حدثنا ابو اسامة قال: ثنا إسماعيل عن قيس بن ابي حازم عن مدرك ابن عوف الاحمسي قال: بينا انا عند عمر إذ اتاه رسول النعمان بن مقرن، فساله عمر عن الناس، قال: فذكروا عند عمر من اصيب يوم نهاوند، فقالوا: قتل فلان وفلان وآخرون لا نعرفهم، فقال عمر: لكن الله يعرفهم، قالوا: ورجل (شرى) (١) نفسه -يعنون عوف بن ابي حية ابا شبيل الاحمسي، (قال) (٢) مدرك ⦗٤١⦘ بن عوف: ذاك والله (خالي) (٣) يا امير المؤمنين يزعم الناس انه القى بيديه إلى التهلكة، فقال عمر: كلذب اولئك ولكنه من الذين اشتروا الآخرة بالدنيا (٤) . - قال إسماعيل: وكان اصيب وهو صائم فاحتمل وبه رمق فابى ان يشرب حتى مات (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (اشترى).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (فقال).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (خال).
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد في العلل ٢/ ٢٦٣، ويعقوب في المعرفة ٢/ ١٣٥، والبيهقي ٩/ ٤٥.
(٥) منقطع؛ إسماعيل لم يدرك ذلك.
حضرت مدرک بن عوف احمسی کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر کے پاس تھا کہ ان کے پاس حضرت نعمان بن مقرن کا قاصد آیا۔ حضرت عمر نے اس سے لوگوں کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے نہاوند کی جنگ میں شہید ہونے والے مجاہدین کا تذکرہ کیا۔ اور بتایا کہ فلاں بن فلاں شہید ہوگئے اور کچھ اور لوگ بھی ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے۔ حضرت عمر نے فرمایا لیکن اللہ انہیں جانتا ہے۔ اس جنگ کے بعض عینی شاہدین نے بتایا کہ ایک آدمی بہت بہادری سے لڑا جس کا نام عوف بن ابی حیہ ابو شبیل احمسی ہے۔ یہ سن کر مدرک بن عوف نے کہا کہ خدا کی قسم! اے امیر المومنین وہ میرے ماموں ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ انہوں نے خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے بدلے آخرت کو خرید لیا۔ حضرت اسماعیل فرماتے ہیں کہ جب وہ زخمی ہوئے تو روزہ کی حالت میں تھے۔ ان میں زندگی کی رمق باقی تھی۔ انہیں پانی پیش کیا گیا لیکن انہوں نے پینے سے انکار کردیا اور اسی حال میں انتقال کرگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36052]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36052، ترقيم محمد عوامة 34481)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 36052 in Urdu