مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
8. ما ذكر في تستر
تستر کا بیان
ترقیم عوامۃ: 34518 ترقیم الشثری: -- 36091
٣٦٠٩١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: حدثني عطاء بن السائب عن ابي زرعة بن (عمرو) (١) (بن) (٢) جرير ان رجلا كان ذا صوت ونكاية على العدو مع ابي موسى، فغنموا مغنما فاعطاه ابو موسى نصيبه ولم يوفه، فابى ان ياخذه إلا (جميعا) (٣) فضربه عشرين سوطا وحلقه، فجمع شعره (وذهب) (٤) إلى عمر فدخل عليه فقال جرير: وانا اقرب الناس منه، فاخرج شعره من (ضبنه) (٥) فضرب (بها) (٦) صدر عمر فقال: اما والله لولاه، فقال عمر: صدق لولا النار، فقال: مالك؟ فقال: كنت رجلا ذا صوت ونكاية على العدو، فغنمنا مغنما، واخبره بالامر، وقال: حلق راسي وجلدني عشرين سوطا يرى انه لا يقتص منه، فقال عمر: لان يكون الناس كلهم على مثل صرامة هذا احب من جميع (ما اتى) (٧) (علي) (٨) ، قال: فكتب عمر إلى ابي موسى: سلام (عليكم) (٩) ، اما بعد: فإن فلان بن فلان اخبرني بكذا وكذا، وإني اقسم عليك إن كنت فعلت به ما فعلت في ملا من الناس لما جلست في ملا منهم فاقتص منك، وإن كنت فعلت به ما فعلت في ⦗٦٧⦘ خلاء فاقعد له في خلاء فيقتص منك، فقال له الناس: اعف عنه، فقال: لا والله لا ادعه لاحد من الناس، فلما (دفع) (١٠) إليه الكتاب قعد للقصاص فرفع راسه إلى السماء وقال: قد عفوت عنه (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (عمر).
(٢) في [أ، هـ]: (عن).
(٣) في [هـ]: (جمعًا).
(٤) في [هـ]: (مذهب).
(٥) في [أ، هـ]: (ضببه).
(٦) في [جـ]: (به).
(٧) في [ب]: (ما كان وفي)، وفي [س]: (ما أفي).
(٨) في [جـ]: (علينا).
(٩) في [ب، جـ]: (عليك).
(١٠) في [ط، هـ]: (رفع).
(١١) صحيح؛ رواية حماد عن عطاء قبل اختلاطه.
حضرت ابو زرعہ بن عمرو بن جریر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ کے ساتھیوں میں ایک آدمی بہت بہادر اور دلیر تھا۔ جب مسلمانوں کو مال غنیمت حاصل ہوا تو حضرت ابو موسیٰ نے اسے اس کا حصہ پورا نہ دیا۔ اس نے کم حصہ لینے سے انکار کردیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے اسے بیس کوڑے لگوائے اور اس کا سر مونڈ دیا۔ اس نے اپنے بال جمع کئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے بال ان کے سینے پر مارے اور کہا کہ خدا کی قسم! اگر وہ نہ ہوتی! حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ سچ کہتا ہے کہ اگر جہنم نہ ہوتی۔ پھر حضرت عمر نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے ساری بات بتائی اور کہا کہ حضرت ابو موسیٰ کا خیال ہے کہ ان سے اس کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ لوگوں کے درمیان برابری کرنا میرے نزدیک مال غنیمت کے حصول سے بہتر ہے۔ پھر حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا جس میں سلام کے بعد فرمایا کہ فلاں بن فلاں نے مجھے یہ خبر دی ہے اور میں تمہیں قسم دے کر کہتاہوں کہ اگر تم نے اس کے ساتھ یہ زیادتی لوگوں کے سامنے کی ہے تو لوگوں کے سامنے بیٹھ کر اسے بدلہ دو اور اگر تنہائی میں کی ہے تو تنہائی میں اسے بدلہ دو۔ لوگوں نے حضرت عمر سے درخواست کی کہ انہیں معاف فرمادیجئے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ میں انصاف کو کسی کے لئے پس پشت نہیں ڈال سکتا۔ جب خط انہیں ملا تو وہ بدلے کے لئے بیٹھے اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا لیکن اس آدمی نے کہا کہ میں نے آپ کو معاف کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36091]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36091، ترقيم محمد عوامة 34518)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 36091 in Urdu