مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
8. ما ذكر في تستر
تستر کا بیان
ترقیم عوامۃ: 34516 ترقیم الشثری: -- 36089
٣٦٠٨٩ - حدثنا مرحوم بن عبد العزيز عن ابيه عن (سديس) (١) العدوي قال: غزونا مع الامير (الابلة) (٢) ، فظفرنا (بها) (٣) (ثم انتهينا) (٤) ⦗٦٥⦘ (إلى) (٥) الاهواز (وبها ناس من الزط والاساوره فقاتلناهم قتالا شديدا) (٦) فظفرنا (بهم) (٧) واصبنا سبيا كثيرا فاقتسمناهم، فاصاب الرجل الراس والاثنين، فوقعنا على النساء، فكتب اميرنا إلى عمر بن الخطاب بالذي كان، فكتب إليه إنه لا طاقة لكم (بعمارة) (٨) الارض، خلوا ما في ايديكم من السبي، ولا تملكوا احدا منهم (احدا) (٩) واجعلوا عليهم من الخراج قدر ما في ايديهم من الارض فتركنا ما في ايدينا من السبي، فكم من ولد لنا غلبه الهماس؟ وكان فيمن اصبنا اناس من الزط يتشبهون بالعرب (يوفرون) (١٠) لحاهم وياتزرون ويحتبون في مجالسهم، فكتب فيهم إلى عمر، فكتب إليه عمر: ان ادنهم منك، فمن اسلم منهم فالحقه بالمسلمين، فلما (بلوا بالناس) (١١) لم يكن (عندهم) (١٢) (باس) (١٣) ، وكانت الاساورة اشد منهم باسا، فكتب فيهم إلى عمر فكتب إليه عمر: ان ادنهم منك فمن اسلم (منهم) (١٤) فالحقه بالمسلمين (١٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، ويوافق ما في الإصابة ٣/ ٢٥٣، وفي كتب التراجم: (شويس).
(٢) في [أ]: (الأيلة)، قال ابن الأثير في النهاية ١/ ١٦: "هي بضم الهمزة والباء وتشديد اللام: البلد المعروف قرب البصرة من جانبها البحري".
(٣) في [ب]: (به).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٧) في [هـ]: (بها).
(٨) في [أ، ب]: (بعمارض).
(٩) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(١٠) في [أ، ط، هـ]: (يؤثرون)، وفي [ب]: (يوقرون).
(١١) في [هـ]: (بلونا الناس).
(١٢) في [أ، ب، جـ]: (عنده).
(١٣) في [أ، ب]: (ناس).
(١٤) سقط من: [ط، هـ].
(١٥) مجهول؛ لجهالة عبد العزيز بن مهران.
حضرت سدیس عدوی فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے امیر کے ساتھ ابلہ کی لڑائی میں حصہ لیا۔ وہاں ہم کامیاب ہوئے، پھر ہم اہواز گئے، وہاں سوڈان اور اس اورہ کے لوگ تھے۔ ہم نے ان سے زبردست لڑائی کی اور ہم کامیاب ہوگئے۔ اس میں بہت سے قیدی ہمارے ہاتھ لگے اور ہم نے انہیں آپس میں تقسیم کرلیا۔ بعض لوگوں کو ایک اور بعض کو دو قیدی ملے۔ ہم نے اپنی مملوکہ عورتوں سے جماع بھی کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے ہمیں خط لکھا جس میں تحریر تھا کہ تمہیں ان قیدیوں پر قبضہ جمانے کا کوئی حق نہیں، سب قیدیوں کو آزاد کردو اور تم ان میں سے کسی کے مالک نہیں ہو۔ ان کے پاس جتنی زمین ہے اس کے بقدر ان سے خراج لو۔ چناچہ اس حکم کے آنے کے بعد ہم نے سب قیدیوں کو آزاد کردیا۔ جن سوڈانی لوگوں پر ہم غالب آئے تھے ان میں سے بہت سے عربوں کے مشابہ تھے۔ لمبی داڑھی رکھتے تھے، ازار باندھتے تھے اور ٹانگوں کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھتے تھے۔ ان کے بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو اپنے قریب کرو، ان میں سے جو اسلام قبول کرلے اسے مسلمانوں کے ساتھ شامل کردو۔ جب وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل جائیں گے تو ان میں سختی نہیں رہے گی۔ اس اورہ ان سے زیادہ زور آور تھے۔ ان کے بارے میں بھی حضرت عمر کو لکھا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ ان کو قریب کرو جو اسلام قبول کرلے اسے مسلمانوں کے ساتھ ملا دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36089]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36089، ترقيم محمد عوامة 34516)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 36089 in Urdu