مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
48. كلام إبراهيم التيمي
ابراہیم تیمی کا کلام
ترقیم عوامۃ: 36119 ترقیم الشثری: -- 37703
٣٧٧٠٣ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن حصين عن إبراهيم التيمي قال: كان (من كلامه ان يقول) (١) : اي حسرة اكبر على امرئ من ان يرى عبدا كان الله خوله في الدنيا، وهو عند الله افضل منزلة منه يوم القيامة، واي حسرة على امرئ اكبر من ان يؤتيه الله مالا في الدنيا، فيرثه غيره فيعمل فيه بطاعة الله، فيكون وزره عليه واجره لغيره، واي حسرة على امرئ اكبر من ان (يرى) (٢) عبدا كان مكفوف البصر في الدنيا قد فتح الله (له) (٣) عن بصره وقد عمي هو، ثم (يقول) (٤) : إن من كان قبلكم وكانوا يفرون من الدنيا وهي مقبلة عليهم، ولهم من القدم ما (لهم) (٥) ، وإنكم تتبعونها، وهي مدبرة عنكم، ولكم من (الاحداث) (٦) ما لكم، فقيسوا امركم وامر القوم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: تقديم وتأخير.
(٢) في [ب]: (ترى).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [ع]: (تقول).
(٥) في [أ، ب]: (لكم).
(٦) في [جـ]: (العذاب).
حضرت حصین، حضرت ابراہیم تیمی کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ان کے کلام میں سے یہ بات تھی: آدمی کو اس سے بڑی حسرت کیا ہوگی کہ وہ اپنے غلام کو جس کو اللہ نے دنیا میں اس کا غلام بنایا تھا اور وہ غلام اللہ کے ہاں بروز قیامت افضل درجہ پر ہو؟ آدمی کو اس سے بڑی حسرت کس بات پر ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا میں مال دیا تھا۔ وہ کسی اور کو اس مال کا وارث بنا دے پھر وہ وارث اس مال میں اللہ کی اطاعت کرے۔ پس مال کا گناہ مالک پر اور اس کا ثواب دوسرے کے لیے ہو؟ اور اس سے بڑی حسرت آدمی کو کیا ہوگی کہ وہ کسی بندے کو دیکھے جو دنیا میں نابینا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر کھول دی ہے اور یہ نابینا ہوگیا ہے؟ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ دنیا سے بھاگتے تھے جبکہ دنیا ان کی طرف متوجہ ہوتی تھی۔ اور ان لوگوں کو جو مقام ملتا تھا وہ ملتا تھا۔ لیکن تم لوگ دنیا کی پیروی کرتے ہو اور دنیا نے تم سے منہ پھیرا ہوا ہے اور تمہیں جو عذاب ہونا ہے وہ ہونا ہے۔ پس تم اپنا اور ان لوگوں کا معاملہ قیاس کرلو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37703]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37703، ترقيم محمد عوامة 36119)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 37703 in Urdu