مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
59. حديث طلق بن حبيب
حضرت طلق بن حبیب کا کلام
ترقیم عوامۃ: 36313 ترقیم الشثری: -- 37898
٣٧٨٩٨ - حدثنا ابو اسامة عن عوف عن خالد الربعي قال: كان في بني إسرائيل رجل، وكان (مغمورا) (١) في العلم، وإنه ابتدع بدعة، فدعا الناس (فاتبع) (٢) ، وانه تذكر ذات ليلة فقال: هب هؤلاء الناس لا يعلمون ما ابتدعت، اليس (الله قد علم) (٣) ما ابتدعت؟ قال: فبلغ من توبته (ان) (٤) (خرق) (٥) ترقوته، وجعل فيها سلسلة، وربطها بسارية من سواري المسجد، قال: لا انزعها حتى (يتاب) (٦) علي، قال: فاوحى الله إلى نبي من انبياء بني إسرائيل، وكان لا يستنكر بالوحي: ان قل لفلان: لو ان ذنبك كان (فيما) (٧) بيني وبينك لغفرت لك، ولكن كيف بمن اضللت من عبادي فدخلوا النار.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ش]: (مغموزًا).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [جـ، س، ع]: (قد علم اللَّه).
(٤) في [ع]: (أنه).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (حرق)، وانظر: الزهد لأحمد (ص ٩٨)، والفقيه والمتفقه للخطيب ٢/ ٣٢٩.
(٦) في [س]: (ثياب).
(٧) سقط من: [جـ].
حضرت خالد ربعی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا اور علم سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس نے ایک بدعت ایجاد کی۔ پھر اس نے لوگوں کو دعوت دی اور اس کی اتباع ہونے لگی۔ ایک رات اس کو یہ خیال آیا اس نے کہا۔ ان لوگوں کو تو چھوڑو۔ انہیں تو میری ایجاد کا علم نہیں ہے۔ لیکن کیا اللہ تعالیٰ کو میری اس پیدا کردہ بدعت کا علم نہیں ہے؟ کہتے ہیں وہ اپنی توبہ میں یہاں تک پہنچ گیا کہ اس نے اپنی ہنسلی کی ہڈی کو جلا لیا اور اس میں ایک رسی ڈال کر مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے باندھ دیا اور کہا۔ میں اس کو تب تک نہیں کھولوں گا جب تک کہ میری توبہ قبول نہ ہوجائے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک نبی کو وحی کی کہ آپ فلاں سے کہہ دو۔ اگر تیرا گناہ میرے، تیرے درمیان ہوتا تو میں تجھے معاف کردیتا لیکن میرے جن بندوں کو تو نے گمراہ کیا ہے ان کا کیا ہوگا؟ چناچہ وہ جہنم میں داخل ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37898]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37898، ترقيم محمد عوامة 36313)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 37898 in Urdu