مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
8. ما ذكر في تستر
تستر کا بیان
ترقیم عوامۃ: 34519 ترقیم الشثری: -- 36093
٣٦٠٩٣ - حدثنا عفان قال: (ثنا) (١) ابو عوانة قال: حدثنا المغيرة عن سماك بن سلمة ان المسلمين لما فتحوا تستر وضعوا بها وضائع المسلمين، وتقدموا لقتال عدوهم، قال: فغدر بهم دهقان تستر فاحمى لهم تنورا، وعرض عليهم لحم الخنزير و (الخمر) (٢) او التنور، قال: فمنهم من اكل فترك، قال: فعرض على (نهيت) (٣) ابن الحارث (الضبي) (٤) فابى، فوضع في التنور، قال: ثم إن المسلمين رجعوا فحاصروا اهل المدينة حتى صالحوا الدهقان، فقال ابن اخ (لنهيت) (٥) لعمه: يا عماه هذا قاتل (نهيت) (٦) ، قال: يا ابن اخي إن له ذمة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (نا).
(٢) في [أ، هـ]: (الحمير).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (نهيب)، وانظر: المحرر الوجيز ١/ ٤٢٠.
(٤) في [ب]: (الصبي).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (نهيب)، وانظر: المحرر الوجيز ١/ ٤٢٠.
(٦) في [أ، ط، هـ]: (نهيب)، وانظر: المحرر الوجيز ١/ ٤٢٠.
حضرت سماک بن سلمہ فرماتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے تستر کو فتح کیا اور دشمن سے قتال کے لئے آگے بڑھ گئے تو وہاں کے ایک مالدار آدمی نے مسلمان مجاہدین سے غداری کی اور انہیں گرفتار کرلیا۔ پھر اس نے ایک تنور جلایا اور ان کے ساتھ خنزیر کا گوشت اور شراب رکھی اور ان سے کہا کہ یا تو یہ کھالو یا تنور میں ڈال دیئے جاؤ گے۔ چناچہ جس نے شراب پی لی اور خنزیر کا گوشت کھالیا اسے چھوڑ دیا گیا۔ حضرت نہیب بن حارث کے سامنے یہ چیزیں پیش کی گئیں لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ اور اس پر انہیں تنور میں ڈال دیا گیا مسلمان جب جنگی مہمات سے واپس آئے اور شہر کا محاصرہ کیا اور تستر والوں سے صلح ہوئی تو اس مالدار آدمی سے بھی صلح ہوگئی۔ ایک دن حضرت نہیب کے بھتیجے نے اپنے چچا سے کہا کہ اے چچا جان یہ آدمی نہیب کا قاتل ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اب یہ لوگ مسلمانوں کے عہد میں آچکے ہیں اس لئے اب ہم انہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ جب اس سارے واقعہ کی اطلاع حضرت عمر کو ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نہیب پر رحم فرمائے اگر وہ مجبوری میں جان بچانے کے لئے وہ چیزیں کھالیتے تو کوئی گناہ نہ ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36093]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36093، ترقيم محمد عوامة 34519)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 36093 in Urdu