مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
5. في توجيه النعمان بن مقرن إلى نهاوند
سیدنا نعمان بن مقرن کی نہاوند کی جانب روانگی کا بیان
ترقیم عوامۃ: 34485 ترقیم الشثری: -- 36056
٣٦٠٥٦ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة قال: اخبرنا ابو عمران الجوني عن علقمة بن عبد الله المزني عن معقل بن يسار ان عمر بن الخطاب شاور الهرمزان في فارس واصبهان واذربيجان فقال: اصبهان الراس، وفارس واذربيجان الجناحان، [فإن قطعت احد الجناحين مال الراس بالجناح الآخر، وإن قطعت الراس وقع الجناحان] (١) ، فابدا بالراس، فدخل المسجد فإذا هو بالنعمان بن مقرن يصلي، فقعد إلى جنبه، فلما قضى صلاته قال: ما اراني إلا مستعملك، قال: اما جابيا فلا، ولكن غازيا، قال: فإنك غاز، فوجهه وكتب إلى اهل الكوفة ان يمدوه، قال: ومعه الزبير بن العوام وعمرو بن معدي كرب وحذيفة وابن عمر والاشعث بن ⦗٤٣⦘ قيس، قال: فارسل النعمان المغيرة بن شعبة إلى ملكهم وهو يقال: له (ذو الجناحين) (٢) ، فقطع إليهم (نهرهم) (٣) فقيل لذي الجناحين: إن رسول العرب هاهنا، فشاور اصحابه فقال: ما ترون؟ (اقعد له في) (٤) بهجة الملك وهيئة الملك او (٥) في هيئة الحرب؟ قالوا: لا، (بل) (٦) اقعد له في بهجة الملك، فقعد على سريره ووضع التاج على راسه، وقعد ابناء الملوك سماطين، عليهم القرطة (٧) و (اساور) (٨) الذهب والديباج، قال: فاذن للمغيرة فاخذ بضبعة رجلان، ومعه رمحه وسيفه، قال: فجعل يطعن برمحه في بسطهم يخرقها ليتطيروا حتى قام بين يديه، قال: فجعل يكلمه والترجمان يترجم بينهما: إنكم معشر العرب اصابكم جوع وجهد فجئتم، فإن شئتم (مرناكم) (٩) ورجعتم، قال: فتكلم المغيرة بن شعبة فحمد الله واثنى عليه (ثم قال) (١٠) : إنا معشر العرب كنا اذلة يطؤنا (الناس) (١١) ولا نطاهم، وناكل الكلاب والجيفة وإن الله ابتعث منا نبيا في شرف منا، اوسطنا حسبا واصدقنا حديثا، ⦗٤٤⦘ قال: فبعث النبي ﷺ بما بعثه به، فاخبرنا باشياء وجدناها كما قال، وانه وعدنا فيما وعدنا انا سنملك ما هاهنا ونغلب (عليه) (١٢) ، واني ارى هاهنا بزة وهيئة ما من خلفي بتاركها حتى يصيبها، قال: فقالت لي نفسي: لو جمعت (جراميزك) (١٣) (فوثبت) (١٤) فقعدت مع العلج على سريره حتى يتطير، قال: فوثبت وثبة، فإذا انا معه على سريره، فجعلوا يطؤوني بارجلهم و (يجروني) (١٥) بايديهم فقلت: إنا لا نفعل هذا برسلكم، فإن كنت عجزت (او) (١٦) استحمقت فلا تؤاخذوني، فإن الرسل لا يفعل بهم هذا، فقال الملك: إن شئتم قطعنا إليكم وإن شئتم قطعتم إلينا، فقلت: (لا بل) (١٧) نحن نقطع إليكم، قال: فقطعنا إليهم (فتسلسلوا) (١٨) كل خمسة وسبعة وستة وعشرة في سلسلة حتى لا يفروا، فعبرنا إليهم فصاففناهم فرشقونا حتى اسرعوا فينا، فقال المغيرة للنعمان: إنه قد اسرع في الناس قد خرجوا، قد اسرع فيهم، فلو حملت؟ قال النعمان: إنك لذو مناقب وقد شهدت مع رسول الله ﷺ، (ولكن) (١٩) شهدت مع رسول الله ﷺ، فكان إذا لم يقاتل اول النهار ينتظر حتى تزول الشمس وتهب الرياح و (ينزل) (٢٠) النصر؛ ثم قال: إني هاز لوائي ثلاث هزات، فاما اول هزة فليقض الرجل حاجته وليتوضا، واما الثانية ⦗٤٥⦘ (فلينظر) (٢١) الرجل إلى (شسعه) (٢٢) ورم من سلاحه (٢٣) ، فإذا هززت الثالثة فاحملوا، ولا يلوين احد على احد، وإن قتل النعمان فلا يلوين عليه احد، وإني داع الله بدعوة فاقسمت على كل امرئ مسلم لما امن عليها، فقال: اللهم ارزق النعمان اليوم الشهادة في نصر وفتح عليهم، قال: فامن القوم (فهز) (٢٤) ثلاث هزات ثم قال: سل درعه ثم حمل وحمل الناس، قال: وكان اول صريع، قال (معقل) (٢٥) : فاتيت عليه فذكرت عزمته فلم الو عليه واعلمت علما حتى اعرف مكانه، قال: فجعلنا إذا قتلنا الرجل شغل عنا اصحابه (به) (٢٦) قال: ووقع ذو الجناحين عن بغلة له شهباء فانشق بطنه، ففتح الله على المسلمين، فاتيت مكان النعمان وبه رمق، فاتيته بإداوة فغسلت عن وجهه فقال: من هذا؟ (فقلت) (٢٧) : معقل بن يسار، (قال) (٢٨) : ما فعل الناس؟ قلت: فتح الله عليهم، قال: لله الحمد، اكتبوا (بذلك) (٢٩) إلى عمر، وفاضت نفسه، واجتمع الناس إلى الاشعث بن قيس، قال: فارسلوا إلى (٣٠) ام ولده: هل عهد إليك النعمان عهدا، ام عندك كتاب؟ قالت: (سفط) (٣١) فيه ⦗٤٦⦘ كتاب، فاخرجوه فإذا فيه: إن قتل النعمان ففلان، وإن قتل فلان ففلان (٣٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين من: [س].
(٢) هكذا ورد في أكثر النسخ، وكذلك في المطالب العالية ٨/ ٢٤، ومجمع الزوائد ٦/ ٢١٦، وفتح الباري ٦/ ٢٦٥، والمنتظم ٤/ ٢٦٩، وفي [ك]: (الحاجبين)، وانظر: المستدرك ٣/ ٣٣٢، وعمدة القاري ١٥/ ٨٤، وتاريخ أصبهان ١/ ٤٢، والبداية والنهاية ٧/ ١١٢، والكامل ٢/ ٤٢٢، وتاريخ ابن جرير ٢/ ٥٣٣، وسير أعلام النبلاء ١/ ٤٠٥.
(٣) في [ب]: (عبرهم).
(٤) في [أ، ب]: (فقعد على).
(٥) في [أ، ب، جـ]: زيادة (أقعد له).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) القرط: حلية الأذن.
(٨) في [أ، ب، جـ]: (أساورة).
(٩) أي: أعطيناكم الميرة والطعام.
(١٠) في [أ، ب]: (فقال).
(١١) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(١٢) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(١٣) أي: الثياب مع السلاح، وفي [أ، ب، جـ]: (جرا منزل).
(١٤) في [أ، ب]: (وثبت).
(١٥) سقط من: [جـ، ط، هـ].
(١٦) في [أ، ب]: (و).
(١٧) في [أ، ب]: (بلى).
(١٨) في [ط، هـ]: (فسلسلوا).
(١٩) في [س]: (لكني).
(٢٠) في [ط، هـ]: (تنزل).
(٢١) في [أ، ب، جـ]: (يطر).
(٢٢) في [أ، ب]: (سيفه).
