مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ما ذكر في (صفة) الجنة وما فيها مما أعد لأهلها
جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
ترقیم عوامۃ: 35146 ترقیم الشثری: -- 36720
٣٦٧٢٠ - حدثنا زيد بن الحباب عن موسى بن عبيدة قال: حدثني محمد بن كعب عن عوف بن مالك الاشجعي قال: قال رسول الله ﷺ:"إني لاعلم آخر اهل الجنة دخولا الجنة، رجلا كان يسال الله ان يزحزحه عن النار، إذا دخل اهل الجنة الجنة واهل النار النار كان بين ذلك، فقال: يا رب ادنني من باب الجنة، فقيل: يا ابن آدم الم تسال ان تزحزح عن النار، (فقال) (١) : (يا رب) (٢) ومن مثلك؟ فادنني من باب الجنة (٣) ، فنظر إلى شجرة عند باب الجنة فقال: ادنني منها لاستظل بظلها وآكل من ثمرها، قال: يا ابن آدم الم تقل، فقال: يا رب ومن مثلك؟ فادنني منها (فراى) (٤) افضل من ذلك، فقال: يا رب ادنني (منها) (٥) ، فقال: يا ابن آدم الم تقل، حتي قال: يا رب ومن مثلك؟ فادنني، فقيل: اعد -قال ابو بكر: العدو: الشد- فلك ما بلغته قدماك وراته عيناك، قال: فيعدو حتى إذا بلح -يعني اعيا- قال: يا رب، هذا لي وهذا لي، فيقال: لك مثله واضعافه، فيقول: قد رضي عني ربي، فلو اذن لي في كسوة اهل الدنيا وطعامهم لاوسعتهم" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (قال).
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) في المطالب العالية (٤٥٤٣) زيادة: (فيدنى منها)، وفي [أ، ب]: زيادة (فقال: يا بأن آدم ألم تسال أن تزحزح عن النار، قال: ومن مثلك، فأدنني من باب الجنة)، وفي [جـ]: بدل (فقال): (فقيل).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (إل)، وفي [هـ]: (وإلى).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) ضعيف؛ لحال موسى بن عبيدة، أخرجه الطبراني ١٨/ (١٤٣)، والبزار (٢٧٦٠)، وابن المبارك في الزهد (١٢٦٥)، وأبو نعيم في صفة الجنة (٤٥٣).
حضرت عوف بن مالک سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں اس آخری شخص کو بھی جانتا ہوں جس کو جنت میں داخل کیا جائے گا وہ شخص ہوگا جو اللہ سے سوال کرے گا کہ اس کو جہنم سے نکال دیا جائے یہاں تک کہ جب جنتیوں کو جنت میں داخل کردیا جائے گا اور جہنمی لوگ جہنم میں داخل ہوجائیں یہ ان کے درمیان ہوگا وہ عرض کرے گا اے اللہ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے اس کو کہا جائے گا اے ابن ادم! کیا تو نے سوال نہیں کیا تھا کہ تجھ کو جہنم سے نکال دیا جائے؟ وہ عرض کرے گا اے اللہ! آپ کی طرح کون ہوسکتا ہے مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے، اس کو کہا جائے گا اے ابن ادم! کیا تو نے سوال نہیں کیا تھا کہ تجھ کو جہنم سے نکال دیا جائے؟ وہ عرض کرے گا آپ کی طرح کون ہے اے اللہ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔ پھر وہ جنت کے دو وازے کے پاس درخت دیکھے گا تو عرض کرے گا، مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور امن کا پھل کھا سکوں اللہ فرمائیں گے ابن آدم! کیا تو نے نہیں کہا تھا کہ پھر سوال نہ کروں گا؟ وہ عرض کرے گا اے اللہ! آپ کی طرح کون ہوسکتا ہے مجھے اس کے قریب کر دے، پھر وہ اس سے بھی اعلیٰ دیکھے گا تو عرض کرے گا اے میرے اللہ! مجھے اس کے قریب کر دے اللہ فرمائے گا اے ابن آدم! کیا تو نے نہیں کہا تھا کہ دوبارہ سوال نہ کروں گا؟ وہ عرض کرے گا اللہ جی! آپ کی طرح کون ہوسکتا ہے مجھے اس کے قریب کر دے، اس کو کہا جائے گا جنت کی طرف دوڑ جتنی جنت پر تیرے قدم پڑیں اور تیری آنکھیں جتنی جنت کو دیکھے وہ تیرے لیے ہے وہ دوڑے گا یہاں تک کہ تھک کر چکنا چور ہوجائے گا تو عرض کرے گا اے اللہ! کیا یہ اور وہ میرے لیے ہے؟ اللہ فرمائے گا اس کے مثل اور اس سے دو گنا بھی تیرے لیے ہے، وہ عرض کرے گا میرا رب مجھ سے راضی ہوگیا، اگر مجھے دنیا والوں کے لباس اور ان کی خوراک کی اجازت دی جائے تو میں اس پر قادر ہوسکتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36720]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36720، ترقيم محمد عوامة 35146)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 36720 in Urdu