مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
48. كلام إبراهيم التيمي
ابراہیم تیمی کا کلام
ترقیم عوامۃ: 36117 ترقیم الشثری: -- 37701
٣٧٧٠١ - حدثنا محمد بن عبد الله بن الزبير عن سفيان عن (ابي حيان) (١) قال: سمعت إبراهيم التيمي يقول ما عرضت قولي على عملي إلا (خشيت) (٢) ان اكون مكذبا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (أبو حيان).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (لخشيت).
حضرت ابوحیان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم کو کہتے سنا میں نے جب بھی اپنے قول کو اپنے عمل پر پیش کیا تو مجھے یہ ڈر ہوا کہ میں جھوٹا نہ بنوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37701]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37701، ترقيم محمد عوامة 36117)
ترقیم عوامۃ: 36118 ترقیم الشثری: -- 37702
٣٧٧٠٢ - حدثنا ابو (الاحوص) (١) عن سالم بن ابي حفصة قال: سمعت إبراهيم التيمي يقول: (اللهم) (٢) إنا ضعفاء، من ضعف خلقتنا وإلى ضعف ما نصير، فما شئت (لا) (٣) ما شئنا، (فشء لنا) (٤) ان نستقيم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (الأخوص).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [أ، ب]: (إلا).
(٤) أي: اختر لنا، وفي [ط، هـ]: (فسألنا).
حضرت سالم بن ابی حفصہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم تیمی کو کہتے سنا: اے اللہ! ہم کمزور ہیں۔ اس کمزوری کی وجہ سے جس پر تو نے ہمیں پیدا کیا اور اس کمزوری کی وجہ سے جس کی طرف ہم نے رجوع کرنا ہے جو تو چاہے (وہی ہوتا ہے) نہ کہ جو ہم چاہیں۔ پس تو ہمارے لیے یہ بات چاہ لے کہ ہم استقامت کے ساتھ رہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37702]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37702، ترقيم محمد عوامة 36118)
ترقیم عوامۃ: 36119 ترقیم الشثری: -- 37703
٣٧٧٠٣ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن حصين عن إبراهيم التيمي قال: كان (من كلامه ان يقول) (١) : اي حسرة اكبر على امرئ من ان يرى عبدا كان الله خوله في الدنيا، وهو عند الله افضل منزلة منه يوم القيامة، واي حسرة على امرئ اكبر من ان يؤتيه الله مالا في الدنيا، فيرثه غيره فيعمل فيه بطاعة الله، فيكون وزره عليه واجره لغيره، واي حسرة على امرئ اكبر من ان (يرى) (٢) عبدا كان مكفوف البصر في الدنيا قد فتح الله (له) (٣) عن بصره وقد عمي هو، ثم (يقول) (٤) : إن من كان قبلكم وكانوا يفرون من الدنيا وهي مقبلة عليهم، ولهم من القدم ما (لهم) (٥) ، وإنكم تتبعونها، وهي مدبرة عنكم، ولكم من (الاحداث) (٦) ما لكم، فقيسوا امركم وامر القوم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: تقديم وتأخير.
(٢) في [ب]: (ترى).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [ع]: (تقول).
(٥) في [أ، ب]: (لكم).
(٦) في [جـ]: (العذاب).
حضرت حصین، حضرت ابراہیم تیمی کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ان کے کلام میں سے یہ بات تھی: آدمی کو اس سے بڑی حسرت کیا ہوگی کہ وہ اپنے غلام کو جس کو اللہ نے دنیا میں اس کا غلام بنایا تھا اور وہ غلام اللہ کے ہاں بروز قیامت افضل درجہ پر ہو؟ آدمی کو اس سے بڑی حسرت کس بات پر ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا میں مال دیا تھا۔ وہ کسی اور کو اس مال کا وارث بنا دے پھر وہ وارث اس مال میں اللہ کی اطاعت کرے۔ پس مال کا گناہ مالک پر اور اس کا ثواب دوسرے کے لیے ہو؟ اور اس سے بڑی حسرت آدمی کو کیا ہوگی کہ وہ کسی بندے کو دیکھے جو دنیا میں نابینا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر کھول دی ہے اور یہ نابینا ہوگیا ہے؟ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ دنیا سے بھاگتے تھے جبکہ دنیا ان کی طرف متوجہ ہوتی تھی۔ اور ان لوگوں کو جو مقام ملتا تھا وہ ملتا تھا۔ لیکن تم لوگ دنیا کی پیروی کرتے ہو اور دنیا نے تم سے منہ پھیرا ہوا ہے اور تمہیں جو عذاب ہونا ہے وہ ہونا ہے۔ پس تم اپنا اور ان لوگوں کا معاملہ قیاس کرلو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37703]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37703، ترقيم محمد عوامة 36119)
ترقیم عوامۃ: 36120 ترقیم الشثری: -- 37704
٣٧٧٠٤ - حدثنا يزيد بن هارون عن العوام بن حوشب عن إبراهيم التيمي: ⦗٤٧١⦘ ﴿وياتيه الموت من كل مكان (١) ﴾ [إبراهيم: ١٧] ، قال: حتى من اطراف شعره.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زيادة ﴿وَمَا هُوَ بِمَيِّتٍ﴾.