(٢٣) أي: أصلح سلاحه، انظر: النهاية ٢/ ٢٦٨، وغريب الحديث للحربي ١/ ٧٣، ولسان العرب ١٢/ ٢٥٢.
(٢٤) في [ط، هـ]: (وهز لواءه).
(٢٥) سقط من: [هـ].
(٢٦) سقط من: [هـ].
(٢٧) في [ب، م]: (قلت).
(٢٨) في [جـ]: (فقال).
(٢٩) في [هـ]: (ذلك).
(٣٠) في [أ، ب، جـ]: زيادة (ابن).
(٣١) في [أ، ب، جـ]: (سقط).
(٣٢) صحيح؛ أخرجه ابن أبي عمر كما في المطالب (٤٣٦٥)، والطبراني كما في مجمع الزوائد ٦/ ٢٦٦، وبعضه عند البخاري (٣١٥٩)، وأحمد (٢٣٧٤٤)، وأبو داود (٢٦٥٥)، والترمذي (١٦١٣)، وابن حبان (٤٧٥٦)، والحاكم ٣/ ٢٩٣، وابن الجوزي في المنتظم ٤/ ٢٦٩.
حضرت معقل بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے فارس، اصبہان اور آذربائیجان کے بارے میں مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اصبہان کی مثال سر کی سی ہے اورفارس اور آذربائیجان کی مثال بازوؤں کی سی ہے۔ اگر آپ ایک بازو کو کاٹ دیں گے تو سر دوسرے بازو کے سہارے باقی رہے گا اور اگر آپ سر کو کاٹ دیں گے تو بازو خود ہی گرجائیں گے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں گئے تو دیکھا کہ حضرت نعمان بن مقرن نماز پڑھ رہے ہیں۔ آپ ان کے قریب بیٹھ گئے، جب انہوں نے نماز پوری کرلی تو حضرت عمر نے ان سے فرمایا کہ میں تمہیں امیر بنانا چاہتاہوں۔ انہوں نے عرض کیا کہ اگر کسی علاقے کا بنانا ہے تو میں راضی نہیں اور اگر جہاد پر بھیجنے کا بنانا ہے تو مجھے قبول ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ جہاد کے لئے امیر بن کر جاؤ گے۔ آپ نے انہیں روانہ فرمایا اور اہل کوفہ سے فرمایا کہ ان کی مدد کرو۔ ان کے ساتھ زبیر بن عوام، عمرو بن معدی کرب، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ، مغیرہ بن شعبہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما اور اشعث بن قیس بھی تھے۔ (٢) حضرت نعمان بن مقرن نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کو ان کے بادشاہ کے پاس بھیجا جس کا نام ”ذوالحاجبین“ تھا۔ اسے بتایا گیا کہ عربوں کا قاصد آرہا ہے۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ میں اس کے ساتھ بادشاہوں کے انداز میں بیٹھوں یا جنگجو کے انداز میں؟ انہوں نے مشورہ دیا کہ بادشاہوں کے انداز میں بیٹھو۔ پس وہ اپنے تخت پر بیٹھا اور اپنے سر پر تاج رکھا۔ اس کے شہزادے بھی اس کے آس پاس بیٹھ گئے جن کے کانوں میں بالیاں اور ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے اور ان کے جسموں پر ریشم کا لباس تھا۔ حضرت مغیرہ کو ملاقات کی اجازت ملی، آپ کو دو آدمیوں کے پہرے میں لایا گیا، آپ کی تلوار اور آپ کا نیزہ آپ کے ہاتھ میں تھے۔ حضرت مغیرہ نے اپنے نیزے سے ان کے قالین میں سوراخ کردیئے تاکہ وہ اس سے بدفالی لیں۔ وہ بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوئے۔ دونوں کے درمیان ایک شخص ترجمان تھا۔ بادشاہ نے کہا کہ اے اہل عرب تمہیں بھوک اور تکلیف نے ستایا ہے اور تم ہماری طرف آلپکے ہو، اگر تم چاہو تو ہم تمہیں مال دے کر واپس بھیج دیتے ہیں۔ (٣) حضرت مغیرہ بن شعبہ نے گفتگو شروع کی، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور پھر فرمایا کہ ہم عرب ذلیل لوگ تھے۔ لوگ ہم پر ظلم ڈھاتے تھے لیکن ہم کسی پر ظلم نہیں کرتے تھے۔ ہم کتے اور مردارکھاتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہم میں ایک ایسے نبی کو مبعوث فرمایا جن کی بعثت سے ہمیں عزت بخشی، وہ خاندان کے اعتبار سے سب سے بہتر اور گفتگو کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دین عطا فرمایا اور جو باتیں آپ نے فرمائیں وہ سب سچ ثابت ہوئیں۔ انہوں نے ہم سے ایک وعدہ یہ بھی کیا تھا کہ فلاں فلاں علاقے کے مالک بنیں گے اور لوگوں پر غالب آئیں گے۔ میں تمہارے اس علاقے میں بہت زیب وزینت اور آرائش دیکھ رہا ہوں اور جو لوگ میرے پیچھے ہیں وہ کبھی ان چیزوں سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ پھر میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر میں چھلانگ لگا کر اس کے تخت پر بیٹھ جاؤں تو یہ اس سے بدفالی لیں گے۔ پس میں نے چھلانگ لگائی اور بادشاہ کے ساتھ اس کے تخت پر جا بیٹھا۔ وہ مجھے اپنی ٹانگوں سے مارنے لگے اور اپنے ہاتھوں سے کھینچنے لگے۔ میں نے کہا کہ ہم تمہارے قاصدوں کے ساتھ ایسا نہیں کریں گے۔ اگر میں نے نادانی کی ہے تو تم مجھے سزا نہ دو کیونکہ قاصدوں کے ساتھ ایسا نہیں کیا جاتا۔ (٤) بادشاہ نے کہا کہ اگر تم چاہو تو ہم تم پر حملہ کریں اور اگر تم چاہو تو تم ہم پر حملہ کردو۔ میں نے کہا کہ ہم تم پر حملہ کریں گے۔ پس لوگ پانچ، سات، چھ اور دس کی ٹولیوں میں تقسیم ہوگئے تاکہ بھاگ نہ سکیں۔ ہم ان کی طرف بڑھے اور ان کے سامنے صف بنا کر کھڑے ہوگئے۔ وہ تیزی سے ہماری طرف دوڑے۔ حضرت مغیرہ نے حضرت نعمان سے کہا کہ وہ جلدی سے آگئے ہیں، وہ نکل پڑے ہیں اگر آپ حملہ کردیں تو بہتر ہے۔ حضرت نعمان نے کہا کہ آپ بہت سے فضائل اور مناقب والے ہیں۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت سے غزوات میں شریک رہے ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا ہے کہ آپ دن کے شروع حصے میں قتال نہیں فرماتے تھے، جب سورج زائل ہوجاتا، ہوا چلنے لگتی اور مدد نازل ہوتی تو پھر آپ قتال کرتے تھے۔ (٥) پھر حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اپنا جھنڈا تین مرتبہ ہلاؤں گا۔ جب میں پہلی مرتبہ جھنڈے کو حرکت دوں ہر شخص اپنی حاجت کو پورا کرکے وضو کرلے۔ جب میں دوسری مرتبہ جھنڈا ہلاؤں تو ہر شخص اپنا ہتھیار اٹھا لے اور جب میں تیسری مرتبہ جھنڈا ہلاؤں تو حملہ کردینا۔ کوئی شخص کسی کی طرف متوجہ نہ ہو، اگر نعمان بھی مار دیا جائے تو کوئی اسکی طرف بھی متوجہ نہ ہو۔ میں اللہ کی طرف بلانے والا ہوں۔ میں ہر شخص کو قسم دیتا ہوں کہ وہ اس چیز کی حفاظت کرے جو اس کے سپرد کی گئی ہے۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ اے اللہ نعمان کو آج مدد اور کامیابی والی شہادت [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36056]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36056، ترقيم محمد عوامة 34485)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 36056 in Urdu