حضرت ابراہیم تیمی سے قرآن مجید کی آیت { وَیَأْتِیہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَان } کے بارے میں منقول ہے کہ یہاں تک کہ بالوں کے کناروں سے بھی موت آئے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37704]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37704، ترقيم محمد عوامة 36120)
ترقیم عوامۃ: 36121 ترقیم الشثری: -- 37705
٣٧٧٠٥ - حدثنا محمد بن يزيد (عن العوام) (١) عن إبراهيم التيمي: ﴿إنا هدنا إليك﴾ [الاعراف: ١٥٦] ، قال: تبنا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
حضرت ابراہیم تیمی سے {إنَّا ہُدْنَا إلَیْک } کے بارے میں روایت ہے: تُبْنَا یعنی ہم نے رجوع کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37705]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37705، ترقيم محمد عوامة 36121)
ترقیم عوامۃ: 36122 ترقیم الشثری: -- 37706
٣٧٧٠٦ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم التيمي عن ابيه قال: كان يرتدي بالرداء يبلغ إليتيه من خلفه، وثدييه من بين يديه، قال: قلت: يا ابت لو انك اتخذت رداء اوسع من رداءك هذا، قال: (يا بني) (١) (لا تقل) (٢) هذا فوالله ما على الارض لقمة لقمتها طيبة إلا لوددت لو كانت (في) (٣) في (ابغض) (٤) الناس إلي.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [جـ]: (لم تقل).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [ب]: (بغض).
حضرت ابراہیم تیمی، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ وہ ایسی چادر اوڑھتے تھے جو پیچھے سے سرین تک اور آگے سے پستان تک پہنچتی تھی۔ ابراہیم کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اے ابا جان! اگر آپ اپنی اس چادر سے بڑی چادرلے لیں! انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے! یہ بات نہ کہہ۔ خدا کی قسم! زمین پر جو طیب لقمہ بھی میں کھاتا ہوں تو میرا دل چاہتا ہے کہ وہ بھی میرے مبغوض ترین انسان کے منہ میں چلا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37706]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37706، ترقيم محمد عوامة 36122)
ترقیم عوامۃ: 36123 ترقیم الشثری: -- 37707
٣٧٧٠٧ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم التيمي عن ابيه قال: خرج إلى البصرة فاشترى رقيقا باربعة الآف، قال: فبنوا له داره ثم باعهم بربح (١) اربعة آلاف، قال: فقلت له: يا ابت لو انك عمدت إلى البصرة فاشتريت مثل هؤلاء فربحت فيهم، فقال: (لا) (٢) تقل (لي) (٣) هذا، فوالله ما فرحت بها حين اصبتها، ولا حدثت نفسي بان ارجع فاصيب مثلها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (له).
(٢) في [جـ]: (لم).
(٣) سقط من: [ع]، وفي [س]: زيادة (مثل).
حضرت ابراہیم تیمی، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ والد صاحب بصرہ گئے اور انہوں نے چار ہزار میں غلام خریدا۔ پھر اسے چار ہزار کے نفع کے ساتھ بیچ دیا۔ میں نے ان سے کہا ابا جان! اگر آپ بصرہ جائیں اور غلاموں کی خریدو فروخت کریں تو خوب نفع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ایسی بات نہ کہو۔ واللہ مجھے یہ نفع حاصل کر کے خوشی نہیں ہوئی اور نہ ہی میرے دل میں اس طرح کا اور نفع حاصل کرنے کی امنگ پیدا ہوئی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37707]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37707، ترقيم محمد عوامة 36123)
ترقیم عوامۃ: 36124 ترقیم الشثری: -- 37708
٣٧٧٠٨ - حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن ليث عن مجاهد عن يزيد بن شجرة قال: ما من ميت يموت حتى يمثل له جلساؤه عند موته، إن كانوا اهل لهو فاهل لهو، وإن كانوا اهل ذكر فاهل ذكر.
حضرت یزید بن شجرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جو میت بھی مرتا ہے تو اس کے ہم مجلس اس کے سامنے متمثل ہوجاتے ہیں۔ اگر وہ اہل لہو ہوں تو اہل لہو۔ اور اگر اہل ذکر سے ہوں تو اہل ذکر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37708]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37708، ترقيم محمد عوامة 36124)
ترقیم عوامۃ: 36125 ترقیم الشثری: -- 37709
٣٧٧٠٩ - حدثنا (المحاربي) (١) عن ليث (عن مجاهد) (٢) عن (ابن) (٣) شجرة قال: يقول القبر للرجل (الكافر او الفاجر) (٤) : اما ذكرت ظلمتي؟ اما ذكرت وحشتي؟ اما ذكرت ضيقي؟ اما ذكرت غمي.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ص، ز، ع]، وأثبت في [هـ] وهو الموافق للأثر قبله، والموافق لما في كتاب الزهد لهناد (٣٤٣).
(٣) في [جـ]: (أبي).
(٤) في [أ، ب]: تقديم وتأخير.
حضرت ابن شجرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قبر کافر آدمی سے یا فاجر آدمی سے کہتی ہے کیا تمہیں میری ظلمت یاد نہیں ہے؟ کیا تمہیں میری وحشت یاد نہیں ہے؟ کیا تمہیں میری تنگی یاد نہیں ہے؟ کیا تمہیں میرا غم یاد نہیں؟“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37709]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37709، ترقيم محمد عوامة 36125)
ترقیم عوامۃ: 36126 ترقیم الشثری: -- 37710
٣٧٧١٠ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن مجاهد عن يزيد بن شجرة قال: كان يقص وكان يصدق (فعله قوله) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: تقديم وتأخير.
حضرت یزید بن شجرہ کے بارے میں روایت ہے وہ قصہ بیان کرتے تھے اور ان کا فعل ان کے قول کی تصدیق کرتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37710]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37710، ترقيم محمد عوامة 36126)